دبئی ٹیسٹ پاکستان کی فتح پر اختتام پذیر ہوا۔ یہ ایک ریکارڈ شکن سیریز تھی جس میں پاکستان کے بلے بازوں نے کئی ایک عالمی ریکارڈ اپنے نام کیے کچھ ملکی ریکارڈ بھی قائم کیے، نتائج کے اعتبار سے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز اتنی حوصلہ افزا ہے کہ ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں نظر آ رہی ہیں۔ قومی کرکٹ ٹیم نے ٹیسٹ میچوں میں تمام اندازوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے کینگروز کو ایسی شکست دی جسے وہ مدتوں یاد رکھیں گے۔ مائیکل کلارک اینڈ کمپنی کیلئے دو ٹیسٹ میچ ڈراﺅنے خواب سے کم نہ تھے۔ مہمان ٹیم کھیل کے تینوں شعبوں میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ آسٹریلوی باﺅلرز پاکستانی بلے بازوں کے رحم وکرم پر تھے تو مہمان ٹیم کے بیٹسمین ہمارے گیند بازوں کے سامنے بے بس دکھائی دیئے مجموعی طور پر یہ سیریز پاکستان شو تھی۔ مصباح اینڈ کمپنی کے گیند باز اور بلے باز چھائے رہے۔ یاسر شاہ اور ذوالفقار بابر کی گھومتی گیندوں کا چرچا رہا تو یونس خان، مصباح الحق اور اظہر علی کی شاندار بلے بازی کی بھی سب نے تعریف کی۔ یہ کہا جائے کہ انہوں نے سب کو تعریف پر مجبور کر دیا تو یہ غلط نہ ہو گا۔ یہ ایک ایسی ٹیسٹ سیریز تھی کہ کسی کو بھی ایسے نتائج کی توقع نہ تھی وہ بھی ون ڈے سیریز ہارنے کے بعد عام خیال یہی تھا کہ قومی ٹیم ٹیسٹ میچوں میں بھی مایوس کرے گی لیکن غیرمتوقع کارکردگی دکھانے کے معاملے میں عالمی شہرت یافتہ پاکستانی ٹیم نے ماہرین، شائقین اور ناقدین کو اپنی کارکردگی سے حیران کر دیا۔ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کامیابی نے دو سینئر کھلاڑیوں یونس خان، مصباح الحق اور دو نئے کھلاڑیوں ذوالفقار بابر اور یاسر شاہ نے اہم کردار ادا کیا۔ وائی۔ زیڈ کی جوڑی پر اس لیے دباﺅ تھا کہ انہیں ٹیسٹ کرکٹ میں موقع ملا ہے تو کیا وہ پرفارم کر سکیں گے یا نہیں۔ دوسری طرف مصباح الحق اور یونس خان بھی اندرونی وبیرونی طاقتوں کے دباﺅ کا شکار تھے۔ چاروں کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور طریقے سے مظاہرہ کیا اور اپنی اہمیت وحیثیت کو منوانے میں کامیاب رہے۔ اس کامیابی سے ہمیں بہت فائدہ ہوا ہے۔ کھلاڑیوں کا اعتماد بلند ہو گا، ڈریسنگ روم کا ماحول بہتر ہو گا حجم کے اندر گرد بنگ میں کمی ہو گی۔ یہ فتح کھلاڑیوں میں جاری کپتانی کی سرد جنگ کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔ کھلاڑیوں کی سوچ مثبت ہو گی، سلیکشن کمیٹی کو بھی اپنے فیصلوں کے حوالے سے مثبت انداز میں نظرثانی کا موقع ملے گا جیتنے کی لگن میں اضافہ ہو گا اور عالمی کپ کی تیاریوں میں ٹیم کے کھلاڑیوں میں جو ش وجذبہ بڑھے گا۔ یہ تمام مثبت پہلو ہیں ہمیں ایسے ہی مثبت خیالات کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا اس کے منفی پہلو بھی ہیں اور اس کے نتائج تباہ کن ہیں۔ قومی کرکٹ ٹیم نے شاندار کامیابی حاصل کر کے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے تمام اندازوں کو غلط ثابت کیا ہے زیرو ہیرو بن گئے ہیں۔ سوشل میڈیا ہی مصباح کے حمایتی خوش اور سرگرم ہیں۔ وہ شاہد آفریدی کو خاموش اور اعلانیہ تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ دلچسپ جملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ قوم متحد ہو کر اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کر رہی ہے۔ کل کے زیرو آج کے ہیرو ہیں۔ یہی کرکٹ ہے، غیر متوقع نتائج، حیران کن کارکردگی، اتار چڑھاﺅ جشن فتح کی تیاریاں کرنے والے اختتام پر آنکھوں میں آنسو لیے ہوتے ہیں تو بظاہر ناکام نظر آنے والے فتح کی خوشیاں منانے گراﺅنڈ سے نکلتے ہیں اس کا نام کرکٹ ہے اور پاکستان کرکٹ ٹیم نے ثابت کیا ہے کہ کرکٹ اتفاقات کا کھیل ہے اور اس میں کوئی بھی چیز حرف آخر نہیں ویل ڈن ٹیم پاکستان، کامیابیوں اور مثبت کرکٹ کا سلسلہ جاری رکھو۔