دبئی ٹیسٹ کے تیسرے روز نیوزی لینڈ کی ٹیم 262 رنز پر آٹ ہو گئی اور میں پھر لکھتا ہوں پاکستان کو فالوآن کروانا چاہئے تھا کیونکہ کسی ٹیم کو فالوآن کروانا کرکٹ کی تاریخ میں بہت بڑی بات سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان نے یہی حرکت آسٹریلیا کیخلاف کی، اسے فالوآن نہ کروا کر خود بیٹنگ کرتے سنچریوں پر سنچریاں ہی بنیں اور اس میچ میں بھی یہی کچھ ہوتا نظر آ رہا ہے مگر آسٹریلیا کے میچ کے مقابل پر وکٹ تھوڑی بہتر نظر آ رہی ہے، پاکستان کو لنچ اور چائے کے وقفہ کے دوران ساڑھے چار سو کا ٹارگٹ بنا کر ڈیکلیئر کر دینا چاہئے کیونکہ فالوآن مخالف کو نہ کروانا غلط فیصلہ ہے۔ اگر یہ ٹیسٹ ڈرا ہو گیا تو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔ ان وکٹوں پر تو یہ حرکت فالوآن نہ کروانے والی چل جاتی ہے کیونکہ ٹاس جیت کر پہلے وکٹ بیٹنگ کیلئے سازگار کھیلتی ہے اور پھر سپنر اپنا کام کر دکھاتے ہیں مگر دوسرے ملکوں میں ایسا ممکن ہو سکتا ہے، پاکستان یہ ٹیسٹ بھی جیتنے کے قریب ہے کیونکہ نیوزی لینڈ اس اکھاڑے پر زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتا۔ راحت نے بہت عمدہ بالنگ کا مظاہرہ کیا اور ذوالفقار بابر کے کیا ہی کہنے اس نے سعید اجمل کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ میرے نزدیک دبئی جیسی سپن وکٹوں کی بجائے ذرا تیز وکٹ بنانی چاہئے تھی کیونکہ 3 ماہ بعد ورلڈکپ آسٹریلیا میں دنیا کی تیز ترین وکٹوں پر کھیلا جانا ہے۔ تیز وکٹوں سے بیٹنگ او ربالنگ کی اچھی پریکٹس مل سکتی تھی۔