پاکستان کرکٹ ٹیم کو نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں کامیابی کیلئے صرف دو وکٹوں کی ضرورت ہے یعنی صرف دو گیندیں جن پر وکٹیں گریں گی اور مصباح اینڈ کمپنی کے نام کے ساتھ ایک فتح درج ہو جائے گی۔ یہ کامیابی مصباح الحق کو پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا کامیاب کپتان بھی بنا دے گی۔ چوتھے روز بھی قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی کھیل پر چھائے رہے، حاوی رہے اور مہمان ٹیم کے بلے باز اور باؤلرز میزبان ٹیم کے کھلاڑیوں کے سامنے بے بس دکھائی دئیے۔ آل راؤنڈر محمد حفیظ نے دباؤ میں عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے انفرادی ریکارڈ کو بہتر بنایا اور تھری فیگر اننگز کھیل کر پہلی اننگز کے نامکمل کام کو مکمل کیا۔ خراب بیٹنگ فارم کی وجہ سے وہ دباؤ میں بھی تھے اور انہیں تنقید کا سامنا بھی تھا حتیٰ کہ ان کی ٹیسٹ ٹیم میں شمولیت پر بھی سوال اُٹھ رہے تھے۔ ان حالات میں نیوزی لینڈ کیخلاف ٹیسٹ میچ نے محمد حفیظ کے ٹیسٹ کیرئیر کو ایک نئی زندگی دی ہے۔ بعد میں باؤلرز نے بھی اپنا کردار خوب نبھایا۔ سپنرز تو آؤٹ کر رہے تھے تیز گیندباز بھی وکٹیں حاصل کر رہے ہیں۔ راحت علی کی طرف سے ریورس سوئنگ حوصلہ افزا ہے۔ پہلی اننگز میں بھی انہوں نے ریورس سوئنگ سے مہمان ٹیم کے بلے بازوں کو پریشان کیا تھا۔ دوسری اننگز میں بھی وہ ریورس سوئنگ کرنے میں کامیاب رہے۔ یاسر شاہ اور ذوالفقار بابر نے بھی وکٹیں لینے کا سلسلہ جاری رکھا۔ مہمان ٹیم نے بلے باز رنز کے دباؤ سے نکلنے میں ناکام رہے ہیں۔ قسمت بھی پاکستان کا ساتھ دے رہی ہے۔ آؤٹ ہونے والے اکثر بلے باز دباؤ میں کھیلتے دکھائی دئیے۔ نیوزی لینڈ کیلئے شکست سے بچنا مشکل نظر آتا ہے۔ رسمی کارروائی باقی ہے۔