قیناً کسی کی دانائی کا اندازہ اس کی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ سے ہی لگایا جا سکتا ہے اسی لئے تو ضرب المثل بنی ہے کہ پہلے تولو، پھر بولو۔ مگر لگتا ہے کہ وفاقی حکومت کے ترجمان پرویز رشید صاحب خود کو افلاطون سمجھتے ہوئے تول کر بولنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے اور ہر موضوع کو اپنے تئیں حسبِ حال سمجھ کر اس پر تبصرے فرمانا انہوں نے اپنی ازخود ذمہ داریوں کے کھاتے میں شمار کر رکھا ہے۔ ٹی وی اینکر نے یقیناً اپنے ٹاک شو کا موضوع اپنے ادارے کی پالیسی اور اپنی سوچ کے مطابق چُنا ہو گا جس پر ہمارے دوست وزیر اطلاعات پرویز رشید کو اظہار خیال کی دعوت ملی تو یا تو وہ اس موضوع پر جید علماء کرام اور دینی سکالرز سے رائے لے کر اور معلومات حاصل کر کے اس پروگرام میں شریک ہوتے یا اس نازک موضوع پر گفتگو سے پرہیز فرماتے مگر انہوں نے خود کو عالم دین بھی سمجھ لیا اور سزائے موت کو معطل کرنے کے حکومتی فیصلہ کے حق میں دلائل دئیے مجھے متذکرہ ٹاک شو میں پرویز رشید صاحب کی گفتگو سُن کر مایوسی بھی ہوئی اور غصہ بھی آیا اور پھر گذشتہ روز وقت نیوز چینل کے لائیو ٹاک شو نیوز لائونج میں ایک محترم کالر نے پرویز رشید صاحب کی اسی گفتگو کے حوالے سے مجھ سے استفسار کیا تو میں نے ضروری سمجھا کہ اس پروگرام کے علاوہ مجھے اپنے کالم میں بھی پرویز رشید صاحب کی گفتگو کو شیئر کرنا چاہئے۔
حکمران طبقات کو تو اس حقیقت کا بطور خاص ادراک ہونا چاہئے کہ حکمِ ربّ کائنات کے تحت جو سزائیں قرآن مجید میں متعین ہیں ان میں ترمیم، تحریف، تبدیلی کرنے کے اقدامات اٹھانا تو کیا، اس بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا اور ان سزائوں کے پیچھے جو حکمت موجود ہے وہی ان سزائوں کو لاگو کرنے کی متقاضی ہوتی ہے۔ حدود کی ذیل میں آنے والی سزائیں مسلمانوں کی کتابِ ہدایت قرآن مجید سے اخذ کی گئی ہیں جو خود ذاتِ باری تعالیٰ نے متعین فرمائی ہیں اس لئے ان سزائوں کو ختم یا معطل کرنا یا سزا کی نوعیت تبدیل کرنا ممکن نہیں جبکہ تعزیری سزائوں میں ہر دور کے تقاضوں کی مناسبت سے رد و بدل کیا جا سکتا ہے۔ جن قبیح جرائم کی سزا خود ذاتِ باری تعالیٰ نے موت مقرر فرمائی ہوئی ہے اسے پرویز رشید صاحب کی عاقبت نااندیشی کے تحت اس لئے معطل یا ختم کر دیا جائے کہ اس سزا پر عملدرآمد سے مغربی دنیا اور یورپی یونین والے ناراض ہو رہے ہیں اور اس کی پاداش میں ہماری تجارت اور امداد بند کر سکتے ہیں جبکہ یہ سزائیں معطل یا ختم کر دینے سے مغربی دنیا اور یورپی یونین ہمیں من و سلویٰ سے مالا مال کر دے گی تو ایسی سوچ بلامبالغہ احکام خداوندی کے منافی ہے مگر پرویز رشید صاحب بلا سوچے سمجھے سزائے موت کو معطل کرنے کے حکومتی فیصلہ کی انہی دلائل کی بنیاد پر وکالت کرتے رہے اور گفتگو کا آغاز انہوں نے خلافتِ راشدہ کے دور میں حضرت عمر فاروقؓ کی جانب سے چور کی ہاتھ کاٹنے کی سزا معطل کرنے کے فیصلہ کو بنیاد بنا کر کیا اور یہ بودی دلیل داغ دی کہ اس فلسفہ کے تحت موت کی سزا بھی معطل کی جا سکتی ہے، حضرت عمر فاروقؓ نے چور کی سزا اس کے بھوکے ہونے کے سبب بھوک مٹانے کی خاطر چوری کا جرم اس کا استحقاق سمجھ کر ساقط فرمائی تھی اور ساتھ ہی یہ وضاحت بھی فرما دی تھی کہ اگر میری خلافت کے دور میں کوئی باشندہ بھوکا سویا ہے اور اپنی زندگی کی بقا کی خاطر اس نے بھوک مٹانے کے لئے چوری کی ہے تو میں اس کا روٹی کا حق پورا نہ کرنے والا امیر المومنین اسے اس جرم کی سزا دینے والا کون ہوتا ہوں۔ یہ واقعہ تو ایک قسم کی نصیحت اور عبرت کی مثال تھا حاکمانِ وقت کے لئے کہ انہوں نے ریاست کے ہر شہری کے تمام متعینہ حقوق پورے کرنے ہیں اور حضور! کیا اس ایک واقعہ کے بعد چوری کے جرم کی قطعٔ ید کی سزا ختم ہو گئی تھی یا عمومی پالسیی کے تحت ہر مجرم کے لئے معطل کر دی گئی تھی؟ پھر آپ اس کی بنیاد پر یہ استدلال کہاں سے ڈھونڈ لائے کہ کسی بے گناہ انسان کے قتل کے قبیح جرم کی موت کی سزا کو عمومی پالیسی کے تحت معطل کر کے تمام مجرموں کو اس کی سہولت دے دی جائے جبکہ قتل کے مجرم کو موت کی سزا کی یہ حکمت خود ذاتِ باری تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے بیان فرما دی ہوئی ہے کہ ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، یقیناً اس سزا کا مقصد ایسے قبیح جرائم کی روک تھام کر کے معاشرے کو بے راہروی سے بچانے کا ہے جبکہ آپ اس سزا کو معطل رکھنے کا جواز ایک کافر معاشرے کی اس سزا کے ساتھ ناراضگی کا نکال رہے ہیں اور ساتھ ہی اس قومی بے حمیتی کا بھی اشارہ دے رہے ہیں کہ یہ سزا معطل رکھ کر ہم اس کے من و سلویٰ کے ٹکڑوں پر خود کو پال سکتے ہپں۔ پہلے تو حضرت یہ بتائیے کہ گذشتہ چھ سال سے سزائے موت کی معطلی کے دوران ہم پر اب تک یورپی یونین کی جانب سے کون سا من و سلویٰ اترا ہے اور کہیں اترا ہے تو یہ مقتولین کے خاندانوں کو بہم پہنچایا گیا ہے یا اس کی اقتدار کی رہداریوں میں بندر بانٹ ہو گئی ہے؟ اگر دیت کی ادائیگی کی بنیاد پر ایک حکمت کے تحت ذاتِ باری تعالیٰ نے کسی مقتول کے ورثاء کو قاتل کو معاف کرنے کا حق دیا ہے تو حکومت اس کا یہ حق استعمال کرنے والی کون ہوتی ہے۔ کیا موت کی سزائیں معطل کرتے وقت کسی ایک بھی مقتول کے ورثاء سے پوچھا گیا ہے کہ اس کے عوض وہ قاتل سے دیت لینے پر رضامند ہیں؟ جبکہ کسی قاتل کی جانب سے دیت کی ادائیگی کے بغیر ہی اس کی سزا پر عملدرآمد نہ کرنا معاشرے میں انسانیت کے قتل کو فروغ دینے کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔ پرویز رشید صاحب کو متذکرہ ٹاک شو میں بھی ان کی منطق کا دینی سکالرز کی جانب سے مسکت جواب ملتا رہا جس پر انہوں نے یہ جواز پیش کر کے اپنے فہم و ادراک کا بھانڈہ مزید پھوڑا کہ اسی لئے تو حکومت نے سزائے موت یکسر ختم نہیں کی بلکہ معطل کی ہے ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہئے : اگر کسی قاتل کی سزائے موت گذشتہ چھ سال سے معطل ہے تو قاتل کو دی گئی اس سہولت سے مقتول کے ورثاء کو مزید اذیت پہنچائی گئی ہے جبکہ اس فیصلہ سے بحیثیت مجموعی معاشرے میں خوشحالی آتی بھی نظر نہیں آئی، تو پھر آپ ایک غلط حکومتی فیصلہ کی غلط وکالت کر کے اپنی حکمرانی کو قہرِ الٰہی کا مستحق قرار دلانے پر کیوں تُلے بیٹھے ہیں، خود اسی معاشرے میں قتل اور دوسرے جرائم پر موت کی سزائیں دی جا رہی ہیں جس کی آپ کو پروگرام کے اینکر حامد میر نے مثالیں بھی پیش کر دی ہیں تو حضور آپ اس معاشرے کی خوشنودی کی خاطر اپنی جھولی میں انگارے بھروانے پر کیوں تُلے بیٹھے ہیں۔ آپ تولے بغیر بولنے کے شوق میں پڑ کر اپنے اور اپنی حکومت کے لئے کوئی نئی مصیبت نہ کھڑی کر دیجئے۔ ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔