وزیر اعظم کی عزت رہ گئی۔ کانفرنس کے آخری لمحات میں مودی نے نظر کرم کی اور وہ مصافحہ ہو گیا جس کی آس لے کر جہاز اسلام آباد سے کٹھمنڈو کی طرف روانہ ہوا تھا۔ اصل میں تو یہ شارک کانفرنس تھی، بنگلہ دیش اور پاکستان میں دو فوجی حکمرانوں نے اس کی داغ بیل میں گہری دلچسپی لی، ایک تھے جنرل ضیاء اور دوسرے بھی تھے جنرل ضیائ۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ کسی طرح خطے کے بڑے ملک کو نکیل ڈالی جائے، اس کے لئے چھوٹے ممالک نے اتحاد کیا اور اپنے تیز دانت (جو کہ تھے نہیں) بھارت کے گلے میں گاڑنے کی کوشش کی۔ بھارت کا گِلا تھا ہی نہیں، وہ تو ایک بلا تھا، چھوٹے چھوٹے پڑوسیوں کے کیونکر قابو میں آتا، وقت کے ساتھ اس بلا نے اردگرد کے خطے پر حاوی ہونا شروع کر دیا اور سارک کانفرنس مستقل طور پر ناکام ہو گئی، اب یہ نشستند و گفتند و برخواستند کے کام آتی ہے، رسمی اجلاس، گرم جوشی سے عاری، ایک انچ بھی آگے پیش رفت نہ ہو سکی، ڈھاکہ میں اس کی بنیاد رکھی گئی تو ایک واقعہ قابل ذکر ہے ا ور تاریخ کا روشن اور منور باب۔ جنرل ضیا نے اپنے وفد سے کہا کہ واپسی پر نئی دلی ہو کر جانا ہے، محترم مجید نظامی نے فرمایا، آپ شوق پورا کریں، میں جب کبھی دلی گیا تو ٹینک پر بیٹھ کرجائوں گا۔ نظامی صاحب ٹینک پر بیٹھے ضرور اور یہ ایک بھارتی ٹینک تھا، جسے 65ء کی جنگ میں کھیم کرن میں پاک فوج نے قبضے میں لیا تھا۔ یہ ٹینک میرے شہر قصور کے اسٹیل باغ میں نمائش میں رکھا گیا تھا۔ اور یہ واقعہ تو پچھلے برس کا ہے، بھارت سے ایک ویدک صاحب آئے، وہ کالم لکھتے ہیں، نظامی صاحب سے ملنے آئے تو چڑانے کے انداز میں کہنے لگے، سُنا ہے آپ کو ٹینک پر بیٹھ کر دلی جانے کا شوق ہے، اجازت ہو تو واپس جا کر ایک ٹینک بھجوا دوں، نظامی صاحب مسکرا کر کہنے لگے، مہاراج! ذرا دائیں طرف دیوار پر نگاہ ڈالیں، ایک یادگار تصویر آویزاں ہے، آپ مجھے ٹینک پر بیٹھے دیکھ سکتے ہیں اور یہ آپ ہی کے ملک کا ہے مگر جنگی ٹرافی۔ ویدک صاحب کا منہ لٹک گیا۔
میں نے چند روز پہلے لکھا تھا کہ اسی نیپال کی ایک سارک کانفرنس میں ایک مصافحے نے برصغیر کی تاریخ بدل تھی، یہ مصافحہ جنرل مشرف نے واجپائی سے کیا جس پر بھارتی وزیر اعظم کھسیانا سا دکھائی دیتا تھا۔ ایک مصافحہ اب ہُوا ہے، نہ ہونے کے برابر، تاریخ میں اس کا کہیں ذکر نہیں ملے گا۔ خیرات میں ملنے والا مصافحے کی کیا اوقات!
سارک جب بنی تھی تو واقعی جنوبی ایشیا کی ایک تنظیم لگتی تھی، اب اس میں افغانستان بھی در آیا ہے اور امریکہ مبصر کے طور پر بیٹھا ہے، تو اس کا جنوبی ایشیا سے کیا تعلق رہ گیا، صرف نام کا، اور کام تو نام کے بھی نہیں رہے۔ سارک کانفرنس ہماری دو شخصیات کو بے حد راس آئی، ایک افتخار علی ملک جو سارک چیمبر آف کامرس کے اعلی عہدیدار ہیں، ان کا دفتر جس کسی کو چاہے، تاجر یا صنعتکار کے طور پر سارک ویزا جاری کروا سکتا ہے اور یار لوگ ان ویزوں پر کاروبار یا صنعتکاری کے سوا سب کچھ کرتے ہیں۔ سارک سے بھرپور طور پر مستفید ہونے والے دوسرے صاحب ہمارے میڈیا کے دوست امتیاز عالم ہیں، دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے سیفما کا ادارہ کھڑا کر لیا، اس کا سارک کانفرنس کی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں لیکن اس کی ترنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سارک چلے یا نہ چلے، سیفما چلتا رہے گا اور پھلے پھولے گا۔
جنوبی ایشیا کی تنظیم کا خیال تو اچھا تھا، دنیا میں ہر علاقے کی ایک تنظیم ہے اور کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے جا رہے ہیں، جنوبی ایشیا سے نیچے اتریں تو آسیان ہے، ذرا اوپر شنگھائی کانفرنس ہے، کہنے کو ہم نے آر سی ڈی بھی تشکیل دے رکھی ہے، مسلم ممالک نے اسلامی کانفرنس کی تشکیل کی تھی، یہ کہیں سو رہی ہے، امارات اور عرب ممالک کی اپنی تنظیمیں بھی ہیں، پھر یورپی یونین ہے اور کامیاب ترین ادارہ ہے، عالمی سطح پر یو این او ہے، افریقہ میں بھی علاقائی تنظیمیں بہت ہیں مگر یہ خطہ ہماری رسائی سے دور اور عالمی میڈیا کی نظروں سے بالکل اوجھل، صرف ایسی خبریں ملتی ہیں کہ اڑھائی سو بچیاں اغوا کر لی گئیں یا منڈیلا مرا تو یہ خطہ میڈیا میں زیر بحث آیا۔
ہمارے خطے کو کسی کی نظر لگ گئی یا بھارتی انا اس کے رستے میں حائل ہے، بھارت حاوی ہونا چا ہتا ہے، مگر آج کی دنیا میں ۔۔۔ ایں خیال است و محال است و جنوں است۔ اب تو ایک ہی ملک کا ڈنکا بج رہا ہے اور وہ ہے امریکہ، جو فائر پاور سے لیس ہے اور ڈالروں سے لدا پھندا۔ یورپی یونین اس کی کاسہ لیس بننے پر مجبور ہو گئی تو باقی ممالک کس گنتی شمار میں ہوں گے۔
بھارت کی بڑائی کا ہر کسی کو اعتراف ہے مگر اس کی بالادستی کو بھلا کون مانے۔ وہ مہا بھارت بننا چاہتا ہے، اس خواہش کے ساتھ یہ خطہ کبھی امن کا گہوارہ نہیں بن سکتا، یہاں زلزلے کے جھٹکے لگتے رہیں گے، اس کے پڑوس بلکہ بغل میں پاکستان ہے جس نے اس کی کوکھ سے جنم لیا مگر چھوٹا ملک ہونے کے باوجود وہ بھارت کے برابر کی دفاعی طاقت ہے، ایٹمی اسلحے سے لیس، یہ ایٹمی اسلحہ باقی خطے کو تقویت بخشتا ہے۔ بھارت اپنے پڑوسیوں کی خود مختاری اور اقتدار اعلیٰ کا احترام کرنا سیکھ جائے تو سارک کو عالمی سطح پر تیسری بڑی قوت تسلیم کر لیا جائے۔ آبادی، وسائل، اور ذہن رسا۔ اس میدان میں یہ خطہ دنیا کے ہم پلہ ہے مگر باہمی آویزش کی وجہ سے ہمارے وسائل اسلحہ اندوزی پر ضائع ہو رہے ہیں، لوگ بھوک سے بے حال ہیں، جھگیوں اور فٹ پاتھوں پر جنم لیتے ہیں اور وہیں سسک سسک کر مر جاتے ہیں۔ ہماری تقدیر ایسی تو نہ تھی مگر بھارت کی ہوس ملک گیری نے ہمیں کہیں کا نہیں رہنے دیا۔ کشمیر کے لوگ بھارتی جبر کا شکار ہیں، اس سے باقی ملک بھی خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ لاکھ مصافحے کر لیں، بات نہیں بنے گی۔
بہرحال ہمارے وزیراعظم کی خوش بختی ہے کہ انہیں ایک مصافحہ اور چند سیکنڈ کی مسکراہٹ کی دولت مل گئی۔ وہ اس پر ناز ضرور کرتے مگر یہ کیا، آج تو تیس نومبر ہے اور عمران نے وزیر اعظم کے کامیاب دورے میںکھنڈت ڈال دی ہے۔