میرے حلقہ احباب میں کچھ ایسے حضرات بھی شامل ہیں جنہیں خفیہ ایجنسیوں کا قرب ہونے کے ناطے آنے والے سیاسی مد و جزر کا پیشگی علم ہوتا ہے۔ پہلے تو ایسے حضرات کی جانب سے ایجنسیوں کی سیاست کے حوالے سے راز دارانہ انداز میں باتیں کی جاتی تھیں اور یہ بھی کوشش کی جاتی تھی کہ ان کا کہیں بھی نام نہ آنے پائے مگر اب میں نے یہ حیران کن تبدیلی محسوس کی کہ ایجنسیوں سے قرب یا تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات جن میں یقیناً ہماری صحافتی برادری کے لوگ بالخصوص کالم نگار خواتین و حضرات بھی شامل ہیں نہ صرف ایجنسیوں کی منصوبہ بندیوں کا بالاہتمام اعلان کرتے پائے جاتے ہیں بلکہ اس کی وکالت کرتے بھی نظر آتے ہیں اور یہ اہتمام کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے کہ کہیں ان کا نام نہ آنے پائے۔ یہ معاملہ تب سے شروع ہوا جب پہلے طاہر القادری اور پھر عمران خان کے افراتفری پر مبنی سیاسی ایجنڈے کی پرتیں کُھلنا شروع ہوئیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جس سیاسی حکمتِ عملی کے الفاظ میں ایجنسیوں سے قرب رکھنے والے کسی صاحب کی زبان سے سُن کر آتا، اگلے دن وہی الفاظ عمران خان یا طاہر القادری کی زبان سے ادا ہو رہے ہوتے اس لئے میرے پاس تو اس بارے میں کسی شک و شبہ کی قطعاً گنجائش نہیں رہی تھی کہ عمران اور قادری کا دھرنا سیاست اور افراتفری پر مبنی ایجنڈہ ان کا اپنا نہیں بلکہ ان قوتوں کا ہے جن کے کسی سیاسی جمہوری نظام کو چلنے نہ دینے کے اپنے مقاصد ہوتے ہیں، پہلے یہ قوتیں اپنی محفوظ حکمت عملی کے تحت پس منظر میں ہی رہتی تھیں مگر اب کی بار شاید ان کی اپنی حکمت عملی یہی ہے یا اپنے آلہ کاروں کے انتخاب میں ان سے کوئی غلطی ہو گئی ہے کہ ان کی ہر منصوبہ بندی دھرنا سیاست میں براہ راست انہی کے کھاتے میں شامل ہو رہی ہے جس کے باعث اس منصوبہ بندی کے من و عن وہ مقاصد حاصل نہیں ہو پا رہے جن کی خاطر ایسی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ خود عمران خان نے اپنی سیاسی ناپختگی کے باعث یا مقاصد کے حصول کی جلد بازی کے تحت ایسے اعلانات اور اشارے کئے جس سے ان کی سیاست پر ایجنسیوں کی سیاست کی چھاپ لگتی رہی، طاہر القادری تو ان قوتوں کو آگے بڑھ کر اقتدار چھین لینے کی ترغیب بھی دیتے رہے ہیں اس لئے وہ شعروں کے انتخاب کے معاملہ میں بہت ہی پھسّڈی ثابت ہوئے ہیں چنانچہ انہیں اپنی بامقصد سیاست کا بوریا بستر کسی منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی سمٹینا پڑا۔ اب عمران خان کے بارے میں بھی باخبر خواتین و حضرات اس امر کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں کہ انہوں نے بھی اپنے انسٹرکٹرز کو سخت مایوس کیا ہے اس لئے انہوں نے ان کے سر سے ہاتھ بھی اٹھا لیا ہوا ہے چنانچہ ان کا اعلان کردہ 30 نومبر کا دن بھی پہلے کی طرح گزر جائے گا اور ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔
بلاشبہ ایسا ہی ہوا مگر عمران خان نے جس طرح پہلے تھرڈ امپائر کی انگلی اٹھنے کی اصطلاح استعمال کر کے اپنے پیچھے موجود منصوبہ سازوں کو بیچ چوراہے میں لا کھڑا کیا تھا اسی طرح انہوں نے اپنے 30 نومبر کے پروگرام کے حوالے سے پلان سی کی ٹرم استعمال کر کے اپنی سیاست کے منصوبہ سازوں کو سامنے لانے کی رہی سہی کسر بھی نکال دی۔ یہی وہ اصطلاح ہے جس کے ماتحت مخصوص مقاصد کے حصول والی افراتفری کی سیاست کی مرحلہ وار حکمت عملی طے کی جاتی ہے۔ میں نے اپنے احباب کی زبان سے بھی پلان اے، بی، سی، ڈی کی اصطلاحات سُنیں جنہوں نے اس کی تفصیلات بھی بتائیں۔ پھر مخدوم جاوید ہاشمی نے بھی عمران خان سے اپنی سیاسی راہیں الگ کرتے ہوئے ان اصطلاحات کا تذکرہ کیا۔ چنانچہ عمران خان نے پلان سی اور اس کے بعد پلان ڈی کی بات کی ہے تو ان کی سیاست کے منصوبہ سازوں کی رسمِ نقاب کشائی کے اہتمام کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ منصوبہ سازوں کے پلان سی کے تحت پُرتشدد سیاست کا راستہ اختیار کر کے ملک میں سیاسی عدم استحکام کا ماحول بنایا جانا ہے تاکہ اس کو جواز بنا کر منصوبہ سازوں کے لئے اپنے کھڑے کئے مہروں کے ہاتھ عنانِ اقتدار دینے میں کوئی دشواری حائل نہ ہو سکے۔ عمران خان نے 30 نومبر کے جلسہ میں پلان سی کے تحت مختلف تاریخوں کا اعلان کر کے لاہور، فیصل آباد، کراچی اور پھر پورے ملک کو بند کرنے کا اعلان کیا تو یہ ملک کو تشدد، خانہ جنگی اور قتل و غارت گری کی جانب دھکیلنے والی افراتفری کی وہی سیاست ہے جس کے تحت سیاسی نظام کو عدم استحکام اور انتشار سے دوچار کر کے منصوبہ سازوں کی اقتدار کی گیم پلان کو عملی جامہ پہنایا جانا مقصود ہے۔ یقیناً عمران خان نے اپنے پُرتشدد احتجاج کی انہی تاریخوں کا اعلان کیا ہو گا جو منصوبہ سازوں نے انہیں متعین کر کے دی ہوں گی اس لئے انہیں ان تاریخوں کے مضمرات کا بھی ادراک نہ ہو سکا۔ مجھے تھوڑی سی حیرت ہوئی کہ کیا منصوبہ سازوں کو اپنے ممدوح حافظ محمد سعید کے اعلان کردہ لاہور کے 4، 5 دسمبر کے اجتماعات کا بھی علم نہیں ہو سکا کہ انہوں نے لاہور کو بند کرانے کے لئے عمران خان کو 4 دسمبر کی تاریخ دے دی، اس کا فوری ردعمل جماعت الدعوة کی جانب سے عمران خان کو اس تلقین کے ذریعے آ گیا کہ وہ ہمارے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے باعث اپنا 4 دسمبر کا پروگرام آگے بڑھا لیں یعنی اس روز اٹھا لو پاندان اپنا عمران خان کے پاس اس کے سوا اور کیا چارہ کار رہ گیا تھا سوائے اس کے کہ وہ اپنا 4 دسمبر کا پروگرام کسی اور دسمبر پر لے جاتے جس کا انہوں نے آج 15 دسمبر کی تاریخ کی صورت میں اعلان کر دیا ہے۔ یہ ہے ان کے عزم کی پختگی اور پھر یہ بات تو میری سمجھ سے بالکل ہی بالاتر ہے کہ عمران خان کے ہاتھوں پورے ملک کو بند کرانے کے لئے 16 دسمبر کی اس تاریخ کا اعلان کیا گیا جو سقوطِ ڈھاکہ کی قومی ہزیمتوں سے منسوب ہے، یہی عمران خان کی سیاسی ناپختگی کا ثبوت ہے کہ انہیں پاکستان ٹوٹنے والی 16 دسمبر کی بدقسمتی کا بھی علم نہ ہو سکا اور ان کے لئے مزید بدقسمتی یہ ہے کہ 16 دسمبر کی ہزیمت ان کی اپنی کے اپنے قبیلے کے جرنیل امیر عبداللہ خان نیازی کے ماتھے پر کلنک کے ٹیکے کی طرح لگی ہوئی تھی اور اب اسی قبیلے کے عمران خان نیازی کو پاکستان بند کرنے کا اعزاز حاصل ہوتا تو ہماری آنے والی تاریخ انہیں جنرل اے اے کے نیازی سے بھی بُرے الفاظ میں یاد کرتی۔ مولانا فضل الرحمن نے تو اس کا پراپیگنڈہ بھی شروع کر دیا تھا اس لئے 4 دسمبر کی طرح ان کی اعلان کردہ 16 دسمبر کی تاریخ بھی تبدیل کرکے 18 دسمبر تک بڑھا دی گئی ہے۔ اس سے ان کی پاکستان بند کرنے کی سیاست کا کیا ٹمپو برقرار رہے گا اس کا احساس انہیں مستعار لی گئی سیاست پر پچھتاوے کے ہاتھ ملنے کے بعد ہی ہو گا۔ بھئی عوام کو ایسا نیا پاکستان ہرگز نہیں چاہئے جس میں سیاست بھی کسی کی خالص سیاست نہ ہو، ملاوٹی لوگوں کی ملاوٹی سیاست میں نہ ملک کا بھلا ہے نہ عوام کا۔ حضور آپ اٹھائیے پاندان اپنا، اس میں منصوبہ سازوں نے مقاصد کے حصول کی جلد بازی میں چُونا کتّھا کچھ زیادہ ہی ڈال دیا ہے۔