مران خان کے دھرنے اور قتل و غارت کی خبریں اس قدر حاوی ہیں کہ اصل بنیادی مسائل کی طرف کسی کی توجہ ہی نہیں جاتی، منگل کے روز وزیر اعظم نے ایک اعلی سطحی اجلاس میں ہدائت کی ہے کہ وزیری مہاجرین کی واپسی کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جائے، انہوںنے مہاجرین کی قربانیوں کی تحسین و توصیف کی اور اعلان کیا کہ انہیں پہلے سے بہتر رہائش فراہم کی جائے گی۔ اس اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور حکومت کے سینیئر عہدیدار بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے ضرب عضب کی کامیابی پر مسلح افواج کو مبارکبادد ی۔ اور شہیدوں کی بے مثال قربانیوں کو سراہا۔ بلا شبہہ ضرب عضب کی کامیابی پر ایک دنیا انگشت بدنداں ہے۔پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کسی فوج کو قدم رکھنے کی جرات نہیںہو سکی،عمران خان نے ڈرایا تھا کہ فوج نے آپریشن کیا تو فاٹا ملک سے الگ ہو جائے گا، منور حسن اور فضل الرحمن بھی اس آپریشن کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتےرہے،عمومی طور پر تمام سیاسی جماعتوں کا نظریہ تھا کہ آپریشن کے بجائے مذاکرات کے ذریعے امن قائم کیا جائے، اس مقصد کے لئے یکے بعد دیگرے دو امن کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں اور کچھ سلسلہ جنبانی بھی ہوئی مگر انتہا پسندوںنے مذاکرات کو حکومت اور ملک کی کمزوری خیال کرتے ہوئے دہشت گردی کا پھر بازار گرم کر دیا جس پر آپریشن کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہ گیا۔ امریکہ کا بھی ایک عرصے سے دباﺅ تھا کہ پاک فوج شمالی وزیرستان میںکاروائی کر کے حقانی نیٹ ورک کا خاتمہ کرے مگر سابق آرمی چیف جنرل کیانی نے امریکی دباﺅ کو ماننے سے انکار کر دیا اور یہی موقف اختیار کیا کہ پاکستان اپنے وقت پرا ور اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے آ پریشن کرے گا۔اور ایسا ہی ہوا۔ پاک فوج اپنی طاقت کو لوہا بہت پہلے منو اچکی ےھی اورسوات میں چند ماہ کے ا ٓپریشن سے امن بحال کر کے وہاں کے مہاجرین کو گھروںمیں آباد کر دیا گیا تھا،پچھلے چھ برس میں آہستہ آہستہ فوج نے ایک ایک کر کے قبائلی ایجنسیوں کو کلیئر کروانے کا سلسہ جاری رکھا ۔ گزشتہ برس ایک بریفنگ میںآئی ایس پی آر کے سربراہ جنرل عاصم باجوہ نے قوم کو خوش خبری سنائی کہ تمام ایجنسیاں کلیئر کروائی جا چکی ہیں، اب صرف چودہ فی صد رقبے میں اور تین چار محدود سے مقامات پر دہشت گردوں کے گڑھ باقی ہیںا ور حکومت جب اجازت دے گی، فوج چند ماہ کے اندر ان مقامات کو بھی صاف کر سکتی ہے۔ یہ آپریشن ناگزیر تھا،اس سال کے وسط میںحکومت نے بزن کا اشارہ کیا، پہلے ایئر فورس حرکت میں آئی ، میں اپنی ذاتی معلومات کی رو سے کہہ سکتا ہوں کہ فضائیہ کے سربراہ ایئرمارشل طاہر رفیق بٹ نے مثالی جرات کامظاہرہ کیا اور کئی پروازوں میں خود حصہ لے کر اپنے ماتحت اسٹاف کے لئے ایک قائدانہ مثال قائم کی، زمینی آ پریشن کی باری آئی تو ہم نے ایک اور نادر مثال دیکھی، اس وقت کے کور کمانڈر جنرل ربانی کاا پنا نوجوان بیٹا بھی اگلے محاذ پر دلیری کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ جنرل باجوہ نے تسلیم کیا کہ میران شاہ اور دتہ خیل وغیرہ میں پاک فوج کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔یہ کوئی پکی پکائی کھیر نہیں تھی، پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو پہاڑی غاروں، سنگلاخ چٹانوں اور زمین دوز سرنگوں کے اندر گھس کر شر پسندوں کا صفایا کرنا پڑا۔ آرمی چیف کے حالیہ دورہ امریکہ میں ان کے میزبانوں نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کی کھل کر داد دی اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے درخواست کر کے جنرل راحیل سے ملاقات کی۔ اس کے بعد جان کیری لندن میں وزیر اعظم سے بھی ملے۔ظاہر ہے ان ملاقاتوں میںافغانستان سے امریکی انخلا اور اس کے بعد علاقے میں سیکورٹی مات کے علاوہ اور کیا بات ہو سکتی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی کامیابی کے پیش نظر امریکہ یہی درخواست کر سکتا ہے کہ اس کے جانے کے بعد پاک فوج سیکورٹی کی ذمے داری سنبھالے۔ بہر حال ہمیںاپنے مفادات کی فکر کرنی ہے۔ سب سے پہلے شمالی وزیرستان کے مہاجرین کو آبرو مندانہ طور پر انکے گھروں کی واپسی کی راہ ہموار کی جائے۔آرمی چیف نے امریکہ سے واپس آکر پشاور کور کا دورہ کیا اور آپریشن کے جائزے کے بعد ہدائت جاری کی کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مہاجرین واپس گھروں کو جائیں۔وزیر اعظم نے بھی ا س فیصلے کی توثیق کر دی ہے۔ پاکستان اس سے پہلے سوات کے مہاجرین کو چار پانچ ماہ کے اندر اندر واپس آباد کر چکا ہے، اطمینان کی بات یہ ہے کہ آپریشن ضرب عضب پر اب حکومت بھی یک سو ہے اور فوج کے ساتھ ا س کی ذہنی ہم آہنگی پہلے سے بہت بہتر ہے۔اسی وجہ سے پوری قوم بھی اپنی مسلح افواج کی پشت پر کھڑی ہے، وزیری مہاجرین کے دکھ دردبانٹنے میں سول سوسائٹی نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ میں ان کالموںمیںڈاکٹرآصف جاہ کی خدمات کو اجاگر کرتا رہتا ہوں۔مردان ، ڈیرہ اسماعیل خان کے لوگوں نے ان کے لئے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیئے، وزیری مہاجرین نے بھی اپنی مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ اب خدا کرے کہ وزیر اعظم کی ہدائت پر سول محکمے خلوص کے ساتھ ایک شیڈول تیار کریں ، پہلے تمام گھروںکا سروے کیا جائے، دوطرفہ لڑائی میںلازمی طور پر مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہو گا، ان کی مرمت کا تخمینہ بنا کر حکومت ا سکے لئے فنڈز کا اہتمام کرے۔ سوات کے تجربے نے اس کوتاہی کو نمایاں کیا تھاکہ فوج تو اپنے حصے کاکام کر کے امن بحا ل کر دیتی ہے مگر بعد میںسول ڈھانچہ انتظامات کابوجھ اٹھانے کےلئے پوری طرح تیار نہیںہوتا، سوات میںعام پولیس ڈیوٹی کے لئے بھی فوج آج تک پھنسی ہوئی ہے، حالانکہ سول انتظامیہ کا فرض بنتا تھا کہ وہ امن و امان، تعلیم صحت، مواصلات، عدلیہ کے امور کی انجام دہی کے لئے پوری طرح کمر بستہ ہو۔ فاٹا میں جنرل باجوہ کے بقول موٹر وے کے معیار کی سڑکیں بن چکی ہیں جو وسط ایشیا کے ساتھ تجارتی روٹ استوار کرنے کے کام آ سکتی ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ا س علاقے میں تعلیم کی سہولتیں عام کی جائیں، ملا لہ یوسف زئی تعلیم کے فروغ کے لئے نوبل انعام حاصل کر چکی ہے، دنیا بھر کے ڈونرز نے اس پر پیسوں کی بارش کر دی ہے، گورنر پنجاب بھی تسلی دلاتے رہتے ہیں کہ تعلیم کے فروغ کے لئے سابق برطانوی وزیر اعظم براﺅن کا گلوبل فنڈ بھی میسر آ سکتا ہے۔بہتر ہو گا کہ یہ پیسہ قبائلی علاقوں پر صرف کیا جائے۔اوراس علاقے کو دنیا کی جدید سہولتوں سے آراستہ کیا جائے۔ دوسری طرف ملک کے اندر عام سیاسی صورت حال کو بھی بہتر بنانا ضروری ہے، اس وقت پاکستان کی دفاعی اہمیت کو دنیا تسلیم کر رہی ہے لیکن اگر ہماری سیاسی جماعتوں نے دھرنوں اور جلسے جلوسوں سے ا ودھم مچائے رکھا تو ہم ان فوائد سے محروم ہو سکتے ہیں جو چین، امریکہ، روس اور یورپی یونین کی طرف سے ہماری جھولی میں پکے ہوئے پھل کی طرح گرنے والے ہیں، اس کے لئے تحریک انصاف اور حکومت کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اختلافی مسائل کا حل تلاش کرنا چاہئے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت نے پی ٹی آئی کو غیر مشروط مذاکرات کی دعوت دیدی ہے۔ اب پی ٹی آئی کو بھی اسی جذبے کے تحت مذاکرات کی حکومتی دعوت قبول کر لینی چاہئے۔