کم و بیش پینتالیس سال قبل محمود شام نے اپنے زما نہ طالب علمی میں ایک شعر کہا تھا
اب آﺅ یہ بھی کر دیکھیں کہ جینے کا مزا آئے
کوئی کھڑکی کھلے اس گھر کی اور تازہ ہَوا آئے
وہ دور بھی گھٹن کا تھا، جبر کا تھا، بندش کا تھا، ایوب خان کا تھا، کالا باغ کا تھا، احمد سعیدکرمانی کا تھا اور ذوالفقار علی بھٹو کا تھا کہ وہ اس جبر کے نظام کا حصہ تھے۔ دنیا بدل گئی، ہم نہیں بدلے، یہاں رجعت قہقری کا عالم ہے، وہی ہے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی، وہ اب بھی ہے۔ مگر اب ایک نئی کھڑکی کھلی ہے، حکومت نے دانشمندی کا رستہ اختیار کیا ہے اور عمران خاں کو پھر مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ جمعرات کو دونوں طرف کے دو لوگ بیٹھے ، شاید کوئی بات ہوئی ہو گی مگر ابھی بیل منڈھے نہیں چڑھی۔ اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں۔
ایک غلطی حکومت کر رہی ہے، وہ یہ کہ اس نے قانون کو استعمال کرنے کے بجائے اسے ہاتھ میں لے لیا ہے، پہلے تو ماڈل ٹاﺅن میں لاشیں گریں اور اب فیصل آباد میں۔ دنیا کے کسی ملک میں ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لئے ہجوم سامنے نہیں لایا جاتا، ریاست تن کر سامنے کھڑی ہو جاتی ہے اور یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ ریاست کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا۔ حکومت کو اپنی غلطی کا احساس ہُوا تو ہے ، خدا کرے کہ وہ نئے راستے پر کاربند رہے۔
اور عمران خان تو بلنڈر پہ بلنڈر کر رہا ہے، اس کے طرز عمل کی حمایت تو کوئی ذی شعور نہیں کر سکتا، اس نے ابتدا ہی میں وزیراعظم کے استعفے اور حکومت کے خاتمے کا مطالبہ داغ دیا اور پھر سول نافرمانی کی کال۔ دھرنوں پہ دھرنے، نقالی تھی عرب اور افریقی ممالک کے دھرنوں کی ، التحریر اسکوائر کی اور سوشل میڈیا پر انحصار، مگر یہ نہ سوچا کہ پاکستان نہ افریقہ میں ہے نہ عرب دنیا کا حصہ ہے اور التحریر اسکوائر کے انجام سے بھی سبق نہ سیکھا ، حسنی مبارک تو چلا گیا ، پنجرے میں بند کر دیا گیا مگر مرسی بھی جیل میں ہے اور اس کے ہزاروں ساتھی موت کی سزا کا سامنا کر رہے ہیں۔ ملک پھر آمریت کے شکنجے میں ہے اور باقی ہمسایہ عرب ممالک داعش کے خطرے سے دوچار ہیں۔ کیا عمران اپنے لئے اور ملک کے لئے یہی چاہتا ہے۔
عمران کی شکایات اور تجاویز پر کان ضرور دھرنے کی ضرورت ہے مگر اس کے لئے عمران کو طاقت کا، دھرنوں کا ، جلسے جلوس کا رستہ ترک کرنا ہو گا۔ وہ سول سوسائٹی کو تبدیلی کے لئے قائل کر چکا، مگر تبدیلی آئین کے تحت آنی ہے، آئینی اداروں کے ذریعے آنی ہے۔
یہ درست ہے کہ لوگ سڑکوں پر شوقیہ نہیں نکلتے، قادری کا مسئلہ الگ ہے، وہ اس ملک کا پورا شہری نہیں ہے، بس تماشہ کرنے آتا ہے۔ اور واپس چلا جاتا ہے، مگر تحریک انصاف اس ملک کی اسٹیک ہولڈر ہے، اس کی ایک صوبے میں حکومت ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس کے مینڈیٹ میں ہیرا پھیری کی گئی ہے، ان شکایات کے ازالے کے لئے سڑکوں پر نکلنا اس کا آئینی ، جمہوری اور سیاسی حق ہے مگر کاروبار زندگئی کو معطل کئے بغیر، کسی دوسرے شہری کارستہ روکے بغیر۔ جو شہری اپنے معمولات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، وہ اس کا بھی جمہوری ، سیاسی اور آئینی حق ہے۔ عمران کی پارٹی نے دوسرے شہریوں کے حق کا حترام ملحوظ نہیں رکھا ، اسی لئے سول سوسائٹی کھل کر اس کے ساتھ کھڑی نظر نہیں آ رہی۔ آخر مزدور نے دیہاڑی کمانی ہے، ملازمت پیشہ افراد نے اپنے دفاتر میںجاناہے ا ور گھر واپس آنا ہے، دکانیں کھلنی ہیں اور فیکٹریاں چالو رہنی ہیں۔ عمران نے اس معمول کی زندگی میں رخنہ ڈالا ہے۔
جو لوگ عمران کے نقطہ نظر کے حامی ہیں، وہ دوسروں کے نقطہ نظر کے احترام کے بھی پابند ہونے چاہئیں۔ اور عمران کے حامیوں نے احتجاج بہت کر لیا، ہر کام کی ایک حد ہوتی ہے اور احتجاج کرنے والے ساری حدیں پھلانگ چکے ، اسی طرح حکومت بھی صبر و تحمل سے کام نہیں لے سکی حالانکہ اسلام ا ٓباد کے طویل دھرنے کا حکومت نے سیاسی طریقے سے سامنا کیا اور اس کا دباﺅ بھی کم کیا۔حکومت اپنے معاملات کی لگام صرف رانا ثنااللہ کے ہاتھ میں نہ دیتی تو مسئلہ اس حد تک نہ بگڑتا کہ حکومت کو یکایک مذاکرات کی یاد ستانے لگتی۔ جب حکومت کو پارلیمنٹ کے تمام کے تمام گیارہ گروپوں کی مکمل تائید و حمایت حاصل ہے تو پھر اسے اپنی سٹریٹ پاور شو کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ حکومت کو اس وقت صرف اپنے روزمرہ کام کاج سے کام رکھنا چائے، اسے اپنے منشور کے مطابق بجلی کی کمی دور کرنی کرنے کی فکر کرنی چاہئے، دہشت گردی کے عفریت کا سر کچلنا چاہیئے،اور نوجوانوں کے لئے روز گار کے نئے مواقع پیدا کرنے چاہیئں۔ اگر حکومت اپوزیشن سے لڑنے بھڑنے لگ گئی تو وہ اپنی توانائیاں ضائع کر بیٹھے گی۔
چلئے، طرفین کو احسا س ہو گیا کہ اب تک وہ غلطی پر تھے اور وہ آمنے سامنے بیٹھ گئے ہیں۔ مگر کیا ضروری ہے کہ یہ مذکرات بھی کامیاب ہو پائیں۔ پاکستان میں مذاکرات کی تاریخ اتنی روشن نہیں۔ بھٹو اور پی این اے کے مذکرات کی بیل بھی منڈھے نہیں چڑھی یا انہیں کسی نے سبوتاژ کر دیا۔ ننانوے میں حکومت اور فوج کے مابین کشمکش دور کر نے کے لئے پس پردہ بات چیت چلی اور کافی کچھ طے بھی ہوا مگر بازی پھر بھی الٹ گئی۔ پاکستان اور بھارت کے مابین مذاکرات کی بھی یہی صورت ہے، نہ سلامتی کونسل کی قراردادیں بھارت نے مانیں اور نہ تاشقند اور شملہ سمجھوتے کام آئے۔ اسلام آباد اعلامیہ اور لاہور ڈیکلریشن پر بھی عمل نہ ہو سکا، واشنگٹن میں نواز شریف اور کلنٹن کا مشترکہ اعلامیہ بھی زمانے کی دست بُرد کا شکار ہو گیا۔ آگرہ میں میزبان ملک کے مذاکرات کار ایڈوانی نے مشرف کو ہوٹل میں اکیلے چھوڑ کر گھر کی راہ لی۔ پاک بھارت کمپوزٹ مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں، اس پس منظر میں حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کے لئے دل سے دعا ہی نکلتی ہے کہ یہ نظر بد کا شکار نہ ہوں ، دونوں فریق خلوص نیت اور کُھلے ذہن کے ساتھ بات چیت کریں اور مسائل کے حل تک پہنچنے کی کوشش کریں، صرف پوائنٹ سکورنگ نہ کی جائے، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش بھی نہ کی جائے۔ ملک کے ساتھ مخلص ہیں تو پھر مذاکرات میں ڈنڈی نہ ماری جائے۔
مذاکرات کا پہلا تقاضہ یہ تھا کہ سیز فائر عمل میں آتی یا مذاکرات کی ابتدا میں سیز فائر کی شرط رکھی جاتی، اس کے بغیر بات چیت تو ایک کھلا اور بھونڈا مذاق ہے۔ عمران خان کراچی میں دندنا رہا ہے، خدا نخواستہ یہاں بھی کوئی سانحہ ہو گیا تو کیسے مذاکرات، کہاں کے مذاکرات۔ بہتر یہ ہے کہ میں بھی کالم یہیں پر ختم کر دوں کہ آنے والی گھڑی کی کسی کو خبر نہیں۔