وئی دو ہفتے قبل پیپلز پارٹی کے مرکزی میڈیا سیل کے انچارج ضیاءکھوکھر صاحب نے اسلام آباد سے فون کر کے مجھے یاد دلایا کہ 27 دسمبر کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی ساتویں برسی ہے جی آپ کو یاد دلانے کی کیا ضرورت ہے، یہ دن بھلا کسی کو بھول سکتا ہے جب محترمہ لیاقت باغ راولپنڈی کے باہر سفاکانہ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ کر اپنی پارٹی کی قربانی کی داستانوں میں ایک اور داستان کا اضافہ کر گئی تھیں۔ میرا آپ کو یاد دلانے کا مقصد یہ ہے کہ آپ اس بار محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی کے حوالے سے لکھتے وقت پارٹی قیادت پر تنیقد سے گریز ہی کر لیجئے۔ میرے جواب پر ضیاءکھوکھر صاحب نے جو درخواست نما وضاحت پیش کی اس پر دل مطمئن نہ ہوا پھر بھی میں اتنی احتیاط کر لیتا ہوں کہ پیپلز پارٹی کی بھٹو ازم پر مبنی سیاست کے حوالے سے آصف علی زرداری اور ان کے فرزند ارجمند بلاول زرداری کے مابین پیدا ہونے والے اصولی اختلافات کا پس منظر بیان نہیں کرتا اور آصف علی زرداری کی جانب سے لاہور میں اپنے اس فرزند ارجمند کی جذباتی سیاست پر ان کا نام لے کر کسے گئے تبرّوں کے باوجود شرجیل میمن کے اس معصومانہ بیان پر تکیہ کر لیتا ہوں کہ میڈیا پر آصف علی زرداری اور بلاول کے مابین اختلافات کی چلائی جانے والی خبروں میں کسی حقیقت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، میں ان کی اس بات پر بھی صاد کر لیتا ہوں کہ برطانوی ڈاکٹروں نے بلاول کو پاکستان واپس جانے سے منع کر دیا ہے اس لئے زرداری صاحب کو مجبوراً اکیلے ہی ملک واپس آنا پڑا ہے۔ مگر کیا زرداری مفاہمت سیاست کے اس پہلو کو تو یکسر نظر انداز کر دیا جائے جس کے تحت آج فوجی افسروں کی سربراہی پر خصوصی عدالتوں کی تشکیل بھی قبول کر لی گئی ہے اگر ضیاءکھوکھر صاحب کے پاس ہی اس کا کوئی تشفی بخش جواب ہے تو مجھے مرحمت فرما دیں کہ آج بے نظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو اپنی زندگی کو لاحق دہشت گردی کے خطرات کو بھانپ کر بھی دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر فوجی عدالتوں کی تشکیل گوارا کر لیتیں، یقیناً ایسا نہ ہوتا کیونکہ پیپلز پارٹی کی تو سیاست کا محور ہی ملک کو فوجی آمریت سے بچانے کا ہے۔ اگر آج فوجی افسران کی سربراہی میں خصوصی عدالتوں کی تشکیل قبول کر لی جاتی ہے تو پھر اونٹ کو خیمے سے نکالنے کی کوئی بھی تدبیر کارگر نہیں ہو پائے گی۔ معمار نوائے وقت گروپ محترم مجید نظامی کی سوچ بھی اس معاملے میں بہت واضح تھی جس کا اظہار وہ ہر جرنیلی آمر کو یہ باور کراتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ نہ مارشل لاءکوئی لاءہے اور نہ فوجی عدالت کو عدالت کہا جا سکتا ہے۔ مقامِ حیرت ہے کہ آج پیپلز پارٹی اور اے این پی سمیت تمام سیاسی جماعتیں محض اس لالی پاپ پر عملاً فوجی عدالتوں کی تشکیل پر آمادہ ہو گئیں کہ بھلے ان کی سربراہی فوجی افسران کو سونپ دی جائے مگر ان کا نام فوجی عدالت کے بجائے خصوصی عدالت رکھ لیا جائے۔ اس سادگی پر کون نہ مر جائے اے خدا ضیاالحق کا سخت گیر مارشل لاءبھگتنے والے پیپلز پارٹی کے جیالوں کو آج بھی بخوبی یاد ہو گا کہ اس وقت جو خصوصی فوجی عدالتیں تشکیل دی جاتی تھیں ان میں بھی عدالت کے سربراہ فوجی افسر کے ساتھ جھونگے کے طور پر کسی مجسٹریٹ کو عدالت کا حصہ بنایا جاتا تھا مگر وہ درحقیقت فوجی عدالت ہی ہوتی تھی جو آئین و قانون کے بجائے اپنے ہی طریق کار کے مطابق مقدمات کی جھٹ پٹ سماعت کر کے فیصلے کر دیتی تھی۔ اب کی مجوزہ خصوصی عدالتیں بھی فوجی افسران کی سربراہی میں ایسا ہی کریں گی تو پیپلز پارٹی کے قائد حزب اختلاف میں خورشید شاہ کے ان عدالتوں کی قبولیت والے اس بیان کو کس کھاتے میں شمار کیا جائے کہ فوجی عدالتوں کو بھاری دل سے قبول کیا ہے۔
آج مجھے ضیاءالحق کی مارشل لائی چھتری کے نیچے جنم لینی والی غیر جماعتی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر حاجی سیف اللہ بے اختیار یاد آئے ہیں جنہوں نے اس جرنیلی آمر کے ہاتھوں ہی 1985ءمیں صدارتی آرڈیننس نمبر 14 جاری کرا کے فوجی عدالتوں اور فوجی ٹربیونلوں کی تشکیل کی گنجائش نکلوانے والی آئین کی دفعہ 212 الف حذف کرا دی تھی، اس کے عوض بے شک انہیں آئین کی دفعہ 58(2)b کے تحت اسمبلیاں توڑنے اور منتخب جمہوری حکومت کو گھر بھجوانے والا صوابدیدی ٹوکہ اختیار قبول کرنا پڑا جسے 85ءکی غیر جماعتی اسمبلی نے 8ویں آئینی ترمیم کے تحت آئین پاکستان کا حصہ بنایا تھا اور پھر اسی اسمبلی سمیت چار منتخب اسمبلیوں کو گھر بھجوایا گیا مگر حاجی سیف اللہ نے فوجی عدالتوں کے آسیب سے تو پاکستان اور آئین پاکستان کو نجات دلا دی تھی اب اگر اجتماعی سیاسی شعور کو اپلائی کر کے اس آ سیب کو دوبارہ اوڑھنے کا راستہ نکالا جا رہا ہے تو پھر الطاف بھائی کی اس دلیل کو قبول کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ فوجی عدالتوں کی شکل میں کوئی غیر آئینی اقدام ہی قبول کرنا ہے تو بہتر ہے دو سال کے لئے اقتدار ہی فوج کے حوالے کر دیا جائے۔ پیپلز پارٹی کے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ بھاری دل کے ساتھ فوجی عدالتیں قبول کر رہے ہیں تو آج اپنی لیڈر شہید بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر تھوڑا سا اور وزنی پتھر اپنے دل پر رکھ کر اقتدار فوج کے حوالے کرنے والی الطاف بھائی کی تجویز بھی قبول کر لیں، ان کے دانشور وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن تو فوجی عدالتوں کی تشکیل کا آئینی جواز نکالنے کی راہ پر بھی جُت گئے ہیں۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
پھر آج حضور والا! اتنا کتھارسس تو کر لیں کہ سیاسی کارکنوں کو جن میں پیپلز پارٹی جیالوں کی اکثریت تھی، انہی فوجی عدالتوں نے قید، کوڑے، قلعہ بندی اور پھانسی کی سزائیں دی تھیں تو آپ سیاسی کارکنوں کے لئے دوبارہ ایسی ہی سزاﺅں کا راستہ کھلوا کر بے نظیر بھٹو کی برسی پر پیپلز پارٹی کی اصولی سیاست کا تذکرہ کرنے چلے ہیں۔ توبہ، توبہ، خدا خدا کیجئے۔ رہے ہمارے وزیراعظم میاں نواز شریف تو انہیں خصوصی عدالتوں کے ساتھ کوئی خاص قسم کی محبت ہوئی لگتی ہے۔ انہوں نے 90ءکی اسمبلی میں اپنی حکومت کے دوران اسی محبت کا اسیر ہو کر 1985ءکی متروک آئین کی دفعہ 212 میں شق بھی شامل کرا کے مروجہ عدالتی نظام کے متوازی خصوصی عدالتوں کی تشکیل کا راستہ نکالا اور اس وقت کے چیف جسٹس سپریم کورٹ سید سجاد علی شاہ سے پھڈا مول لیا، اس پھڈے میں انہیں راندہ درگاہ بنایا گیا مگر نواز شریف صاحب اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں اسمبلی اور حکومت کو گھر بھجوانے والے صوابدیدی آئینی ٹوکہ اختیار سے خود کو بھی نہ بچا پائے۔ یہی وہ سیاسی غلطیاں ہیں جو تاریخ میں محفوظ ہو چکی ہیں۔ اگر نواز شریف صاحب بھی اس سیاسی غلطی کا اعادہ کرنے چلے ہیں اور پیپلز پارٹی ان کی حلیف بن بیٹھی ہے تو پیپلز پارٹی کی قیادت آج بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں ملک بھر سے اکٹھے ہونے والے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو کم از کم اس بات پر تو مطمئن کر دیں کہ انہوں نے دل پر بھاری پتھر رکھ کر پیپلز پارٹی کے جیالا کلچر کے بجائے مفاہمتی سیاست والا کلچر کیوں اپنایا ہے۔ ناہید خان اور ساجدہ میر کی ورکرز پیپلز پارٹی کو تو اس کی تشکیل کے وقت سے ہی کوئی سانپ سونگھ گیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی زرداری قیادت کی مخالفت کر کے بھی اسے جیالا کلچر کے فوت ہونے کا احساس نہیں ہو پا رہا۔ چلیں آج میں کچھ نہیں کہتا مگر آپ بھی رسمِ وفا کیوں بُھلائے بیٹھے ہیں۔ کچھ تو کہئے کہ لوگ کہتے ہیں