جس گھن گرج کے ساتھ نریندر مودی برسراقتدار آئے ہیں اور جس طرح انہوں نے انتخابات کے دوران اپنے زور خطابت کا لوہا منوایا ہے لوگ ان کے دورحکومت کو نمویگ کہنے لگے ہیں۔ یعنی نریندر مودی کا زمانہ.... یہ زمانہ اور چمتکار کتنے دن دکھائے گا اور کتنا اپمان کرے گا۔ ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا مگر حال ہی میں دو باتیں ظہور پذیر ہوئی ہیں۔ ایک تو کشمیر میں گورنر راج نافذ ہو گیا ہے زعفرانی رنگ کے کپڑے پہن کر وہ وہاں اپنی زعفرانی گفتگو کا چراغ نہیں جلا سکے۔ اس لئے انہیں وہاں گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔ غالباً اس خفت کو مٹانے کیلئے انہوں نے پاکستانی بارڈر پر غیراعلانیہ چھیڑ چھاڑ شروع کر دی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ نمویگ کا سب سے بڑا کارنامہ انڈیا کے اندر دھرم پریورتن یعنی تبدیلی مذہب کے نام سے انجام پا رہا ہے۔ زبردستی عیسائیوں اور مسلمانوں کو ہندو بنایا جا رہا ہے اور اس کا جواز یہ کہہ کر پیش کیا جا رہا ہے کہ یہ اپنے گھر میں واپسی ہے۔ یعنی صدیوں پہلے ہندو تھے اور اب ان کو دوبارہ اپنے گھر بھیجا جا رہا ہے۔ اس صورتحال پر انڈیا کے اعتدال پسند دانشور بھی آواز لگا رہے ہیں۔
ایک کالم نگار نے لکھا ہے جس کی امید تھی آخر وہی ہو رہا ہے۔ مودی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد چھ مہینوں میں بھی کئی مذہبوں اور مختلف سنسکریتوں والے بھارت کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کی بظاہر منظم مہم شروع ہو گئی ہے۔ انڈیا کے تازہ ترین واقعات کو مذہب پرست حکومتی نظام میں تبدیل کرنے کی علامت سمجھنا چاہئے۔ ایک اور کالم نگار ہند سماچار میں لکھتا ہے کہ:
سنگھ پریوار علی گڑھ کے آس پاس کے علاقوں میں پمفلٹ بانٹ کر لوگوں سے درخواست کر رہا ہے کہ وہ کرسمس کے دن پر مجوزہ گھر واپس یعنی دھرم تبدیل کرنے والوں کو دوبارہ ہندو دھرم میں لانے کیلئے مجوزہ کانفرنس کیلئے دل کھول کر چندہ دیں۔ یہ عیسائی اور مسلمان ہندو دھرم سے بھٹک گئے تھے۔ ان کو دوبارہ ہندو دھرم میں لانے کیلئے چندہ سے جو رقم اکٹھی ہوگی اس میں سے ہر مسلمان کو پانچ لاکھ اور ہر عیسائی کو دو لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔
25 دسمبر کو چار ہزار عیسائیوں اور ایک ہزار مسلمانوں کا دھرم پریورتن کیا گیا
جس کے جواب میں بریلی کے مسلم علماءنے آواز اٹھائی اور یہ کہا کہ اگر اسی طرح زبردستی دھرم پریورتن کیا گیا تو تمام مسلمان نہ صرف دھرنا دیں گے بلکہ لانگ مارچ بھی کریں گے۔
اس احتجاج پر آگرہ میں جو شخص زبردستی دھرم پریورتن کر رہا تھا پولیس نے اسے گرفتار بھی کیا۔ مسئلہ کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے اسے دسمبر کے پارلیمنٹ سیشن میں اٹھایا بھی گیا۔ کانگریس جو اپنے آپ کو سیکولر جماعت کہتی ہے اس نے شور مچایا۔
مایا وتی نے کہا۔ اس طرح دھرم پریورتن یا زبردستی مذہب تبدیل کرنے کا جبر نہ روکا گیا تو سارے ملک میں فرقہ وارانہ فساد برپا ہونگے۔
پہلی بار ایم پی بنی بھاجپا کی سادھوی نرنجن نے ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کیا آپ رام زادوں (یعنی ہندو دھرم کے پیروکاروں) کی سرکار چُنیں گے یا حرام زادوں کی ۔ اس پر مختلف سیاسی پارٹیوں نے بھی احتجاج کیا کہ حرام زادوں کا اشارہ کیا دوسرے مذاہب کے لوگوں کی جانب ہے۔ انتہاپسندی کا ایک ثبوت پہلے سے موجود ہے۔ جب لال کرشن ایڈوانی کی رتھ یاترا کے نتیجے میں انہوں نے بابری مسجد کو منہدم کر دیا تھا۔
اب کچھ انتہاپسند یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ اورنگ زیب روڈ کا نام بدل کے کسی ہندو لیڈر کے نام پر رکھا جائے۔ قارئین کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ 10 اورنگ زیب روڈ پر قائداعظم کا گھر تھا۔ اور تو اور نیویارک ٹائمز نے بھی اس صورتحال پر ایک اداریہ لکھا ہے کہ بھارتی حکومت کی اتحادی ہندو انتہا پارٹیوں کی طرف سے بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو زبردستی ہندو بنانے کی تمام تر ذمہ داری وزیراعظم نریندر مودی پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے مودی پر زرو دیا ہے کہ وہ بھارتی معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کی مہم کو بند کرائیں۔ اخبار نے لکھا ہے کہ نریندر مودی خاموشی توڑ دیں اور پیشتر اس کے کہ دیدہ دلیری دکھانے والے ہندو انتہاپسندوں کی حرکتیں وزیراعظم کی اقتصادی اصلاحات مکدر کرکے اور مذہب کے نام پر سیاست اور معاشر کو تقسیم کرنے کی مذموم حرکتیں بھارت کا بنیادی مسئلہ بن جائیں۔ انتہاپسندوں کو سخت وارننگ جاری کریں۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ حکومت میں شامل راشٹریہ سیوک سنگھ اور وشوا ہند پریشد دونوں گروپ بھارت کو ہندو ریاست بنانے پر تُلے ہوئے ہیں اور یہ امید دم توڑتی نظر آتی ہے کہ نریندرمودی انتہاپسندوں کو لگام دے سکیں گے۔ اخبار کے مطابق آج بے سکونی کی ساری ذمہ داری نریندر مودی وزیراعظم پر عائد ہوتی ہے۔
بھارت کے اندر بھی بہت سے اعتدال پسند لیڈر آواز بلند کرتے نظر آتے ہیں کہ مذہب تبدیل کرنے کے اس پروگرام پر نریندر مودی جو ہر ماہ کوئی نیا بھاشن دیتے نظر آتے ہیں مسلسل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔
ہم قارئین کو تاریخ کا ایک اور واقعہ یاد دلانا چاہتے ہیں کہ تقسیم سے پہلے بھارت میں شدھی کی ایک رسم جاری کی گئی تھی جیسا کہ ہم نے جرنلزم کے نصاب کی کتب میں پڑھا تھا۔ اس وقت مسلمانوں کو زبردستی پکڑ پکڑ کر ہندو بنایا جا رہا تھا۔ اسے وہ کہتے تھے ان کی شدھی کی جا رہی ہے۔ شدھی کا مطلب ہے پاک کرنا۔ اس قسم کے اور بہت سے مسائل تھے جو پاکستان جیسا الگ ملک بنانے کا موجب بنے۔ اب اتنے سالوں کے بعد شدھی ہی کی رسم کو دوبارہ دہرایا جا رہا ہے مگر اس کو ایک نیا نام دیا گیا ہے یعنی اپنے گھر واپسی گویا پندرہ سو سال کے بعد انہیں واپس لایا جا رہا ہے۔ دراصل بھارت میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر انتہاپسند خوفزدہ ہوگئے ہیں۔ اس بار انہوں نے عیسائیوں کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ وہ حکومت جو بھارت میں مسلمانوں کا وجود برداشت نہیں کر سکتی وہ بھلا اپنی ہمسائیگی میں مسلمان ملک کے ساتھ دوستانہ کس طرح رکھ سکتی ہے۔ ایک طبقہ ہے ہماری مقتدر پارٹی میں جو بھارت کے ساتھ تجارت بوزن محبت کرنے کے حق میں ہے اور آنکھیں بند کرکے ان پر ایمان لانا چاہتا ہے۔ اس کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔
گو ہم سمجھتے ہیں کہ نمویگ میں دھرم پریورتن بھارت کا اندرونی مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ بھارت کے عیسائیوں اور مسلمانوں کا ہے مگر اس کی بدمزگی دوسرے ملکوں میں بھی سنائی دے رہی ہے۔ ایک بہت بڑی اور نام نہاد سیکولر جمہوریت کے اندر اس قسم کے واقعات کا نمودار ہو جانا قابل حیرت اور افسوسناک بھی ہے۔ ایسا نہیں کہ دنیا بھر میں مذہب بدلنے کے واقعات نہیں ہوتے۔ ان سب کی وجہ ذاتی ہوتی ہے۔
عام طورپر مذہب تبدیل کرنے کی دو وجوہات ہوتی ہیں جس پر ہم آئندہ کالم میں تفصیل سے لکھیں گے۔
فی الحال ہمیں بھاری مینڈیٹ لیکر آنے والے پردھان منتری جناب نریندر مودی سے کہنا ہے کہ
یہ چپ سی کیوں لگی ہے اجی کچھ تو بولیے؟