وقت کی کمی اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے زندہ انسانوں کے ساتھ ساتھ مردوں کو بھی متاثر کیا ہے ، جاپان میں ایک چھ منزلہ جدید ترین قبرستان بنایا گیا ہے جہاں ورثاء قبروں کو ڈھونڈنے کی بجائے ایک کارڈ کے ذریعے اپنے پیاروں کی باقیات سامنے لا کر دعا کر سکتے ہیں
بدھ مت کے پیروکاروں کی جانب سے بنائے
گئے اس قبرستان میں ساڑھے چھ ہزار سے زائد جلائے گئے مردوں کی راکھ خوبصورت تابوتوں میں موجود ہیں ۔ ان تابوتوں کو ایک آٹو میٹک نظام کے ت*ت رکھا گیا ہے ۔ جیسے ہی یہاں دفن کسی مردے کے لوا*قین ایک کارڈ وہاں موجود مخصوص مشین میں ڈالتے ہیں تو سٹورسے اس کی باقیات والا تابور سامنے آ جاتا ہے ۔ لوا*قین کو دعا کی سہولت فراہم کرنے کے لیے روایتی ما*ول فراہم کیا گیا ہے اور اس کے لیے کیبن بنائے گئے ہیں ۔ لوا*قین اس سہولت سے کافی خوش ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس طر* وقت کی کافی بچت ہو جاتی ہے جبکہ مردوں کو دفنانے کے لیے شہروں میں جگہ کی کمی کے باعث دور دراز علاقوں کا رخ کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہتی ۔ اس قبرستان میں موجود ہر تابوت میں نو افراد کی باقیات کو رکھا جاتا ہے ۔ مختلف افراد اپنے خاندان کے فوت شدگان کی باقیات کو ایک ہی تابوت میں رکھوانے کے لیے ایڈوانس بکنگ کرا لیتے ہیں۔ قبرستان میں ایک تابوت کو رکھنے کی قیمت سات لاکھ پچاس ہزار روپے ہے جبکہ سالانہ پندرہ ہزار روپے کے برابر رقم سالانہ انتظامی اخراجات کے لیے ادا کرنا پڑتی ہے ۔انتظامیہ نے بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث قریب ہی ایک اور ایسا ہی قبرستان بنانے کے لیے جگہ *اصل کر لی ہے۔