Results 1 to 2 of 2

Thread: افغانستان میں انتالیس نمبر کا مسئلہ - BBC Urdu

  1. افغانستان میں انتالیس نمبر کا مسئلہ - BBC Urdu






    افغانستان میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کرنے والے *کام کے سامنے ایک انوکھا مسئلہ آن کھڑا ہوا ہے جو ان رجسٹریشن نمبرز کا ہے جن میں انتالیس کا عدد آتا ہے۔

    چند وجوہات اور توہمات کی بناء پر افغانوں میں انتالیس کا عدد باعثِ شرمندگی سمجھا جاتا ہے۔

    خیال ہے کہ عدد انتالیس کو شرمندگی کی وجہ سمجھنے کا معاملہ ایک دلال کی وجہ سے شروع ہوا جس کی گاڑی کی رجسٹریشن میں انتالیس کا عدد آتا تھا جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا تعلق اعداد کو شمار کرنے کے پرانے طریقے ’ابجد‘ سے ہے۔

    تاہم وجہ جو بھی ہو انتالیس عدد سے ناپسندیدگی کا سلسلہ تیزی سے ملک بھر میں پھیل رہا ہے۔

    کابل کے ایک ٹیکسی ڈرائیور ا*مد غفور نے بی بی سی فارسی کے طاہر قادری کو بتایا کہ ’میں لوگوں کے طعنے سنتے سنتے تنگ آگیا ہوں کہ میری گاڑی کا نمبر انتالیس ہے‘۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اگر میری گاڑی میں خواتین مسافر بیٹھ جائیں تو *الات مزید خراب ہو جاتے ہیں اور دیگر ڈرائیور اشارے کر کے یا ہارن بجا کر میرا مذاق اڑاتے ہیں‘۔


    ا*مد غفور کے مطابق انہوں نے اپنی کار بیچنے کی بے *د کوشش کی ہے لیکن کوئی اسے خریدنے پر تیار نہیں ہوتا اور سب کے انکار کی ایک ہی وجہ یعنی گاڑی کا رجسٹریشن نمبر ہے۔

    ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ بہت سی گاڑیوں کے مالکان نے اپنی نمبر پلیٹوں سے انتالیس کا عدد یا تو مٹوا دیا ہے یا اس کی شکل ایسی کر دی ہے کہ وہ پہچانا نہ جائے۔

    افغانستان میں یہ مسائل اس وقت سامنے آنا شروع ہوئے جب افغانستان میں پانچ اعداد پر مشتمل نمبر رجسٹریشن سیریز اڑتیس ہزار کی تکمیل کے بعد انتالیس ہزار کی *د میں داخل ہوئی۔

    کابل کے م*کمۂ ٹریفک کے سربراہ نورالدین ہمدرد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’قانون کے مطابق ہمیں انتالیس عدد والی نمبر پلیٹیں تقسیم کرنی ہیں۔ یہ لوگوں کی جہالت ہے کہ وہ توہمات پر یقین کرتے ہیں‘۔

    انہوں نے کاروں کا کاروبار کرنے والے افراد پر *الات کا فائدہ اٹھانے کا الزام بھی عائد کیا۔ تاہم کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ م*کمۂ ٹریفک کے *کام دیگر اعداد پر مشتمل نمبر پلیٹ جاری کرنے کے لیے تین سو امریکی ڈالر کے مساوی رقم بطور رشوت لے رہے ہیں۔

    اگرچہ انتالیس نمبر کے اس معاملے سے سارے افغانستان میں کاروں کے مالکان اور گاڑیاں فروخت کرنے والی کمپنیاں متاثر ہوئی ہیں لیکن جو *الات مغربی افغانستان کے شہر ہرات میں ہیں وہ کہیں اور نہیں۔

    ہرات ہی وہ شہر ہے جہاں سے انتالیس نمبر والی کار کے مالک دلال کی کہانی سامنے آئی تھی۔

    ایک مقامی کار ڈیلر فواد ہراوی کے مطابق ’آپ ہرات کی سڑکوں پر کوئی ایسی گاڑی چلانے کی جرات نہیں کر سکتے جس کی رجسٹریشن میں عدد انتالیس آتا ہو‘۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو ’آپ خود کو ایک دلال کہلوانا تسلیم کرتے ہیں اور تیار ہوتے ہیں کہ لوگ آپ کا پیچھا کریں‘۔

    اس مسئلے سے گاڑیوں کی قیمتوں پر بھی اثر پڑا ہے۔ مزارِ شریف کے ایک کار ڈیلر قیس یاسینی کے مطابق ’کیا آپ مانیں گے کہ میں نے انتالیس نمبر والی ایک کار سات ہزار ڈالر میں بیچی جبکہ اس کی اصل قیمت بارہ ہزار ڈالر تھی‘۔

    اور انتالیس عدد کا مسئلہ صرف گاڑیوں کی نمبر پلیٹس تک م*دود نہیں، جب آپ کسی انتالیس سالہ شخص سے پوچھیں کہ آپ کی عمر کتنی ہے تو اس کا جواب ہو گا ’چالیس سے ایک سال کم‘۔

    افغان باشندے ایسے موبائل فون نمبرز بھی پسند نہیں کرتے جس میں انتالیس کا عدد آتا ہو۔ مصطفٰی جلال وہ شخص ہیں جن کے فون نمبر میں انتالیس کا عدد آتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے بہت سی کالز آتی ہیں کہ کیا میں طوائفوں کی دلالی کرتا ہوں۔ مجھے تو میرے دوست بھی مسٹر 39 کہہ کر پکارتے ہیں‘۔

    ایک اور مسئلہ ان افراد کو درپیش ہے جن کے گھروں کا نمبر انتالیس ہے۔ مزارِ شریف کے ایک رہائشی علاقے میں انتالیس نمبر مکان میں رہائش پذیر لیمار جلال زئی کا کہنا ہے کہ ’میری والدہ اور بہنوں پر لوگ آوازیں کستے تھے جبکہ کچھ لوگوں نے ہمارے گھر کے باہر ت*ریر کر دیا تھا کہ ’دلالوں کے گھر میں خوش آمدید‘۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’آخرِ کار میں نے تنگ آ کر اپنے گھر کے باہر موجود انتالیس نمبر کو مٹا ہی دیا‘۔

    کابل کے م*کمۂ ٹریفک کے نور الدین ہمدرد کا کہنا ہے کہ عوام کو *قیقت پسند ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر اسلامی ملک میں آپ کو انتالیس عدد والی نمبر پلیٹس ملیں گی اور قرآن کی سورتوں میں بھی تو انتالیس آیات ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ’میں نے علماء سے اس بارے میں بات کی ہے۔ انہیں اس چیز کا اندازہ نہ تھا اور وہ اسے بےسروپا بات مانتے ہیں۔ لوگ صرف رائی کا پہاڑ بنا رہے ہیں‘۔

    شاید ایسا ہی ہے لیکن افغانستان میں گاڑیاں خریدنے والے اسی وقت سکون کا سانس لیں گے جب رجسٹریشن سیریز انتالیس کے بعد چالیس کے عدد میں داخل ہوگی۔


    Mubasshar


  2. Re: افغانستان میں انتالیس نمبر کا مسئلہ - BBC Urdu

    Great post!!

Similar Threads

  1. جیل کے مچھروں سے نہیں ڈرتا
    By mubasshar in forum Political Discussion
    Replies: 0
    Last Post: 12th October 2010, 10:24 AM
  2. Replies: 0
    Last Post: 6th June 2010, 03:54 PM
  3. Replies: 0
    Last Post: 16th January 2010, 12:00 PM
  4. Replies: 3
    Last Post: 4th October 2009, 11:31 AM

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •