ایک بادشاہ سے عوام کے وفد نے ملاقات کی جس میں انہوں نے درخواست کی کہ بادشاہ اگر دریا پر پل بنوا دے تو عوام کیلئے دریا پار کرنا آسان ہوجائے گا، جس پر بادشاہ نے فوری طور پر دریا پر پل بنانے کے ا*کامات جاری کردیے اور دیکھتے ہی دیکھتے پل تیار ہوگیا، بادشاہ کے لالچی وزراء اور مصا*ب نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ وہ پل پر سے گزرنے والوں پر فیس مقرر کردے۔ بادشاہ نے کہا کہ اس طر* تو عوام پر اضافی بوجھ پڑے گا، وزیروں اور مصا*ب نے بادشاہ کو سمجھایا کہ کچھ بھی نہیں ہوگا آپ دیکھتے تو جائیے، لہٰذا پل کی ایک جانب سے گزرنے والوں پر فیس عائد کردی گئی۔ بادشاہ انتظار کرنے لگا کہ شاید عوام میں سے کوئی اس کے پاس اس کی شکایت لے کر آئے، مگر جب کئی روز تک کوئی نہیں آیا تو اسے بڑی *یرت ہوئی، ساتھ ہی ان ہی وزیروں نے بادشاہ سے کہا کہ اب وہ واپسی کے راستے پر بھی فیس عائد کردے، بادشاہ نے ایسا ہی کیا، اس پر بھی کوئی بادشاہ کے پاس نہیں آیا، اس کے بعد بادشاہ نے وزراء کے کہنے پر فیس میں اضافہ کردیا، اس پر بھی کوئی نہیں آیا۔ بادشاہ فیس میں اضافہ کرتا رہا اور اس کے خزانے میں بھی اضافہ ہوتا رہا مگر کوئی بھی بادشاہ کے پاس شکایت لے کر نہیں آیا۔ لوگوں کی بے *سی دیکھ کر بادشاہ نے پل کی دونوں جانب چند لوگ مقرر کیے جو آنے جانے والوں کو جوتے مارنے لگے اب وہ پر امید تھا کہ اب کوئی نہ کوئی ضرور اس پر ا*تجاج کرے گا۔ جوتے مارنے والے مقرر کرنے کے دوسرے ہی روز عوام کا ایک وفد بادشاہ کے پاس آیا، بادشاہ کو امید تھی کہ لوگ اس سے اس سلوک پر شکایت کریں گے اور اس کو ختم کرنے کا مطالبہ کریں گے۔ اس کے بالکل الٹ وفد میں سے ایک شخص نے عرض کی کہ ”بادشاہ سلامت آپ نے جو جوتے مارنے والے مقرر کیے ہیں ان کی تعداد بڑھا دیں تاکہ ہمیں پل عبور کرنے میں تاخیر نہ ہو“ یہ سن کر بادشاہ نے اپنا سر پکڑ لیا۔
کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ یہ صورت *ال پاکستان کے عوام پربھی صادق آتی ہے، *کومت مہنگائی، بے روزگاری دہشت گردی میں آئے دن کا اضافہ کرکے جن کی قوت برداشت کو جانچ رہی ہے اور عوام ہیں کہ کوئی *رف ِ شکایت منہ پر نہیں لاتے، ہر مہینے ایک سے دو مرتبہ مہنگائی میں اضافہ کیا جاتا ہے، ہر ماہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھادی جاتی ہیں، لوڈ شیڈنگ کو بڑھاتے بڑھاتے 10تا 12گھنٹے روزانہ پر لے آیا گیا ہے، *کومت سے دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کنٹرول نہیں ہورہی ہے بلکہ بعض جگہ بالخصوص کراچی جہاں روز کم از کم دس افراد ٹارگٹ کلنگ میں زندگی سے ہاتھ دھولیتے ہیں ،وہ اس کی ذمہ داری دوسری جماعتوں پر منتقل کرکے خود بری الذمہ ہوجاتی ہے۔
عوام کی صورت *ال یہ ہے کہ متوسط طبقہ غریب طبقے میں تبدیل ہوگیا ہے جن سے اپنی سفید پوشی چھپانا ممکن نہیں رہا جبکہ غریب انتہائی پستی میں دھکیل دیے گئے ہیں،کہ خودکشی پر مجبور ہیں یا اپنی اولاد کو فروخت کرنے پر۔
یہ قدرت کا قانون بالکل درست ہے کہ جیسے لوگ ہوں گے ان پر ویسے ہی *کمران مسلط کیے جائیں گے،تمام جمہوریت کی چمپئن ہونے کی دعوے دار سیاسی جماعتیں موجودہ مسائل کی ذمے دار خود ہیں، یہ کس طر* غریبوں کو دووقت روٹی ، بدن پر کپڑا اور سر چھپانے کیلئے چھت فراہم کرسکتی ہیں کہ ان کی بساط کلی طور پر آمریت میں لپٹی ہے، یہ خود جدی پشتی سیاست پر چل رہی ہیں، ان جماعتوں پر ان کے بانیوں کا راج رہتا ہے جو بعد میں ان کے ورثاء تک منتقل ہوجاتا ہے،اپوزیشن ،اپوزیشن کے نام پر دھبہ ہے، بڑھتی ہوئی مہنگائی، لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی جیسے سر فہرست *کومتی جرائم پر اس کی خاموشی اس بات کا مکمل ثبوت ہیں کہ یہ بھی جب اقتدار میں آئیں گے تو عوام کے ان مسائل میں کمی کے بجائے اضافہ ہی کریں گے۔
اسمبلیوں میں بیٹھے لوگ یا تو جاگیر دار ہیں یا سرمایہ کار ،جو نہیں تھے وہ بھی اسمبلیوں میں پہنچ کر سرمایہ کار اور جاگیردار بن گئے،غریب عوامی طبقے سے تو کسی کابھی تعلق نہیں، کیا یہ لوگ جو غربت کو جانتے بھی نہیں غریبوں کے مسائل *ل کرسکتے ہیں؟
ان *زب اقتدار اور *زب اختلاف والوں کو مہنگائی، لوڈشیڈنگ، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی جیسے مسائل کا ادراک بھی ہے؟
کیا پاکستانی عوام ان ہی لوگوں میں سے کسی کو پھر چن کر اقتدار کی مسندپر بٹھاتے اور اپنے مسائل بڑھاتے رہیں گے؟
یا
کوئی ایسا بھی ہے جو واقعی نجات دہندہ ہو؟؟
جواب آپ ہی کو تلاش کرنا ہے!!
اپنی رائے کا اظہار کیجئے۔