Results 1 to 2 of 2

Thread: امریکی دوستی ! تباہی کا زینہ

  1. #1

    امریکی دوستی ! تباہی کا زینہ





    مختلف ممالک کے *کمرانوں کے ساتھ گہری دوستی اور مفادات کے *صول کے بعد انہیں یکسر نظرانداز کر دینے کے طرز عمل نے دنیا کی وا*د سپر پاور ہونے کے دعویدار امریکہ کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ امریکہ کے چہیتے *کمرانوں کی عوامی مقبولیت میں جیسے ہی ذرا سی بھی کمی ہوتی ہے تو واشنگٹن میں بیٹھے پالیسی ساز کسی نئے چہرے کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔ امریکہ نے کبھی بھی اپنے دوست *کمران کی دور اقتدار کے آخری ایام میں مدد نہیں کی بلکہ ایسے مناظر بھی دیکھے گئے کہ امریکی *مایت پر فخر کرنے والے اور امریکی خوشنودی کی خاطر اپنی عوام کی خواہشات کا گلا گھونٹنے والے *کمرانوں کو سیاسی پناہ تک دینے سے انکار کر دیا گیا۔ پھر ایسے *کمرانوں کو عوامی غیض و غضب کا نشانہ بننا پڑا اور اس طر* امریکی دوستی کی قیمت ادا کرنی پڑی۔ امریکہ ڈالروں کی بارش کر کے اور مختلف ڈراوے دے کر *کمرانوں کو دوست بناتا ہے۔ اگر کوئی سربراہ مملکت امریکی پالیسی پر عمل سے انکار کرتا نظر آئے تو اس کے خلاف م*اذ شروع کرا دیئے جاتے ہیں اور اس طر* دوست *کمرانوں کو بھی دبا
    ¶ میں رکھ کر من پسند مقاصد *اصل کئے جاتے ہیں۔ *الیہ دور میں ایران‘ وینزویلا سمیت کئی ممالک کے *کمران امریکہ مخالف سمجھے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے انہیں مختلف سازشوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ایرانی صدر م*مود ا*مدی نژاد کے دوبارہ انتخاب کے بعد امریکی خفیہ ایجنسیوں کی مدد سے پرتشدد مظاہرے کرائے گئے جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے اور ان میں ملوث ہونے کا الزام خود امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن بھی کر چکی ہیں۔ ہوگوشاویز کو قتل کرنے کی کئی سازشیں ناکام ہو چکی ہیں تاہم تجارتی اور معاشی پالیسیوں کے *والے سے اس کے خلاف نفرت بڑھائی جا رہی ہے۔ ہنڈارس کے صدر مینﺅل زیلایا کو بھی کیوبا اور وینزویلا کے ساتھ مل کر امریکی بالادستی کو چیلنج کرنے کے جرم میں معزول کیا جا چکا ہے۔ ۔ لیبیا کے معمر قذافی امریکی پابندیوں کے باعث اپنے موقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے صل* کر چکے ہیں۔

    اسی طر* عراق میں 1969 میں عبدالکریم قاسم کی امریکہ مخالف *کومت کو صدام کی بعث بغاوت کے ذریعے کچل دیا گیاجس کے پیچھے cia کا ہاتھ تھا۔اسی زمانے میں انڈونیشیا میں سوکارنیو کی امریکہ مخالف *کومت کو بڑی چالاکی سے امریکہ *مایتی سوہارتو کی کے ہاتھوں یرغمال بنا دیا گیا۔ اور قطر میں شیخ *ماد اسلامی رج*ان رکھنے والے اپنے سگے والد کو جلا وطن کر کہ اقتدار پر براجمان ہوا۔مصر میں انور السادات نے اسرائیل کے ساتھ 1979 میں امن معاہدہ کر لیا جس کو مسلم *لقوں میں اچھی نگاہ سے نہ دیکھا گیا۔۔انورالسادات کو1981 میں ایک اسلامی جہادی گروپ نے امریکہ *مایتی ہونے کے الزام میں قتل کر دیا۔ سعودی عرب کے شاہ فیصل جبکہ پاکستان کے ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاءال*ق کی پراسرار ہلاکتوں کے پیچھے بھی امریکی ایجنڈے کی تکمیل کے مقاصد ہی قرار دیئے جاتے ہیں۔ امریکہ کے سابق دوست اور آخری سالوں میں دشمن قرار دیئے جانے والے عراقی صدر صدام کی کہانی امریکی دوستی کی خاطر نشان عبرت بننے والوں کی سب سے بڑی مثال ہے۔ امریکہ کے مخالف لیڈروں کے ساتھ ساتھ اس کے دوست *کمرانوں کے تجربات بھی کچھ زیادہ خوشگوار نہیں رہے اور ان میں سے اکثر کو بھیانک انجام کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ شاہ ایران اس خطے میں امریکہ کا سب سے قریبی ساتھی تصور کیا جاتا تھا۔ مغربی میڈیا اسے امریکی گورنر تک لکھتا رہا اور اس نے امریکی خوشنودی کی خاطر ملک کو روشن خیالی کی راہ پر ڈالا۔ اسلامی اقدار کو بزور ختم کر دیا گیا جبکہ مذہبی شعار کی پابندی کے باعث ہزاروں افراد موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے لیکن جیسے ہی ایرانی سرزمین پر خمینی انقلاب کا سورج طلوع ہوا امریکہ شاہ ایران کو بھول گیا۔ اس قریبی دوست کو سیاسی پناہ تک دینے سے انکار کر دیا گیا اور اس طر* امریکہ کا یہ ات*ادی 1980ءمیں جلاوطنی کے دوران مصر میں فوت ہو گیا اور دنیا کے لئے نشان عبرت بنا۔
    یاسر عرفات ایک آزادی پسند جنگجو اور بہادر لیڈر سمجھا جاتا تھا۔ یاسر عرفات جیسے ہی امریکہ کی جانب سے قیام امن کے نام پر پھیلائے گئے جال میں پھنسا تو اس شخص کے باعث مسئلہ فلسطین کو انتہائی نقصان پہنچا۔ امریکی دوستی کے باعث ایک طرف اس کی عوامی مقبولیت ختم ہو گئی اور *ماس کی طاقت بڑھی جبکہ دوسری جانب اسرائیل نے اس کی موت تک م*اصرہ جاری رکھا اور یاسر عرفات امریکی دوستی کے قبرستان میں دفن ہو گیا۔ ایران کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر مصدق نے جیسے ہی تیل کے ذخائر کو قومی ملکیت میں لینے کی کوشش کی تو اس کی *کومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ یوگوسلاویہ کا آمر میلازووچ امریکہ اور یورپی یونین کی آشیرباد پر ہی بوسینیائی مسلمانوں کا قتل عام کرتا رہا لیکن جب مخصوص ایجنڈے کی خاطر اسے اقتدار سے م*روم کیا گیا تو بعد میں اسے عالمی عدالت میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ نکاراگوا نے باغی لیڈر اناس تاسو نے کئی سال امریکی خفیہ ایجنسیوں کے تعاون سے کمیونزم کے خلاف جنگ لڑی۔ جیسے ہی *کومت اس کی بغاوت پر قابو پانے میں کامیاب ہوئی اور اسے جان بچانے کے لئے فرار ہونا پڑا تو امریکی دوستوں نے بھی آنکھیں پھیر لیں۔ اناس تاسو کو بار بار اپیلوں کے باوجود کہیں سیاسی پناہ نہ مل سکی اور جنگلوں پہاڑوں میں چھپتے چھپتے زندگی کی بازی ہار گیا۔ چلی کے بدنام زمانہ ڈکٹیٹر جنرل اگستو پنسوشے کی کہانی بھی امریکی دوستی کے باعث ملنے والے دکھوں سے بھری پڑی ہے۔ اس ظالم شخص نے 17 برس تک عوامی خواہشات کا خون کیا۔ امریکی اشاروں پر مخالفت میں اٹھنے والی ہر تنظیم پر پابندی لگائی اور لاکھوں افراد کو قتل کرا دیا گیا۔ جنرل پنوشے امریکی دوستی پر فخر کرتا تھا لیکن جیسے ہی عوامی دبا
    ¶ پر اسے اقتدار چھوڑنا پڑا تو امریکہ نے بھی آنکھیں پھیر لیں اور اس طر* جنرل پنوشے کو بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا۔ جنرل پنوشے دولت کے انبار کے ساتھ لندن پہنچا لیکن اسے گرفتار کر کے لیا گیا۔ دس سال نظربند رکھنے کے بعد اسے سن 2000ءمیں واپس چلی کے *والے کر دیا گیا۔ جہاں وہ مقدمات کا سامنا کرتے کرتے ہارٹ اٹیک سے مر گیا۔ امریکہ نے اپنے اس ات*ادی کے لئے تعزیتی پیغام تک جاری نہ کیا۔ فلپائن کے سابق *کمران فرڈی ننڈ مارکس نے امریکی *مایت سے ہی *کومت *اصل کی اور اس کی پالیسیوں کا م*افظ رہا۔ 1986ءمیں اس کی *کومت گرا دی گئی تو ساتھ ہی امریکی دوستی کا قصہ تمام ہوا اور اسے ہونولولو میں ایک عام پناہ گزین کی طر* گزارا کرنا پڑا۔ انگولا کے جوناس سیومنی اور پانامہ کے جنرل نوریگا کا شمار بھی ان جنگجو لیڈروں میں ہوتا ہے جنہوں نے امریکہ کی جنگ لڑی لیکن ناکامی کی صورت میں انہیں یکسر بھلا دیا گیا۔ سابق صدر بش کی *کومت پاکستانی جنرل پرویز مشرف کی آمریت کی بھرپور *مایت کرتی رہی۔ اپوزیشن کے ساتھ سخت رویے کے باوجود انہیں ذاتی دوست کی *یثیت *اصل رہی۔ لیکن جیسے ہی پرویز مشرف سابق صدر ہوئے ہیں تو امریکی نمائندہ خصوصی رچرڈ ہالبروک کا کہنا ہے کہ وہ اب ماضی کا *صہ بن چکے ہیں اور انہیں سزا دینا پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ مختلف ممالک کے درجنوں *کمرانوں کے نشان عبرت بننے کے باوجود اب بھی بہت *کومت کرنے والے امریکی پالیسیوں پر چلنا پسند کرتے ہیں۔ عوامی مقبولیت کی بجائے قصر سفید کی غلامی پسند کرتے ہیں ۔ ایسے *کمرانوں اور نام نہاد لیڈرز کو یاد رکھنا چاہیے کہ امریکی دوستی ہمیشہ تباہی کا پیغام ہی لاتی ہے ۔ لیکن یہ بھی *قیقت ہے کہ ہمیشہ ہی اقتدار کے مزے لوٹتے اور مقروض قوم کے خرچ پر نیویارک کے مہنگے ہوٹلوں کی میزبانی سے لطف اندوز ہوتے *کمرانوں کو یہ بات سمجھ نہیں آیا کرتی۔۔


    م*مد عاصم *یفظ
    وقت نیوز ،لاہور


    Mubasshar


  2. #2

    Re: امریکی دوستی ! تباہی کا زینہ

    ask from ....

Similar Threads

  1. ہیلری کلنٹن کے بیان پر ایک نظر
    By ather in forum Political Discussion
    Replies: 6
    Last Post: 11th May 2011, 09:30 AM
  2. جیل کے مچھروں سے نہیں ڈرتا
    By mubasshar in forum Political Discussion
    Replies: 0
    Last Post: 12th October 2010, 10:24 AM
  3. Replies: 0
    Last Post: 6th June 2010, 03:54 PM
  4. Replies: 0
    Last Post: 31st January 2010, 05:51 PM

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •