ظام عشرو زکوٰۃ کے مکمل بیانیے کے بعد سنا ہے نظام صلوٰۃ کا بیانیہ بھی لانچ ہونے والا ہے اور اس پر ہمارا بیانیہ یہ ہے کہ یہ بڑی خوشی کا بیانیہ ہے اور اس بیانہ پر جتنا بھی بیانیہ بیانیہ ہوا جائے اتنا ہی یہ کار ثواب کا بیانیہ بنے گا۔

ویسے تو بیانیہ بہت ہی اچھا ہے لیکن اس بیانیے میں ہمارا بھی ایک بیانیہ ہے کہ نظام عشرو زکوٰۃ کا بیانیہ تو سود سے پاک و صاف بلکہ شفاف بینکوں کے ذریعے پایہ تکمیل کو پہنچا اور اس کی تقسیم کا بیانیہ بھی برسر اقتدار پارٹیوں کے مقرر کردہ صالحین بلکہ صادق و امین لوگوں کے ذریعے بخیر و خوبی لاگو رہا۔لیکن نظام صلوٰۃ کے بیانئے کے لیے لاگو اور نافذ کرنے والے کہاں سے آئیں گے کہ اس میں ثواب دارین نہیں بلکہ صرف ثواب دار ہے جس کا حساب کتاب اوپر کے رجسٹروں میں ہوتا ہے۔

نظام زکوٰۃ میں تو صرف بے جان سکوّں کو ٹھکانوں تک پہنچانا تھا اور وہ ہو گیا یعنی پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ لیکن نظام صلوٰۃ میں زندہ بندوں کو مساجد میں پہنچانا ہوگا۔ اور بندے سکوّں کی طرح نہ بے جان ہوتے ہیں، ان کے بارے میں تو کہا گیا ہے کہ۔

نحیف ونزار ہیں کیا زور باغباں پہ چلے

جہاں بٹھا دیا بس رہ گئے شجر کی طرح

لیکن نظام صلواۃ کا تھوڑا نظارہ ہمیں یاد ہے، قصہ خوانی بازار میں ایک بزرگ سیٹھی صاحب ہوتے تھے نماز کے وقت بازار میں چھلاوے کی طرح پھر پھر کر لوگوں کو روکتے اور انھیں مسجد کی طرف ہنکاتے ہوئے فرماتے۔ نماز کا وقت ہے نماز پڑھو۔ چونکہ وہ صرف ہنکا تے تھے بعد میں نہیں دیکھتے کہ بندہ مسجد کی طرف گیا یا نہیں کیونکہ انھیں اس سیلاب میں دوسروں کو بھی ہنکانا ہوتا تھا۔ اس لیے لوگ اس کی بات پر تھوڑی دیر رک کر مڑ جاتے اور جب اس کی توجہ اوروں کی طرح ہوتی تو اس کی پشت سے نکل جاتے تھے۔ آدمی نہایت ہی معصوم اور نورانی صورت کا تھا اس لیے لوگ اتنا احترام ضرور کرتے کہ ہاں کہہ کر رکتے اور دکھانے کے لیے تھوڑے مڑ جاتے۔

ان کی وفات کے بعد ان کا یہ کام ہمارے پشاور کے مشہور اور بزرگ صحافی صحرائی صاحب نے اپنے ذمے لے لیا تھا۔ اس کے بعد پتہ نہیں چلا کیونکہ ہمارا آب و دانہ پشاور شہر میں ختم ہو گیا۔ لیکن اب کوئی یہ ڈیوٹی نہیں دیتا ۔حضرت ضیاء الحق مرد حق جب ملک کو لاحق ہو گئے تو وہ بھی اورنگ زیبی اسلام کے زبردست داعی تھے۔اب یہاں شاید آپ اورنگزیبی اقدام کے بارے میں پوچھیں تو ہم معذرت کے ساتھ اس کا جواب کسی او وقت پر اٹھا دیتے ہیں صرف اتنا اشارہ کر دینا کافی ہوگا کہ اپنے باپ اور بھائیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بعد شاید احساس گناہ نے اسے بہت زیادہ ستانا شروع کیا تھا اور احساس گناہ سے بچنے کے لیے وہ دین کی خدمت میں کچھ زیادہ اوور ہو گیا تھا۔ تو مرد حق حضرت ضیاء الحق نے بھی نظام زکوٰۃ اور نظام صلوٰۃ دونوں جاری کر دیے تھے۔ ہمارے گاؤں کے ایک معزز خاندان کا ایک فرد تو زکوٰۃ کمیٹی کا ممبر بن گیا اور اس کے چچا زاد نے بھی خود کو کم نہ سمجھتے ہوئے صلوٰۃ کمیٹی جوائن کر لی۔لیکن کچھ روز بعد دوسرے والے کو احساس زیاں ہو گیا کہ زکوٰۃ کمیٹی خاصی مرغن تھی اور صلوٰۃ کمیٹی میں صرف دوسرے جہاں کا قرض ثواب تھا نقد ثواب کا دور دور تک شائبہ نہ تھا ۔

ایک دن ہم نے اسے چیر مین کے نام سے بلایا تو بولے ۔ چیرمین مت کہومزید بولا کرسی پر تو وہ بیٹھا ہے اس نے ماں کی نسبت سے اسے یاد کرتے ہوئے کہا میں تو سوکھی ساکھی پوزی پر بیٹھا ہوں۔ اپنے حریف کے بیٹے کو مرغن چرغن چیئر پر اور خود کو سوکھی ساکھی پوزی پر پاکر وہ خاصا اکھڑا ہوا ہوتا تھا۔ اسی طرح ایک دن اس نے ایک اور اصطلاح بھی ایجاد کر لی۔

حکومت کی ایسی تیسی کرتے ہوئے بولا، لوگوں کو اتنی اتنی بوٹیاں اور ہمیں صرف چاول بہت نا انصافی ہے اس ضیاء الحق کو میں حشر میں گریباں سے پکڑوں گا۔ لیکن کچھ روز بعد اس نے تھوڑی سی ترمیم کی اور اتنی اتنی بوٹیوں کے بجائے آدھی اینٹ جتنی بوٹیاں کردیا تھا۔اور یہی ڈر اب بھی ہے کہ نظام زکوٰۃ والوں کو آدھی اینٹ جتنی بوٹیاں اور صلوٰۃ والوں کے لیے تو شہ آخر کا پیکیج، کچھ زیادہ وارہ کھانے والا نہیں ہے ہاں اگر زکوٰۃ و عشر کی طرح بوٹیوں کا بھی کچھ بندوبست ہو جائے تو کامیابی یقینی ہے۔ لیکن یہاں پر ایک اور ڈاؤٹ ہے جو علامہ اقبال کا پیدا کردہ ہے کہ صلوٰۃ والے لوگوں کو مسجد کی طرف ہنکا تو دیں گے لیکن انھوں نے نماز پڑھی یا نہیں پڑھی وضو کیا یا نہیں کچھ پڑھا یا نہیں کیونکہ ہم نے اکثر فیل ہونے والوں سے سنا ہے۔ کہ ان کمبختوں نے نہ جانے کتنے بے وضو جنازے پڑھوائے اور پھر بھی ووٹ نہیں دیا۔ علامہ اقبال نے کہا ہے کہ

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے

من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

جب من ہی پاپی ہو تو ظاہر ہے کہ کمیٹی والے کتنے ہی لوگوں کو ہنکائیں نماز تو نہیں پڑھیں گے باقی جو کچھ پڑھیں گے اس کا کوئی بھی نام رکھ دیجیے۔ اس لیے ہمیں بہت سارے تحفظات ہیں کہ آیا نظام صلوٰۃ کا بیانیہ بھی نظام زکوٰۃ جیسا بھر پور بیانیہ ہو سکے گا یا نہیں۔ لیکن بیانیہ دینے والوں کا کیا ہے ان کا کام تو بیانیہ دینا ہوتا ہے اور وہ دے دیا جاتاہے۔کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ یہ پاکستانی قوم بھی دنیا کی عجوبہ ترین قوم ہے کہ ستر سال میں نہ دھوکا دینے والوں کا جی بھرا اور نہ ہی دھوکا کھانے والوں کا جی دھوکا کھانے سے بھرا

جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا

تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں