عدالت عظمیٰ نے آئین کے آرٹیکل 62(1)ایف کے تحت نااہلیت کی سزا تاحیات قرار دی ہے یعنی اس شق کے تحت نااہل ہونے والا شخص عمر بھر انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے گا۔ اس طرح اس معاملے میں قانون سازی کے وقت جو ابہام رہ گیا تھا وہ دور ہو گیا اور عدالت نے آئین و قانون کی تشریح کا اختیار استعمال کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ اس ضمن میں آئین کے بنیادی اصولوں کا تقاضا کیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم میں آرٹیکل 62 ون ایف میں نااہلی کے لئے میکنزم فراہم کیا گیا ہے، پارلیمنٹیرین کی نااہلی مفاد عامہ کا معاملہ ہے بنیادی حق مجروح نہیں ہوتا۔ اب آرٹیکل 62 اور 63 کا آئین 1973ء سے موازنہ کیا جائے تو ایک الگ صورت حال سامنے آتی ہے۔ اس وقت کی آئین ساز اسمبلی کے معزز ارکان نے نااہلیت کی شق میں دیوالیہ شخص کو آئین کی رو سے نااہل قرار دیا اور واضح طور پر لکھا تھا: جس کو نااہل قرار دیا جائے اس کے ووٹ کا اندراج نہیں ہو سکتا اور اسے الیکشن کے لئے نااہل تصور کیا جائے گا۔ بین السطور میں اس کا واضح مطلب یہی اخذ کیا گیا تھا کہ جس شخص کو عدالت کے ذریعے دیوالیہ قرار دیا جائے گا وہ عوامی عہدہ کے لئے نااہل ہو گا۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ بینکوں کے قرضے معاف کروانے کے لئے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اسے دیوالیہ قرار دیا جائے، دیوالیہ قرار پانے کے بعد ہی اس کے قرضے معاف کئے جاتے ہیں۔ اس شق کو لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت حذف کر دیا گیا اور اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے اس اہم شق کو ہمیشہ کیلئے خارج کرکے قرضے معاف کروانے والوں کے انتخابات میں حصہ لینے کی راہ ہموار کر دی گئی۔
متناسب نمائندگی کا اصول دنیا کی کم و بیش 57 اقوام نے اپنا رکھا ہے اور ہر ایک نے اپنے حالات کے مطابق اس کا اطلاق کیا ہے۔ وطنِ عزیز میں بھی ساری جماعتوں کے مشورے اور اتفاق سے ایسا کیا جا سکتا ہے تاکہ دولت کے ذریعے عوام و خواص کے ضمیر کی خرید و فروخت بند ہو جائے فرقہ، نسل، زبان، جاگیرداری اور سرمایہ داری کی بنا پر جو افرادی سیاسی حلقے بنائے جا چکے ہیں انہیں مسمار کیا جا سکے اور قوم کے باصلاحیت دانشور اور دیگر ماہرین کے علاوہ تجربہ کار صاحب فکر سیاسی کارکنوں کے لئے عوام کا نمائندہ چننے کی راہیں ہموار کی جا سکیں۔ اس نظام کے ذریعے صوبائی اور قومی سطح پر فکری یکجہتی اور عملی یگانگت کی ناگزیر ضرورت کو پورا کرنا بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ ہر قوم نے اپنی اپنی ضروریات کے مطابق اس پر قابو پایا ہے۔ ہم بھی اپنے سیاسی وفاقی ڈھانچے کو بر قرار رکھنے، صوبائی خود مختاری کو پورا کرنے اور مختلف طبقوں کی امور مملکت میں براہ راست شرکت کو لازمی بنانے کے لئے مناسب و ضروری تدابیر اختیار کر سکتے ہیں۔ متناسب نمائندگی کے حوالے سے ایسی تجاویز اہل دانش کے سامنے پہلے بھی پیش کی جاتی رہی ہیں۔ ایک غیر سیاسی پلیٹ فارم کے ذریعے ہم خیال سیاسی قائدین اور کارکنوں کو مسئلہ کے حل کے لئے اکٹھا کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ اس ضمن میں ایک تجویز یہ ہے کہ ملک بھر کے اہم مقامات پر اجتماعات ہوں اور وہاں ایک قومی مفاہمت اور اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔
پاکستان میں ہارس ٹریڈنگ انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ افراد اور خاندان سیاسی جماعتوں کی سربراہی پر قابض ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے اندر انتخابات عنقا ہیں۔ وفاداری سیاسی جماعت بلکہ قیادت کے ساتھ کارکن کے لئے معراج کا درجہ اختیار کر گئی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ متناسب نمائندگی کا نظام بعض منفی نتائج بھی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ رکاوٹ بھی سر فہرست ہے کہ مجوزہ نظام میں ایک پارٹی کے اندر نہ صرف ڈکٹیٹرشپ کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے بلکہ پارٹی کی فہرست میں شامل ہونے کے لئے سیم و زر کا عمل دخل بڑھ جانے کا اندیشہ بھی پیدا ہو جاتا ہے خصوصی طور پر پاکستان جیسے ملک میں جہاں سیاسی جماعتوں کا تنظیمی وجود ابھی تک جمہوری اصولوں اور قدروں کے مطابق اور آمرانہ فیصلوں سے مبرا نہیں ہو سکا۔ میرے خیال میں ان مشکلات کا تدارک ممکن ہے جس کے بارے میں لازمی طور پر اہل دانش کو اپنی تجاویز مرتب کرنی چاہئیں۔
پاکستان کی تاریخ کے اس مرحلہ پر چند امور بنیادی امور پر پاکستان کا ہر طبقہ، ہر ادارہ اور ہر سیاسی جماعت سب ایک ہی رائے رکھتے ہیں، مثلاً یہ کہ پارلیمانی جمہوریت پاکستان کی سیاست کی اساس ہے۔ یہ جمہوریت ہرگز قابل قبول نہ ہو گی اور نہ ہو سکتی ہے جب تک سیاسی جماعتوں کی بنیاد پر بالغ رائے دہی کے ذریعے عام انتخابات مکمل طور پر آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ نہ ہوں۔ اس تصور کی رو سے ایک سے زیادہ سیاسی جماعتوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اس لحاظ سے تمام سیاسی جماعتوں پر لازم ہے کہ وہ دوسری جماعتوں کے وجود کو پاکستان میں جمہوریت کی بقا اور استحکام کے لئے ایک ناگزیر حقیقت کے طور پر قبول کریں اور اپنے وجود کی بقا کے لئے صرف عوام سے فیصلہ طلب کریں۔ پاکستان کو بچانے اور قائم رکھنے کے لئے ملک کا ہر محب وطن شہری جمہوریت کو پروان چڑھتے ہوئے دیکھنے کا پابند ہے۔ میرا نظریہ یہ ہے کہ افواج پاکستان، عدلیہ، انتظامیہ اور قوم کے تمام دیگر طبقات پر لازم ہے کہ وہ پارلیمانی جمہوریت کے فروغ و استحکام کو اپنے ایمان کا جزو بنائیں اور اس سے کسی صورت انحراف گوارا نہ کریں۔
میرے علم اور یقین کے مطابق ماضی کے برعکس افواج پاکستان بالکل یہی چاہتی ہیں تاکہ قومی یکجہتی کا حصول ممکن ہو سیاسی جماعتوں کے درمیان معاندانہ محاذ آرائی ختم ہو جائے، باہمی رواداری، برداشت اور تحمل ہمارے سیاسی فکر و عمل کی بنیاد بنیں۔ نسل، زبان، قبیلہ برادری اور فرقہ واریت کی بنیاد پر جنگ و جدل ختم ہو اور قوم کی عظیم انفرادی قوت کو اندرونی اور بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے موثر ترین طور پر منظم کیا جا سکے۔ ایسا داخلی اتحاد افواج پاکستان کے دفاع وطن کے فریضہ کی ادائیگی کے لئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ محب وطن حلقے چاہتے ہیں کہ ملک میں آج اور ہمیشہ کے لئے پارلیمانی جمہوریت کا نظام مضبوط ہو، جمہوریت کے نام پر غیر عادلانہ حرکات بند ہوں، انتظامی کارروائیوں کے ذریعے جمہوریت کی روح کو فنا نہ کیا جائے اور ملک میں عدل و انصاف کی ایسی صورت پیدا کی جائے کہ اپنوں اور بیگانوں کو انتخابات کے ذریعے وجود میں آنے والے ایوانوں پر پورا اعتماد ہو۔ میری اس سوچ کے نتیجے میں ایک ایسا سیاسی معیار سامنے آتا ہے جس کی روشنی میں کسی بھی سیاسی کارکن، سیاسی جماعت یا کسی قومی ادارے کے موقف کو برحق یا ناجائز قرار دینا آسان ہو جاتا ہے۔
میری تجویز پر اعتراضات کی بھرمار بھی ممکن ہے اور کہا جا سکتا ہے کہ جب سیاسی نظام کو استحکام حاصل ہو رہا ہے تو آپ ایک ایسی تجویز سامنے لے آئے ہیں جس پر عمل کرنے سے یہ پھر عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ میں اگر یہ کہوں تو غلط نہ ہو گا کہ 2013ء کے انتخابات آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ نہیں تھے، اگرچہ یہ موضو ع طویل بحث کا متقاضی ہے لیکن میری رائے میں صرف اس قدر عرض کرنا ہی کافی ہے کہ مذکورہ انتخابات کے آخری مرحلے تک مکمل جانبداری کے ساتھ کام لیا گیا۔ تمام قومی وسائل کو انتخابات جیتنے کے لئے بے محابا استعمال کیا گیا۔ لوکل گورنمنٹ جیسے سینکڑوں اداروں کے وسائل اور انسانی ذرائع استعمال کئے گئے۔ انسانی مشینری کو نفسیاتی طور پر تیار کیا گیا کہ نواز لیگ کو ہر طور پر کامیاب کروانا ہے اور پھر حصول مقصد کے لئے ان سے پورا پورا کام لیا گیا۔ میرے نزدیک صرف ایسی حکومت ہی جو غیر جانبدارانہ انتخابات کے ذریعہ وجود میں آئے سیاسی جماعتوں کے درمیان عدل اور توازن قائم رکھنے کی اہل ہو سکتی ہے اور قومی مفاہمت کے لئے تدابیر اختیار کرکے ساری قوم کا اعتماد حاصل کر سکتی ہے۔ موجودہ حکومت اس کی اہل ثابت نہیں ہوئی۔
قوم کو اس وقت مہنگائی، گرانی اور بیروزگاری جیسے مسائل لاحق ہیں جن کا حل صرف قوم کی مجموعی قوت ہی سے ممکن ہے۔ ڈاکہ، قتل، اغوا، تشدد، دہشت گردی اور لا قانونیت نے ہر شہری کو عدم تحفظ کا شکار بنا دیا ہے۔ ان عفریتوں سے نجات بھی صرف اسی صورت میں ممکن تھی کہ ایوانوں کے اندر اور باہر ساری جماعتوں کو اعتماد میں لیا جاتا اور اس طریقے سے جمہوریت کی موجودہ شکل ہی کو قابل قبول بنایا جاتا۔ یہ ممکن تھا اور اب بھی ممکن ہے، لیکن حکمران قیادت کو سیاسی فہم و فراست، علم و بصیرت اور عدل پروری کا پیکر بنائے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا تھا اور نہ ہی ہو رہا ہے۔