''آج کے لگائے گئے یہ پودے آنے والے کل کو پھل دیں گے توکچھ تن آور درخت بن کر آنے جانے والوں کیلئے سکون بھرا سایہ فراہم کریں گے یہ الفاظ کمانڈر جعفر کے تھے جو بتا رہے تھے کہ گھارومیں پاک بحریہ کا سکول مکمل ہوتے ہی والدین کا اصرار شروع ہو گیا کہ ان کے بچوں کو بھی فیس کپڑا اور کتاب کاپی مفت دے کر داخل کیا جائے ۔انہیں جب بتایا گیا کہ ہم کو محکمے کی جانب سے ہر کلاس کے صرف پانچ پانچ بچوں کو مفت تعلیم اور کپڑا وردی دینے کی اجا زت ہے اس سے زیا دہ کی نہیں ۔۔۔لیکن گھارو سندھ کے یہ لو گ ایک ہی بات کہے جاتے صاحب سب قاعدہ او رقانون آپ ہی ہو ان بے چاروں کو کیا معلوم کہ فوج کا قاعدہ قانون اور ڈسپلن سب سے الگ اور سخت ہوتا ہے۔ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے پاکستان نیوی کے کمانڈر جعفر کہنے لگے کہ ہم سے ان والدین کی بے چارگی دیکھی نہ گئی۔ یہ بے چارے ہر روز امید لے کر سکول کے باہر اپنے بچوں کو لے کربیٹھ جاتے ایک رات Mess میں کھانا کھاتے ہوئے ہم نے فیصلہ کیا کہ ان ہاریوں اور مزدوروں کے بچوں کی تمام سکول فیس اور یونیفارم سمیت جوتوں اور کتابوں کاپیوں کے اخراجات ہم سب برداشت کریں گے اور اگر کوئی یہاں سے پوسٹ آئوٹ ہوا تو بھی وہ اپنی تنخواہ سے ان بچوں جن کی پہلی نسلوں نے کبھی سکول کا منہ تک نہیں دیکھا انہیں ہم اپنی ذمہ داری پر تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں گے اور اگلے دن ان افلاس زدہ سندھی مزدوروں کے بچوں کو ہم نے گھارو سکول میں داخل کرا دیا ۔۔۔ان بچوں کو آج اگر کوئی دیکھے تو یقین نہیں کرے گا کہ یہ وہی بچے ہیں ان کی گفتگو چلنے کے انداز سے غلامی اور بے چارگی کے جراثیم اپنی موت مر چکے ہیں ۔
دیکھنے اور سننے میں فرق کا تجربہ مجھے گوادر میں پاک بحریہ کاماڈل سکول اور اس کے طالب علموں کو دیکھ کر ہوا گوادر میں ہی پاکستان نیوی نے مقامی خواتین کو با عزت طریقے سے روزگار کمانے کیلئے بلوچ خواتین میں مقبول ملبوسات اور چادروں کی تیاری کیلئے دستکاری ورکشاپ قائم کر رکھی ہے۔ ورکشاپ میں کام سیکھنے والی میری ان بلوچ بیٹیوں کا کہنا تھا کہ اس ورکشاپ سے وہ باعزت طریقے سے اپنے خاندان کے روز مرہ کے اخراجات احسن طریقے سے پورے کررہی ہیں ۔
پاکستان میں اکثر محکموں میں یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ نیا آنے والا چیف جانے والے کے نشانات مٹانے یا انہیں نظر انداز کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ بحریہ میں ہر نئے آنے والے چیف جانے والے کی کوششوں اور منصوبوں کو پہلے سے زیادہ توجہ سے مکمل کرتے ہیں جس کی گواہی نئے نیول چیف ظفر عبا سی کے دیئے جانے والے احکامات سے دیکھنے کو مل رہی ہے۔ پاک بحریہ گوادر میں بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے ہائر ایجو کیشن کے تعاون سے'' یونیورسٹی میرین سائنسز ڈیپارٹمنٹ جیسا ایک اعلیٰ اور شاندار تعلیمی ادارہ قائم کرنے جا رہی ہے جہاں گوادر ا ورا س سے ملحقہ بلوچ آبادیوں کے نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں گے اور یقیناََ یہی بچے کل کو سایہ دار شجر بن کر بلوچستان کو چھائوں دیں گے ۔
پاکستان کے نظام زندگی کا جو پہیہ چل رہا ہے اس میں پاکستان نیوی کا کردار انتہائی اہم ہے اپنی کم تعداد اور محدود وسائل کے ساتھ اندرونی ا ور بیرونی دشمنوں میں گھرے ہوئے پاکستان کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنی سمندری حدود سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی نگہبانی پاکستان نیوی کی پہچان ہے۔
امریکہ، اسرائیل اوربھارت سمیت متعدد ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی سی پیک اور گوادر کی جانب گھورتی ہوئی خونخوار نظروں ،بن قاسم پورٹ سے کراچی تک پاک بحریہ جس طرح سمندروں کی ایک ایک لہر اور ساحل تک دن اور رات کی پروا کئے بغیر ،تند تیز طوفانوں اور یخ بستہ ہوائوں کا مقابلہ کرتے ہوئے چٹان کی طرح مضبوط کھڑی ہے اس کا ثبوت ۔۔تربت، گوادر ،ارمارہ، سجاول، رہبراور سر کریک میں ان افسروں اور جوانوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ہوا ۔
کسی بھی شخص، ادارے اور تنظیم کے ذہنوں میں تعلیم جیسے اہم ترین شعبے کے بارے میں جب یہ تصور راسخ ہو جائے کہ'' ملک و قوم کو اگر ترقی کی جانب محو سفر دیکھنا ہے قوم کو تہذیب اور جذبہ حب الوطنی سے سیراب کرنا ہے تو ان کی بنیادی تعلیم سے لے کر بہترین قسم کی فنی تعلیم کی تکمیل تک اسے حتی المقدور رسائی دینا ہو گی۔۔۔شائد یہی وجہ ہے کہ اپنی کوسٹل حدود میں آنے والی آبادیوں کے نو جوانوں کو ان کی دہلیز تک تعلیم کی سہولت دینے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انہیں بھی قومی دھارے میں سب کے ساتھ برا بری کی بنیاد پر کھڑے ہونے کا مواقع مل سکیں اور پاکستان بحریہ کا عزم اور ارادہ اس دفاعی ادارے کی انفرادی خدمت کے علا وہ قومی خدمت کی بھی اعلیٰ مثال کہا جا سکتا ہے۔۔۔۔ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان بحریہ کے زیر اہتمام سکولوں، کالجوںا ور یونیورسٹیوں میں 70 ہزار سے زائد پاکستان کی نو جوان نسل مختلف شعبوں اور مضامین کی تعلیم سے فیض یاب ہو رہی ہے۔
پاکستان بحریہ کا کمال یہ ہے کہ چونکہ وہ سمندر کے ساتھ ساتھ بہتی ہے اس لئے اپنے سمندر کے ساتھ اور رستے میں آنے والے ساحلوں اور اس کے باسیوں کو اپنے دامن کی وسعتوں اور گہرائیوں سے فیض یاب کرنے میں پیش پیش رہتی ہے اومارہ، گوادر، تربت میں مقامی آبادیوں میں پاکستان نیوی کے تعمیر کئے گئے سکولوں میں انہی آبادیوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو پرائمری سطح کی تعلیم برائے نام فیس کے ساتھ مہیا کی جا رہی ہے۔ کراچی میں قائم بحریہ ماڈل سکول کی بات کریں تو اس روشنیوں سے بھرے شہر کے اس سکول میں داخل کسی بھی بلوچ طالب علم سے فیس یا داخلے کے نام پر ایک پائی بھی فیس وصول نہیں کی جا تی اور کراچی سمیت بلوچستان کے ساحلی علا قوں گوادر، تربت، اومارہ کے سکولوں سے فارغ التحصیل طلبا کیلئے پاکستان بحریہ کے زیر انتظام کیڈٹ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ان کیلئے نشستیں مخصوص کی جاتی ہیں ۔ چیف آف نیول سٹاف چائلڈ سپانسر سکیم کے تحت ساحلی علاقوں کے ایسے غریب ترین لیکن ہونہار طالب علموں کیلئے بالکل مفت تعلیم کی الگ سے سہولت ہے۔ بلوچستان کی سمندری حدود میں واقعہ اومارہ کیڈٹ کالج کا نام سامنے آتا ہے تو نا قابل یقین سہولتوں سے مزین اس کیڈٹ کالج میں تعلیم اور نظم و ضبط سے بھر پور ماحول میں پچاس فیصد سے زائد طالب علموں کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ اومارہ کیڈٹ کالج میں تعلیم حاصل کرنے والے ساحلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ان بچوں سے کسی بھی قسم کی فیس یا کتابوں کا خرچہ نہیں لیا جا تا حتیٰ کہ ان کے بورڈنگ کی تمام سہولیات بھی مفت فراہم کی جا رہی ہیں اور ان میں بہت بڑی اکثریت نے سرداری نظام کے جابر پہروں میں اپنی اولاد کو کبھی اس قسم کے ماحول، لباس اور کتابوں کے ساتھ دیکھنے کا خواب میں بھی تصور نہیں کیا تھا DGPR پاک بحریہ کمو ڈور ارشدنے یہ بتا کر مزید حیران کر دیا کہ ا ب تک بلوچستان کے ساحلی علا قوں سے84 کیڈٹس اور822 سیلرز کو پاکستان نیوی میں عمر اورتعلیم کی خصوصی رعائت دے کر بھرتی کیا گیا ہے۔۔۔یہی تو وہ پودے تھے جو شجر بن کر گھٹے ہوئے ماحول میں خوشگوار تبدیلی لا ئیں گے ۔۔۔