الیکشن مہم کا آغاز ہوچکا ہے لیکن کچھ نامی گرامی سیاستدان ایسے بھی ہیں جنہیں ابھی تک25جولائی کو الیکشن ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ ایک محترم تو ایسے بھی ہیں جو باہر یہ کہتے ہیں کہ الیکشن ملتوی ہوئے تو ملک کا نقصان ہوجائے گا لیکن بند کمرے میں مجھے کہنے لگے تم 25جولائی کو الیکشن کے انعقاد کی اتنی حمایت کیوں کرتے ہو، تین چار مہینے کے التوا سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک اور سیاستدان کو میں احترم سے چاچا کہتا ہوں۔ تین دہائیوں سے نواز شریف کے ساتھ ہیں۔ آج کل اس پرانے ساتھ کو ختم کرنے کا موقع تلاش کررہے ہیں لیکن الیکشن کی وجہ سے مشکل میں پڑ گئے ہیں۔ خاندان کہتا ہے آزاد امیدوا ر کے طور پر الیکشن لڑو، ووٹر کہتے ہیں مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑو لیکن چاچے کو مسلم لیگ(ن) کا مستقبل مخدوش نظر آتا ہے۔ کل چاچے نے فون کیا اور کہا الیکشن ہوگا یا نہیں؟ میں ہنس دیا اور کہا چاچا کنفیوژن سے نکل آئو اور الیکشن کی تیاری کرو۔ چاچے نے کہا مجھے یقین ہے میں جیت جائوں گا لیکن جیت کر مشکل میں پڑجائوں گا اس لئے دل چاہتا ہے الیکشن ملتوی ہوجائے۔ میں نے ازراہ تفنن کہا کہ چاچا یہ آپ کا دل نہیں ہے کسی اور کا دل بھی کہتا ہے کہ الیکشن چند ہفتوں کے لئے ملتوی ہوجائے تو شاید مسلم لیگ(ن) کی نشستیں مزید کم ہوجائیں گی لیکن چاچا مجھے کسی پارٹی سے


کچھ لینا دینا نہیں ہے میرا مسئلہ صرف یہ ہے کہ آئین کے تحت مقررہ وقت پر الیکشن ہونا چاہئے کیونکہ جس پارٹی نے بھی حکومت بنانی ہے اپنی تو اس سے لڑائی ہوجانی ہے لہٰذا میرا کوئی فیورٹ نہیں۔ چاچے نے پہلے تو مجھے جلی کٹی سنائیں پھر سارے جہاں کا درد اپنے لہجے میں سمیٹ کر بولا تم کیا جانو سیاست کتنا مشکل کام ہوگیا ہے۔ اس قوم کی مشکلات کا نیا دور الیکشن کے بعد شروع ہوگا اس لئے رحم کرو اور الیکشن کے التواء کے لئے آواز بلند کرو۔ میں نے اپنے اس پیارے چاچے کے ساتھ بڑے ادب سے اختلاف کیا اور کہا چاچا معرکہ چالو ہونے والا ہے معرکے کی تیاری کرو۔ مجید لاہوری نے کہا تھا؎
معرکہ چالو ہے ووٹوں کی طلبگاری کا
امتحاں ہے تیرے ایثار کی خودداری کا
چاچے نے پوچھا یہ مجید لاہوری کون تھا؟ میں نے بتایا کہ کسی زمانے میں روزنامہ جنگ میں کالم لکھتے تھے اور مزاحیہ شاعری کرتے تھے۔ پھر میں نے کچھ مزید گستاخی کرتے ہوئے کہا کہ چاچا ذرا سنو مجید لاہوری نے کسی سیاستدان کے بارے میں کیا خوب کہا؎
عہدوں کا ہمیشہ ہی طلبگار رہا ہوں
کرسی کا بہرحال پرستار رہا ہوں
سب جانتے ہیں حامیٔ سرکار رہا ہوں
حاکم ہو کوئی اس کا وفادار رہا ہوں
یہ سن کر چاچے نے جس ردعمل کا اظہار کیا وہ ناقابل اشاعت ہے۔ چاچے نے بتایا کہ چودھری نثار علی خان سے ملنے راولپنڈی آرہا ہوں تمہیں بھی ملوں گا اور بتائوں گا کہ بے وفا ہم نہیں بےوفا نواز شریف ہے۔ چاچے کی زبان سے نواز شریف پر بے وفائی کا الزام سن کر میری پھر سے ہنسی چھوٹ گئی کیونکہ غالب امکان یہی ہے کہ چاچا مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے گا اور جیتنے کے بعد اپنا سب کچھچکری والے چودھری پر نثار کردے گا۔ چودھری نثار کا نیا روپ دیکھ کر عبید اللہ علیم یاد آتے ہیں، انہوں نے کہا تھا؎
بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص
ہوا چراغ تو گھر ہی جلا گیا اک شخص
چودھری نثار پر اکثر اوقات نثار رہنے والے شہباز شریف کو سمجھ نہیں آرہی کہ وہ اپنے دوست کی دھمکیوں پر کیا بولیں۔ موجودہ صورتحال میں پروین شاکر ان کی ترجمانی کچھ یوں کرسکتی ہیں؎
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
اس سے اگلا شعر جاوید ہاشمی پر صادق آتا ہے جو نواز شریف اور شہباز شریف کو خوب برا بھلا کہہ کر اور ان کی بے وفائیوں کیزندہ تاریخ قلم بند کرنے کے بعد واپس مسلم لیگ(ن) میں آگئے ہیں اور مسلم لیگ(ن) والوں نے بادل نخواستہ انہیں پارٹی ٹکٹ بھی دے ڈالی ہے کیونکہ بقول پروین شاکر؎
وہ کہیں بھی گیا، لوٹا تو میرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی میرے ہرجائی کی
جاوید ہاشمی صاحب یاد رکھیں کہ سیاستدان اپنے ایک بیان کی تردید کرسکتا ہے لیکن پوری کی پوری کتاب کی تردید نہیں کرسکتا۔ انہوں نے اپنی کتابزندہ تاریخ میں شہباز شریف کے بارے میں جو لکھا ہے اسے ہاشمی صاحب تو بھلا سکتے ہیں لیکن شہباز شریف کیسے بھلائیں گے؟ زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ؎
اگرچہ تجھ سے بہت اختلاف بھی نہ ہوا
مگر یہ دل تیری جانب سے صاف بھی نہ ہوا
دلوں کے صاف ہونے کا کوئی ثبوت ہمارے سامنے نہیں آیا۔ الیکشن کے زمانے میں دلوں کی کدورتیں بڑھ جاتی ہیں۔ لوگ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ اورہیں۔ راولپنڈی میں تحریک انصاف کی طرف سے شیخ رشید احمد کی حمایت کی جارہی ہے لیکن پتہ یہ چلا کہ تحریک انصاف کی طرف سے راولپنڈی میں صوبائی اسمبلی کے ایک امیدوارنے خاموشی سے شیخ رشید احمد کے خلاف مسلم لیگ(ن) کے ایک قومی اسمبلی کے امیدوار کے ساتھ گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔ یعنی دونوں اپنی پارٹیوں کو دغا دیں گے۔ اس الیکشن سے پہلے ٹکٹوں کی تقسیم پر تحریک انصاف کے اندر بڑی ہڑبونگ مچی۔ پرانے انصافیوں کو شکوہ تھا کہ نئے آنے والے لوٹوں کو زیادہ پذیرائی مل رہی ہے۔ تحریک انصاف کے پرانے کارکنوں کی حالت ساغر صدیقی سے مختلف نہیں رہی جس نے کہا تھا؎
دستور یہاں بھی گونگےہیں فرمان یہاں بھی اندھے ہیں
اے دوست خدا کا نام نہ لے ا یمان یہاں بھی اندھے ہیں
بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کرنے والے انصافیوں کو دیکھ کر اپنے وجیہ ثانی کا یہ شعر بھی خوب یاد آتا ہے؎
ریزہ ریزہ سپنوں والے ٹوٹے چہرے آدھے لوگ
جانے والے کب آتے ہیں کیوں کرتے ہیں وعدے لوگ
ایک وعدہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھی کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ کچھ بھی ہوجائے الیکشن 25جولائی کو ہوں گے اور اگر یہ الیکشن 25جولائی کو ہوتا ہے تو اس کا کچھ نہ کچھ کریڈٹ چیف جسٹس اور ان کے ساتھی ججوں کو ملنا چاہئے جنہوں نے الیکشن کے التوا کے لئے گھڑے جانے والے کسی فسانے کو حقیقت نہ بننے دیا۔ شورش کاشمیری صاحب نے اپنے زمانے کی اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے بارے میں کچھ الفاظ کہے تھے، یہ الفاظ مسلم لیگ(ن) والوں سے معذرت کے ساتھ دہرا رہا ہوں؎
آپ کے دم خم سے ہے انصاف کا حسن و جمال
ورنہ اس دنیا میں ناداروں کا جینا تھا محال
ہم سیاست کے بیابانوں میں دیتے ہیں صدا
اب عدالت کے سوا کوئی نہیں اپنا رہا