انگور کئی رنگوں میں آتے ہیں اور ہر رنگ میں نہ صرف خوشنما نظر آتے ہیں بلکہ خوش ذائقہ بھی ہوتے ہیں۔ سبز، سرخ اور اودے انگور بچوں اور بڑوں کے پسندیدہ ترین پھلوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انگوروں سے جام، جیلی اور جوس تیار کرنے کے علاوہ انہیں خشک کرکے کشمش اور منقیٰ بھی بنائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ انگوروں سے دنیا بھر میں بڑی مقدار میں شراب بھی کشید کی جاتی ہے۔ اس پھل کی کاشت تقریباً آٹھ ہزار سال پہلے شروع ہوئی اور آج دنیا بھر میں تقریباً 72ملین ٹن انگور سالانہ کاشت کئے جاتے ہیں۔ ماہرین کی تحقیق کے مطابق انگور میں صحت کیلئے کئی فوائد پوشیدہ ہیں اور یہ کینسر، دل کی بیماری، بلڈپریشر اور قبض کی شکایت دور کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ان میں بڑی مقدار میں پوٹاشیم، وٹامنز اور معدنیات پائے جاتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ انگوروں میں موجود فائبر اور پانی کی بڑی مقدار صحت کیلئے خاصی مفید ثابت ہوتی ہے۔
انگوروں میں انتہائی طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس Polyphenols موجود ہوتے ہیں، جن میں سے ایک Reveratrol ہے جو کہ سرخ انگوروں میں پایا جاتا ہے۔ لیبارٹری ریسرچ سے ثابت ہوا کہ مذکورہ اینٹی آکسیڈنٹ کینسر کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انگوروں میں پائے جانے والے Polyphenols بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے اور دل کی بیماری کا خطرہ کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ جبکہ انگوروں میں موجود پانی اور فائبر قبض کی شکایت دور کرتا ہے۔
2013ء میں کی جانے والی ایک طبی تحقیق سے معلوم ہوا کہ انگور کھانے سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ انگوروں میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس، Lutein اور Zeaxanthin آنکھوں کی صحت برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں اور انہیں موتیا بند وغیرہ سے بچاتے ہیں، تاہم اس سلسلے میں مزید تحقیق جاری ہے کیونکہ ماہرین اس مقصد کوشاں کیلئے ہیں کہ انگوروں کی افادیت کی تصدیق حتمی طور پر کریں۔