ٹی وی صحافت کی وجہ سے ایک اصطلاح متعارف ہوئی ہے: نیوزسائیکل (News Cycle)۔اس کی وجہ سے خبروں اور حالاتِ حاضرہ کے دھندے سے متعلق لوگوں کو یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ کم از کم 36گھنٹوں اور زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کے دوران میڈیا نے مجموعی طورپر کن موضوعات پر اپنی توجہ مرکوز رکھی ۔ یہ بھی فرض کرلیا جاتا ہے کہ اگر کوئی ٹی وی نیٹ ورک یا Ratingsکا شیر کہلاتا اینکر ان موضوعات سے ہٹ کر کوئی بات کرے گا تو ناظرین کی مؤثر تعداد اسے دیکھنے میں دلچسپی نہیں لے گی۔ یہ عدم دلچسپی Ratingsپر اثرانداز ہوگی اور اشتہار دینے والے گھبرا جائیں گے۔


گزشتہ دوبرسوں سے امریکہ میں نیوز سائیکل کے بارے میں کئی تحقیقاتی مضامین لکھے گئے ہیں۔دریافت یہ ہوا کہ ٹرمپ کے حوالے سے اندھی نفرت اور عقیدت میں مبتلا ہوئے امریکہ میں تقریباََ ہر خبر اور ٹاک شو امریکی صدر کی ذات تک محدود رہتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی اہم ترین موضوعات کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔

محض امریکی صدر کو خبروں اور ٹاک شوز کا موضوع بنائے رکھنا امریکی میڈیا کی روایت نہیں تھی۔ Foxٹی وی نے مگر مسلسل 8برس تک اوبامہ کو اپنا موضوع بنائے رکھا۔ مسلمان باپ کے اس بیٹے کی امریکی شہریت کو جعلی ٹھہرانے کے بعد سفید فام امریکی اکثریت کو جارحانہ سیاپا فروشی کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش ہوئی کہ اوبامہ کسی گہری سازش کے تحت وائٹ ہائوس پر مسلط ہوا ہے۔ اس کی تمام پالیسیوں کا مقصد امریکہ کو دنیا کی واحد سپرطاقت ہونے کے مقام سے گراکر ایک ایسا ملک بنانا ہے جہاں سرمایہ کاری نہ ہو۔ لوگوں کو روزگار نہ ملے۔ سفید فام امریکی بتدریج تارکینِ وطن کے مقابلے میں کمزور اقلیت بن جائیں۔

اوبامہ کے خلاف پھیلائی یہ سب باتیں اندھی نفرت پر مبنی تھیں۔ ٹھوس اعدادوشمار ان باتوں کو جھوٹا ثابت کرتے تھے۔ نفرت پر مبنی جھوٹی کہانیوں کو پھیلانے کی وجہ سے Foxمگر امریکہ کا Ratingsکے حوالے سے نمبرون ٹی وی نیٹ ورک بن گیا۔ اس کے حریف چینلوں کو معاشی اعتبار سے اپنا وجود برقراررکھنا بھی ناممکن دکھائی دینے لگا۔

ٹرمپ کے انتخاب نے مگر حالات بدل دئیے۔Foxاب بھی مقبول ترین ہے مگر اس کے مقابلے میں CNBC,CNNاور ABCوغیرہ بھی بہت تیزی سے اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت بحال کررہے ہیں۔ ان کا دھندا محفوظ ہی نہیں ہوا بلکہ بھرپور منافع بھی کمانا شروع ہوگیا۔نیوز سائیکل مگر امریکی صدر کی ذات تک محدود ہوگیا ہے۔
ٹرمپ کے حامی اس کی وجہ سے بدستور Foxدیکھتے چلے جارہے ہیں لیکن امریکی صدر کے مخالفین اتنی ہی تعداد میں ٹرمپ پر کڑی تنقید کرنے والوں کی جانب راغب ہورہے ہیں۔ٹھوس اعدادوشمار کا جائزہ لینے والے محققین کو مگر یہ خدشہ لاحق ہوگیا ہے کہ ٹرمپ کی ذات کی بنیاد پر اندھی نفرت اور عقیدت پر مبنی صحافت کا یہ چلن جاری رہا تو بتدریج امریکی ناظرین کی اکثریت اس صحافت سے اُکتا جائے گی۔Netflixجیسے پلیٹ فارموں نے ممکنہ اُکتاہٹ کو بھانپ لیا ہے۔یوٹیوب بھی ذرا ہٹ کر صحافت کرنے والوں کو نئے راستے دکھارہا ہے۔

نیوزسائیکل کے تناظر میں اپنے گھر بیٹھا کئی روز سے میں ریموٹ گھماتا وطن عزیز کے ٹی وی نیٹ ورکس کا جائزہ لے رہا ہوں۔ یہ بات فوراََعیاں ہوگئی کہ ہمارے ہاں کا نیوزسائیکل بھی فقط عمران خان صاحب کی ذات تک محدود ہوچکا ہے۔ اس ضمن میں عمومی رویہ اگرچہ فی الوقت Foxنیوز والا ہے جس کے ذریعے خان صاحب کی اکثرباتوں کو ذاتی طورپر انتہائی ایمان دار شخص ٹھہراتے ہوئے ناتجربہ کاری کا نتیجہ بتایا جارہا ہے۔ وزیر اعظم کو جارحانہ انداز میں تنقید کا نشانہ بنانے کی فی الوقت گنجائش موجود نہیں۔ ان پر تنقید کرتے ہوئے لہجے کو دھیما رکھتے ہوئے محتاط الفاظ استعمال کرنا ہوتے ہیں۔ شریف خاندان کی چوریاں اور آصف علی زرداری سے منسوب کئے فالودے والوں کے بینک اکائونٹس کی تفصیلات بتانے کے لئے مبینہ والی احتیاط بھی البتہ ضروری نہیں رہی۔

مجھے قوی امید تھی کہ آنے والے کئی مہینوں تک یہ صورت حال برقرار رہے گی۔ خان صاحب مگر اپنے مخالفین کا دھندا بند نہیں ہونے دیتے۔ پنجاب میں عثمان بزدار صاحب کو تعینات کررکھاہے۔ وفاق میں اعظم سواتی ہیں اور اب زلفی بخاری۔ ان تینوں حضرات کا ذکر نہ ہورہا ہو تو خان صاحب ازخود ایک انٹرویو دے کر ہمیں حیران و ششدر کردینے والی کئی باتیں کہہ دیتے ہیں۔ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی گراوٹ کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں تو سوشل اور ریگولر میڈیا یہ طے کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں کہ اسدعمر وزارت خزانہ کے منصب پر فائز رہیں گے یا نہیں۔ تحریک انصاف کے Manifestoپر کونسا قومی ادارہ کس حد تک عمل پیرا ہے۔ نئے پاکستان کی حقیقی بنیاد کونسے عدالتی فیصلے نے ڈالی تھی۔ وغیرہ وغیرہ۔

چسکے کی حد تک اعظم سواتی کے کارہائے نمایاں،فیصل واڈا کا کراچی میں چینی قونصل خانے کے باہر کمانڈو ایکشن اور زلفی بخاری کی سیاسی قوت واثرورسوخ کا ذکر میرے کمینے دل کو بھی تھوڑی دیر کو کافی تسکین پہنچاتا ہے۔ذات کا رپورٹر ہوتے ہوئے اکثر یہ سوچنے پر لیکن مجبور ہوجاتا ہوںکہ ہمارے ہاں کا نیوز سائیکل واقعتا ان خبروں کو خالصتاََ پیشہ وارانہ انداز میں اہمیت دے رہا ہے یا نہیں جو پاکستان کے وسیع تر تناظر میں بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ٹھنڈے دل سے بہت غور کے بعد ذہن میں کھدبد کرتے اس سوال کاجواب نفی میں آیا ہے۔

اپنے ذہن میں آئی بات کو سمجھانے کے لئے فی الوقت زلمے خلیل زاد کا ذکر کروں گا۔ امریکی صدر نے اسے افغانستان کا مسئلہ حل کرنے کے لئے اپنا خصوصی مشیر تعینات کیا ہے۔ وہ تین روز سے پاکستان میں ہے۔ اس کی پاکستان آمد سے قبل امریکی صدر نے وزیر اعظم پاکستان کو ایک خط لکھا ۔ اس خط کا متن کیا ہے اس کا علم شفاف اور بے باک صحافت کے اس موسم میں نہ امریکی صحافیوں کو ہے نہ پاکستانیوں کو۔

ٹی وی اینکروں کے ساتھ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں وزیر اعظم پاکستان نے اس خط کی وصولی کا سرسری تذکرہ کیا۔ وزارتِ خارجہ نے اس ضمن میں فقط یہ تاثر دیا کہ امریکی صدر کو احساس ہوگیا ہے کہ پاکستان کے خلاف بدکلامی پر مبنی ٹویٹس کے ذریعے وہ ہمیں تھلے نہیں لگاسکتا۔ گیدڑبھبھکیوں پر مبنی ٹویٹس سے کچھ حاصل نہ کرسکنے کے بعد وہ بندے کے پتروں کی طرح ہمیں سفارتی زبان میں ایک خط لکھنے پر مجبور ہوا۔ اس خط کے ذریعے اس نے افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی اہمیت کا اعتراف کیا اور ا پنے ملک پر اس مسئلے کی وجہ سے نازل ہوئی آفتوں کے تدارک کے لئے ہمارے وزیر اعظم سے تعاون کی درخواست کی۔

عمران خان صاحب کی ذات اور سیاست کے بارے میں ذاتی تحفظات سے بالاترہوکر پاکستانیوں کو بحیثیت مجموعی امریکی رویے میں ہماری وزارت خارجہ کی جانب سے بتائی اس تبدیلی کے بارے میں اطمینان کا اظہار کرنا چاہیے۔ اطمینان کی یہ لہر مگر ہمارے نیوز سائیکل میں نظر نہیں آرہی۔ اسی باعث ہمیں یہ خبر ہی نہیں کہ اپنے تین روزہ قیام کے دوران زلمے خلیل زاد کن موضوعات پر توجہ دیتا رہا۔ اس کی جانب سے کیا درخواستیں ہوئیں۔ ان میں سے کتنی باتوں پر تعاون کا وعدہ ہوا۔ کونسی باتوں کو نظرانداز کردیا گیا اور کس فرمائش کے جواب میں صاف انکار ہوا۔

زلمے خلیل زاد کا پاکستان میں قیام صحافتی زبان میں Below The Radarرہا ہے۔ ہمارے کئی معتبر ومؤقر صحافیوں نے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ اعظم سواتی اور زلفی بخاری کے بارے میں چسکہ فروشی سے کام چلایا جارہا ہے۔ ایک اہم ترین خبر اور موضوع کوکماحقہ توجہ نہیں ملی۔ مجھے اس عدم دلچسپی نے پریشان کردیا ہے۔