سیاست، احتساب، خود نمائی سب کچھ ہی بہت زوروں پر ہے۔ پچھلے دنوں ابوظہبی کے ولی عہد جنرل شیخ محمد بن زید النہیان ایک دن کے لئے پاکستان تشریف لائے اور بہت کچھ دے گئے۔ تعجب کی یہ بات ہے کہ آپ ایک طویل عرصہ کے بعد آئے، وجہ نواز شریف کی غیر دوستانہ پالیسی تھی حالانکہ امارات سے ہمارے بہت پرانے تعلقات ہیں۔ یہ تعلقات بھٹو صاحب نے شیخ زید بن النہیان صدر امارات سے قائم کئے تھے اور صدر نے ہمیشہ پاکستانیوں کے ساتھ بہت محبت کا اظہار کیا تھا۔ یہ تعلقات جنرل ضیاء الحق نے بھی قائم رکھے اور پاکستانیوں نے امارات میں بہت اچھی پوزیشن حاصل کر لی تھی، بینکوں اور لاتعداد دوسری اہم پوزیشن پر پاکستانی متعین تھے۔ آہستہ آہستہ ہماری غلط پالیسیوں اور ہندوستان کی اچھی پالیسیوں کی وجہ سے ہماری پوزیشن بہت خراب ہو گئی۔ ولی عہد جنرل شیخ محمد مجھ سے بے حد محبت کرتے تھے جب بھی ہم دبئی گئے انہوں نے ضرور ابوظہبی آنے کی دعوت دی اور اپنے تمام بھائیوں سے ملاقاتیں کرائیں۔ اپنی روایات کے مطابق اُنہوں نے بہت اچھے تحائف دینا چاہے مگر جنرل چوہان اور میں نے بہت شکریہ کے ساتھ معذرت کر لی۔ اُمید ہے کہ موجودہ حکومت امارات، قطر، عمان، کویت، سعودی عرب سے تعلقات کو بہت اہمیت دے گی تاکہ پاکستانی وہاں ملازمتیں حاصل کرسکیں۔


دراصل میں آج دو دیوہیکل صحافی و شاعر کی کتب کے بارے میں کچھ آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہ رہا ہوں۔

(1)پہلی شخصیت، ملک کے معروف و مشہور صحافی، ادیب جناب الطاف حسن قریشی کی ہے۔ آپ کی شخصیت پر ڈاکٹر طاہر مسعود نے ایک نہایت اعلیٰ کتاب الطافِ صحافت کے نام سے مرتب کی ہے۔ یہ کتاب ڈاکٹر طاہر مسعود نے جناب الطاف حسن کی شخصیت، خاندانی بیک گرائونڈ اور صحافتی و ادبی خدمات پر ترتیب دی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ سمندر کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ الطاف حسن قریشی صاحب سے میری بھی قربت رہی ہے، آپ بات کرنے سے پہلے مسکرا دیتے ہیں یہ اعلیٰ خاندانی تربیت کی عکاسی کرتا ہے۔ صحافت میں آپ ان چند اِماموں میں سے ہیں جنھوں نے پاکستان میں اعلیٰ صحافت کی بنیاد ڈالی، ان مشعل برداروں میں جناب میر خلیل الرحمٰن، حمید نظامی مرحوم، مجید نظامی مرحوم، شورش کاشمیری صاحب، مجیب الرحمٰن صاحب، مشتاق احمد یوسفی مرحوم، سیّد ضمیر جعفری صاحب، عطاء الحق قاسمی صاحب وغیرہ شامل ہیں۔ روزمرہ کی صحافت اور حکومت سے نہ ڈرنے والوں اور غلط کاموں پر کھلے عام تنقید کرنے والوں میں الطاف حسن قریشی صاحب اور مجیب الرحمٰن شامی صاحب وغیرہ سرفہرست ہیں۔ اس اعلیٰ کتاب پر جناب مشتاق احمد یوسفی، سید ضمیر جعفری، وُسعت اللہ خان، جناب مجیب الرحمٰن شامی اور محترمہ سلمیٰ اعوان کے اعلیٰ تبصرے موجود ہیں۔ ان کے علاوہ پوری کتاب لاتعداد اعلیٰ شخصیات کے ذاتی تاثرات سے بھرپور ہے۔ جناب الطاف حسن قریشی صاحب ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک ہیں، نہ صرف اعلیٰ مصنف و ادیب ہیں بلکہ بہت اچھے شاعر بھی ہیں۔ یہ کتاب 534صفحات پر مشتمل ہے اور اس کو کراچی سے بہت عمدہ پیرایہ میں شائع کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میر تقی میرؔ کا یہ شعر الطاف حسن قریشی صاحب پر صادق آتا ہے۔

پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ

افسوس کہ تم کو میرؔ سے صحبت نہیں رہی

جہاں تک برادرم ڈاکٹر طاہر مسعود کا تعلق ہے، ان کے لئے داغؔ کا یہ شعر مستعار لیتا ہوں۔

خط ان کا بہت خوب، تحریر بھی اچھی

اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

(2) دوسری نہایت اعلیٰ اور سحر افروز کتاب ہمارے دوست جناب نسیم سحر کی کلیات نسیم سحرؔ ہے۔ یہ ضخیم یعنی موٹی کتاب، 1720صفحات شاعری اور تقریباً 20صفحات تصاویر پر مبنی ہے۔ اللہ پاک بھائی نسیم سحر کو تندرست، خوش و خرم رکھے، عمر دراز کرے اور ہر شر سے محفوظ رکھے۔ آمین! چند سطور اس کتاب کے بارے میں:

جناب نسیمِؔ سحر خوبصورت شعر کہتے ہیں، ان کی حمد بھی بندگی تمثال اور نعت بھی عقیدت بھری!

عطا ہوئے ہیں قرینے تو نعت لکھی ہے

بنے ہیں لفظ نگینے تو نعت لکھی ہے

جناب نسیمِؔ سحر کی کلیات کے سلسلے کے کئی مجموئے دیکھے، زیر نظر کلیات میں ان کے تیرہ مجموعے شامل ہیں، دو حمد اور نعت کے باقی ادب کی دیگر اصناف کے، جناب سحر نے حمد اور نعت کے علاوہ، غزل، نظم، ہائیکو اور قطعہ کہا ہے، ان کے کلام میں معنویت ہے وسعت اور لفظوں کو برتنے کا سلیقہ بھی، الفاظ پر ان کی گرفت کا یہ عالم کہ ایک ہی شعر میں حمد اور نعت دونوں مفہوم بیان کر دیتے ہیں!

ثنائے ربِ جلیل ہے اور روشنی ہے

نبی کا ذکرِ جمیل ہے اور روشنی ہے

جناب نسیمِؔ سحر جدید و قدیم کا خوبصورت امتزاج ہیں، ریت کی زندگی کے عنوان سے عہدِ رفتہ کی پیمائش کے اس طریقے کا ذکر کیا جس سے آج کی نسل بے خبر ہے، وہ ذومعنی بات کرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں، جب، وی آئی پی کلچر کے لئے گھر کو سب جیل کا درجہ ملنے کی خبر آئی تو نسیم سحر نے کہا!

قفس کا نام اب تبدیل کر دیں

یہی جب آشیانہ ہو گیا ہے

جناب نسیم سحر کے کلام پر ملک کے جدید لکھاریوں، جناب محسن احسان، جناب شوکت واسطی، جناب ایوب محسن، جناب انور سدید اور جناب بشیر سیفی کی ماہرانہ رائے موجود ہے۔ نسیم سحر کے کلیات کی اشاعت تشنگانِ شعر و ادب کے لئے کسی طور پر بے لوث تحفے سے کم نہیں جس پر ان کا خیال ہے کہ

رفاقتوں کے صلے میں کچھ تو وصول ہو گا

یہ دیکھنا ہے کہ وہ زخم ہوگا یا پھول ہو گا

جناب نسیم سحر بعض ترشی آمیز الفاظ اس خوبصورتی سے شعر کے قالب میں ڈھالتے ہیں کہ اس کی صوتی کرختگی بھی محسوس نہیں ہوتی، مثلاً

اب سارے ارادے بے تکے ہیں

ہم صرف غموں کے ہو چکے ہیں

جناب نسیمِؔ سحر کی کلیات کی اشاعت احسن اقدام ہے یہ کلیات کا نقش اول ہے ماشاء اللہ یہ تندرست و حیات ہیں، باقاعدگی سے شعر کہہ رہے ہیں ادبی اور سماجی تنظیموں میں بھرپور شرکت کرتے ہیں، منظوم کلام کے ساتھ ساتھ ان کی نثر بھی دلآویز ہے، وہ ایک رحم دل انسان اور عوام دوست شخصیت ہیں، ہمارے لاہور کے اے کیو خان اسپتال ٹرسٹ سے بھی تعاون کرتے رہتے ہیں۔ وہ جتنے اچھے شاعر ہیں اس سے کئی گنا زیادہ بڑے انسان ہیں۔ اللہ پاک ان کا حامی و ناصر ہو۔ یہ کتاب لاہور سے بہت خوبصورت پیرایہ میں شائع کی گئی ہے۔