سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں قومی احتساب بیورو کے لاہور کے ڈائریکٹر جنرل میجر ریٹائرڈ شہزاد سلیم کی ڈگری کے مقدمے کی سماعت کی ہے ۔

شہزاد سلیم کے وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد ہو چکا ہے، درخواست گزار کوئی نیا پینڈورا بوکس کھولنا چاہتے ہیں۔

درخواست گزار اسد کھرل نے کہا کہ اگر جھوٹ بولوں تو زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے اور اگر وکیل جھوٹا ہو تو اسے بھی سزا دی جائے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ڈائیلاگ بولیں گے تو نہیں سنیں گے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ منطق سے دھیمی آواز میں بات کریں۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب نے عدالت کو بتایا کہ شہزاد سلیم کی ڈگری پر رپورٹ اور جواب جمع کرایا ہے ۔ درخواست گزار اسد کھرل نے کہا کہ مجھے علم ہے انہوں نے سارے کاغذ اور جواب تیار کر لئے ہیں مگر میرے پاس وہی ریکارڈ ہے، پرانے اور اصل ریکارڈ سے اپنا مقدمہ ثابت کروں گا ۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ٹھیک ہے دو ہفتے بعد سن لیں گے، منطق اور دھمیمی انداز سے بات کریں آپ کو سنیں گے ۔ اسد کھرل نے کہا کہ مجھ پر پہلے بھی ایک جان لیوا حملہ ہو چکا ہے، کوئی پروا نہیں، کیس لڑنے کیلئے تیار ہوں جو بھی نتائج ہوں ۔

جسٹس عظمت سعید نے درخواست گزار سے کہا کہ تمہیں کیا کہا تھا؟ اپنا خیال رکھا کرو، اس کا کیا مطلب ہے ۔ کیس کی سماعت دو ہفتوں بعد ہو گی ۔