کراچی (ٹی وی رپورٹ)وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ عمران خان کے ہوتے نہ ڈیل ہوگی نہ ملک پر قرضے چڑھائے جائیں گے،پچھلی حکومت کے قرضے چکانے کیلئے عمران خان کو باہر جانا پڑرہا ہے، اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے حکم پر عمل ہوگا، جو سیاستدانوں اور فوجی افسران ملوث ہیں انہیں سزا ملنی چاہئے، آئی ایم ایف سے اپنی شرائط پر بات کررہے ہیں۔ وہ جیو کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں ن لیگ کے رہنما خرم دستگیر خان اور ماہر قانون سلمان اکرم راجہ بھی شریک تھے۔خرم دستگیر خان نے کہا کہ گیس کے ہوشربا بلوں سے پورا پاکستان بلبلارہا ہے، دسمبر میں ایل این جی کی شپمنٹ کینسل کرنا بہت بڑا اسکینڈل ہے، حکومت کی نااہلی اور بدانتظامی کی وجہ سے شہری بجلی پر 57پیسے فی یونٹ زیادہ ادا کررہے ہیں،اصغر خان کیس پاکستان کے سیاسی و جمہوری عمل میں مداخلت کا ناسور ہے جس کا علاج کرنا ہوگا۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ این آر او کی بات کرنا سیاسی اور قانونیطور پر مناسب نہیں ہے، یہ گفتگو معیوب ہے کہ کوئی قوت کسی کو این آر او دیدے گی اور عدالتیں اس کے ساتھ چل پڑیں گی، گیس کی قیمتوں میں اضافہ انتظامی معاملہ ہے اس میں عدالت کا دخل دینا نہیں بنتا ہے، اصغر خان کیس میں فوجی افسران اور سیاستدانوں دونوں کا کردار ہے۔علی محمد خان نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر پاکستانی اور ہماری بہن تھیں، بہت جلد کشمیر آزاد ہوگا اور سری نگر پر پاکستان کا پرچم لہرائے گا، عمران خان نے این آر او کے عادی مجرموں کو یاد دلایا کہ اب این آر او نہیں ہوگا، سانحہ ماڈل ٹاؤن کی طرح ساہیوال واقعہ میں ایف آئی آر درج کروانے کیلئے کسی کو دھرنا نہیں دینا پڑا، ساہیوال میں بہیمانہ قتل پر وزیراعظم نے نوٹس لیا اور ذمہ داران کو چوبیس گھنٹے میں گرفتار کرلیا گیا، طاہر داوڑ کے قاتل بھی گرفتار ہوں گے، پاکستان کو قرضوں تلے عمران خان نے نہیں ڈبویا ہے، عمران خان پر سعودی عرب، چین، ملائیشیا ، قطر اور متحدہ عرب امارات نے اعتماد کیا، پاکستان پانچ ماہ بعد اپنی شرائط پر آئی ایم ایف سے بات کررہا ہے، ن لیگ کی حکومت ہوتی تو پہلے دن ہی آئی ایم ایف چلے جاتے۔