سوال یہ نہیں ہے کہ فوجی عدالتوں کی میعاد میں مزید توسیعی ہونی چاہئے یا نہیں بلکہ غور طلب بات یہ ہے کہ آخر کب ہم پر اعتماد طریقے سے یہ کہہ سکیں گے کہ اب ہماری پولیس اور نظام انصاف اس قابل ہے کہ ہم خصوصی اقدامات کے بغیر آگے بڑھ سکتے ہیں۔

اگر71سال میں ہم نے صرف ان دو اداروں کو ہی بہتر بنالیا ہوتا توآج ایک عارضی حل پر بے جا بحث نہ ہورہی ہوتی۔ اس ملک میں آئینی حکومتیں بھی آئیں اور غیر آئینی بھی، جمہوریت بھی آئی اور آمریت بھی مگر نہیں رہی تو ریاست کی عمل داری اور انصاف کی فراہمی۔

پچھلے 25سالوں سے سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوااور فاٹا میں یا تو رینجرز ہے یا فرنٹیر کانسٹیبلری کے ذریعہ کام چلایا جارہا ہے ہر سال صوبائی حکومتیں اربوں روپے اس مد میں مختص کرتی ہیں مگر کوئی کوشش نہیں ہوئی تو پولیس کو بہتر بنانے کی ۔ ہمیشہ عارضی حل تلاش کیاگیا پھر اسی کو مستقل حل تصور کرلیاگیا۔ نتیجہ سامنے ہے۔ آج پولیس جس کو سب سے زیادہ مضبوط پروفیشنل ہونا چاہیے تھا، اپنا اعتماد کھو چکی ہے جوکہ ایک خطرناک رجحان ہے۔

یہی حال ہمارے نظام انصاف کا ہے۔ جب بھی غیر آئینی اقدام کیاگیا ہماری عدلیہ نے اسے نظریہ ضرورت کے تحت آئینی قرار دے دیا ۔ اس سے بڑا المیہ کیا ہوسکتا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سے2007تک ججوں کی اکثریت نے pco کے تحت حلف اٹھایا اور آمریت سے وفا داری نباہی تو انصاف کیسے ملتا۔ کم از کم پچھلے دس سالوں میں کچھ امید کی کرن تو نظر آئی مگر شاید ابھی ہم اصل ہدف سے بہت پیچھے ہیں۔

کبھی اس ملک میں مارشل لا لگا کر عارضی حل پیش کیا جاتا توکبھی جمہوری ادوار میں آئینی ترمیم کرکے فوجی عدالتیں قائم کرکے یہ اعتراف کیا جاتا ہے کہ ہم ابھی بھی اس قابل نہیں کہ مجرموں ،دہشت گردوں کو گرفتار کرکے سزا دے سکیں۔کبھی ماورائے عدالت قتل کرکے تو کبھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خصوصی اختیارات دے کر شہر ان کے سپرد کیے جاتے ہیں۔

لہٰذا فوجی عدالتوں کے قیام کی حمایت اور مخالفت کرنے والوں کو کم ازکم اتنا تو اعتراف کرنا ہی پڑے گا کہ کئی سال سے جاری آپریشن اور دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیوں کے باوجود ہمیں ابھی بھی خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔پولیس اور عدلیہ اب بھی خطرناک دہشت گردوں کو مروجہ طریقہ سے سزا نہیں دلواسکتیں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو تو آئے چھ ماہ ہوئے ہیں اور بظاہر ان کے پاس بھی کوئی مستقل حل نہیں مگر ذرا غور کریں کہ پچھلے سالوں سے دوبڑی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے کس طرح عارضی حل کے ذریعہ ہی معاملات چلائے۔ نہ پولیس بہتر کرسکے نہ نظام عدل اور نہ ہی جیلوں کو قیدیوں کے لئےخوف کی علامت بناسکے۔ ہماری جیلیں تو خیر جرائم پیشہ اور دہشت گردوں کے لیے آسانی پیدا کرتی ہیں۔

مسلم لیگ کی حکومتوں کے عارضی اقدامات 1992 میں سندھ میں فوجی آپریشن1997میں انسداد دہشت گردی ایکٹ،1998میں سندھ میں گورنر راج، فوجی عدالتوں کا قیام، پنجاب میں ماورائے عدالت قتل میں اضافہ اور پھر2013میں کراچی میں آپریشن۔

مسلم لیگ(ن) کی حکومت یہ دعویٰ کرسکتی ہے کہ جب اس نے2014میں آرمی پبلک اسکول پشاور میں 150کے قریب بچوں اور ٹیچرز کے قتل عام کے بعد فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا تو ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا اور ہم ایک بڑی جنگ کا حصہ تھے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ2014سے2018تک کیا اقدامات کیے گئے کہ ہم واپس مستقل حل کی طرف جاسکیں۔یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے آج تک مستقل حل کی جانب پیش قدمی نہیں کی۔ اب تو عام آدمی بھی عارضی حل کو ہی مستقل حل سمجھتا ہے۔

اب ایک نظر 11سال جنرل ضیا اورنوسال جنرل پرویز مشرف کے دور پر ڈال لیتے ہیں۔ یہ عارضی حکومتیں آئینی حکومتوں سے زیادہ برسراقتداررہیں ۔ضیا کا دور تو سخت ترین مارشل لا کا دور تھا مگر اس میں بھی ایک مضبوط پولیس کا نظام نہ بن سکا جبکہ عدلیہ توتھی ہی ان کے زیر سایہ۔

البتہ جنرل مشرف کے دور میں کم ازکم پولیس آرڈر2002ضرور آیا جس کو زیادہ تر لوگ ایک بہتر پولیس بنانے کی جانب قدم سمجھتے ہیں۔مگر خود ان کے دور میں یہ صحیح معنوں میں نافذ نہ ہوسکا ۔ دوسری جانب اپنے غیر آئینی اقدامات کے تحفظ کے لیے وہ دومرتبہ pco لے کر آئے اور ججوں کو پابند سلاسل بھی کیا۔ تاہم2008میںمشرف کی حکومت کے خاتمہ کے بعد ریاست نے فیصلہ کیا کہ چونکہ غیر ریاستی عناصر ریاست سے زیادہ طاقتور ہوگئے ہیں تو ان کا مستقل خاتمہ ہی مسئلے کا حل ہے۔ ابتدا سوات سے کی گئی اور کسی حد تک اختتام شمالی وزیر ستان اور کراچی پر ہوا۔ مگر شاید آج بھی ریاست پورے اعتماد سے نہیں کہہ سکتی کہ اب آپریشن کے بغیر اور فوجی عدالتوں جیسے عارضی اقدامات کے بغیر بھی خطرناک دہشت گردوں کو سزا دی جاسکتی ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اگر85سے80فیصد کامیابی حاصل ہوگئی ہے توکیا عدلیہ،انتظامیہ اور پولیس آج بھی اس قابل نہیں کہ فیصلے سالوں میں نہیں ہفتوں اور مہینوں میں ہوں۔

وزیر اعظم عمران خان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ خوش قسمت ہیں کہ ان کی حکومت ایک ایسے وقت اقتدار میں ہے جبکہ ملک دہشت گردی کیخلاف بڑی جنگ سے خاصی حد تک باہر آچکا ہے۔ فوجی قربانیاں بے مثل ہیں اور20ہزار کے قریب افسر وجوان شہید ہوئے ، 50ہزار کے قریب عام آدمی دہشت گردی کا نشانہ بنے مگر سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کی قربانیاں بھی کم نہیں خاص طور پر پی پی پی ، اےاین پی، ایم کیو ایم نشانہ رہیں۔ ان کے رہنما اور کارکن مارے گئے جن میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو، بشیر احمد بلور، کرنل (ر) شجاع اور افتخار حسین کے بیٹے کی قربانیاں شامل ہیں۔

لہٰذا عمران خان اور تحریک انصاف تمام سیاسی تنگ نظری سے بالاترہوکر قومی قیادت کو دعوت دیں، فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے فیصلہ کرنے یا نہ کرنے یا پھر کوئی مستقل حل کی جانب پلان پیش کریں۔ اسی طرح اپوزیشن جماعتیں بھی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے ایک قابل عمل حل پیش کریں زمینی حقائق کوسامنے رکھ کر سوال یہ نہیں ہے کہ فوجی عدالتوں میں توسیع ہونی چاہئے یا نہیں بلکہ غورطلب سوال یہ ہے کہ آخر کب ہم پر اعتماد طریقے سےیہ کہہ سکیں گے کہ اب کسی عارضی حل کے بغیردہشت گردی اور انتہا پسندی کو شکست دی جاچکی ہے۔