میں نے یہ بات متعدد بار لکھی ہے کہ تحقیق میں کوئی حرف آخر نہیں ہوتا۔ میں صرف یہ لکھتا ہی نہیں بلکہ اِس پر خلوص نیت سے یقین بھی رکھتا ہوں۔ سچ یہ ہے کہ میں فقط ایک طالب علم ہوں۔ محقق، دانشور، روحانی یا عالم و فاضل ہونے کا نہ اہل ہوں اور نہ ہی اِس حسنِ ظن میں مبتلا ہوں۔ میں نے اکثر محققین، عالم و فاضل لکھاریوں اور شہرت یافتہ دانشوروں کو علم و تحقیق کی روشن خیالی میں عقلِ کل اور حرفِ آخر بنتے دیکھا ہے اور اب بھی دیکھ رہا ہوں۔ دوسروں پر طنز اور تحقیر اور اُنہیں کمتر ثابت کر کے لطف اندوز ہونا اِسی زعم کی علامات ہیں۔ اختلاف رائے کو میں اِس لئے باعثِ برکت سمجھتا ہوں کہ اِس سے تحقیق اور مزید تحقیق کی راہیں کھلتی ہیں جن سے سچ بے نقاب ہوتا اور غلطیوں کی اصلاح ہوتی ہے۔ میرے نزدیک زندگی سیکھنے کا عمل ہے جو جاری و ساری رہتا ہے۔ لاتعداد بار ایسا ہوا کہ میں نے کسی محترم کالم نگار کی تحریر میں ایسی کوئی بات پڑھی جو میرے علم کے مطابق صحیح نہیں تھی تو اُن کو فون کر کے مزید تحقیق کی گزارش کی۔ ہاں بعض اوقات کچھ مہربان کالم میں ایسی بات بلا تحقیق اور بلا حوالہ لکھ دیتے ہیں جس سے قائداعظم یا تاریخ پاکستان کے بارے میں بد گمانی پیدا ہونے کا امکان ہوتا ہے تو میں علمی انداز سے اُس کی وضاحت کر دیتا ہوں۔ یہ اُس وقت ہوتا ہے جب اُن کا رابطہ میرے پاس نہ ہو ورنہ مجھے بہتر انداز یہی لگتا ہے کہ لکھاری سے گزارش کر کے اُنہی سے وضاحت کروا دی جائے تاکہ اُن کے قارئین غلط انفارمیشن کا شکار نہ ہوں۔ آپ کو مجھ سے اختلاف ہوسکتا ہے یہ آپ کا حق ہے۔ آپ یہ حق کیسے ادا کرتے ہیں یہ آپ کا انداز ہے۔ خالص سیاسی تجزیات یا ہمہ وقت سیاستدانوں پر سنگباری میری عادت نہیں کیونکہ میں ہر قسم کے متنوع موضوعات مثلاً سماجی رویوں، قومی مسائل، انسانی رشتوں، انتظامی خرابیوں، زندگی کے تجربات و مشاہدات، تاریخی موضوعات، قائداعظم، زندگی کے بدلتے رنگ، اندازِ حکومت، حکمرانوں کی حکمرانی کے تجزیات، کسی کتاب سے حاصلِ مطالعہ حتیٰ کہ روحانی اور مذہبی پہلوؤں وغیرہ پر لکھتا رہتا ہوں۔ جس روز جس موضوع نے دامنِ توجہ کھینچ لیا یا ذہن میں سرگوشیاں کرنے لگا اُسے تختہ مشق بنالیا۔ کبھی کبھار مزاح پہ طبیعت آمادہ ہوئی تو اُس پر طبع آزمائی کرلی۔ اکثر کوشش ہوتی ہے کہ قارئین کی انفارمیشن میں اضافہ ہو۔ روحانیت سے مجھے گہری دلچسپی ہے۔ یہ میرے مطالعے اور مشاہدے کا اہم موضوع ہے۔ میں اِس میں یقین رکھتا ہوں اور اِس یقین کی کچھ بنیاد بھی ہے کیونکہ تحقیق کا طالب کسی شے یا شعبے پر جلدی یقین نہیں کرتا جب تک اُسے اُس کا ثبوت نہ مل جائے۔ البتہ میری ذات کو روحانیت سے نسبت نہیں کیونکہ میں ایک گناہگار اور دنیا دار انسان ہوں جبکہ روحانیت مجاہدات، پاکیزگی اور قلبی طہارت کا تقاضا کرتی ہے۔

ہاں روحانیت کا تمسخر اڑانے والوں اور اُسے نفسیاتی بیماری قرار دینے والوں کی تحریریں پڑھ کر مجھے اکثر ایک بات یاد آتی ہے۔ اِس وقت صحیح ریفرنس یاد نہیں۔ اتنا یاد ہے کہ ایک صاحبِ فقر سے کسی روشن خیال نے اِسی طرح کا سوال کیا تو اُن کا جواب تھا ہم دنیا کا نہیں دنیا کے بعد کا سودا کرتے ہیں۔ دیکھ لو اللہ پاک موت کے بعد کن کی قبریں زندہ رکھتے ہیں۔ اہلِ نظر کے لئے اِس میں نشانیاں ہیں جبکہ روشن خیال دانشوروں اور عالم و فاضل لکھاریوں کے لئے یہ توہم پرستی، جہالت اور خدا جانے کیا کیا ہے۔

ہاں ذاتی حوالے سے مجھے ایک کمزوری کا احساس ہے جو بے شمار کمزوریوں میں سے ایک ہے۔ میں خود کوئی نیک یا عبادت گزار انسان نہیں لیکن اگر کوئی ایسا واقعہ نظر سے گزرے یا کانوں میں پڑے جس سے قاری میں نیکی کا جذبہ پیدا ہوتا ہو، حسنِ اخلاق کا سبق ملتا ہو یا صبر و شکر کی تلقین ہوتی ہو تو اُسے لکھ دیتا ہوں بشر طیکہ راوی قابلِ اعتماد ہو۔ راوی قابلِ اعتماد کا مطلب ہے کہ بیان کرنے والا اعلیٰ کردار کے معیار پر پورا اترتا ہو، سچائی کی شہرت رکھتا ہو اور اُس کا بظاہر کوئی ایجنڈا یا Motiveنہ ہو۔ اگر ایسے واقعے یا روحانی تجربے سے قاری میں حبِ الٰہی، صبر و شکر اور نیکی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے یا اُس طرف طبیعت راغب ہوتی ہے تو مقصد پورا ہوگیا۔ نیتوں کا حال میرا رب جانتا ہے اور وہی نیت کے مطابق جزا و سزا دینے کا اہل ہے۔ تشکیک پھیلانے والوں یا طنز و تحقیر کے تیر چلانے والوں کا معاملہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سپرد ہے جس نے یومِ حساب کا وعدہ کر رکھا ہے اور جو اپنے وعدوں کا مالک ہے۔ میں ایک کمزور انسان، میری کیا حیثیت؟ گنڈے، تعویذ اورجادو کو روحانیت سمجھنے والے تحقیر کا ارتکاب کرتے ہیں۔ یہاں تک لکھ چکا ہوں تو ایک معذرت یا وضاحت ذہن پہ دستک دے رہی ہے۔ میری کمزوری ہے کہ میں بظاہر ثقہ حضرات اور کتابوں پر اعتبار کر لیتا ہوں جو کبھی کبھی مزید تحقیق سے غلط ثابت ہوتی ہیں۔ میں نے یہ بات تحریکِ پاکستان کے چند معتبر کارکنان سے سنی اور پھر منشی عبدالرحمٰن کی معروف کتاب تعمیرِ پاکستان اور علمائے ربانی کے صفحہ نمبر 135-136پر پڑھی کہ قائداعظم نے چودہ اگست 1947کو کراچی میں مولانا شبیر احمد عثمانی اور ڈھاکہ میں مولانا ظفر احمد عثمانی کو پاکستان کے پرچم کشائی کا اعزاز بخشا۔ چند روز قبل یہ واقعہ محترم مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب نے اپنے کالم دینی مدارس میں بھی لکھا۔ میں خود اِس غلطی کا ارتکاب کر چکا ہوں اور معذرت خواہ ہوں۔ محترم منیر احمد منیر کے کہنے پر میں نے اُس کی تحقیق کی، نیشنل آرکائیو میں ریکارڈ دیکھا، 15اور 16اگست 1947کے روزنامہ ڈان پڑھے تو پتہ چلا کہ یہ بات صحیح نہیں۔ کراچی میں پاکستان کا پرچم خود قائداعظم نے لہرایا تھا البتہ مولانا محمد حنیف صاحب کے کالم میں یہ پڑھ کر صدمہ ہوا کہ پاکستان کی پہلی مردم شماری میں شیخ الاسلام مولانا شبیر عثمانی کے نام کے سامنے ناخواندہ لکھا ہوا ہے۔ یہ معاملہ بھی تحقیق طلب ہے، میں 1997-98میں خواندگی پر لٹریچر پڑھ رہا تھا تو پتہ چلا کہ خواندگی کی تعریف وقت کے ساتھ بدلتی رہی ہے۔ پہلے ہر وہ شخص جو دستخط کرنے کے ساتھ کسی بھی زبان میں ایک پیرا پڑھ سکتا تھا اُسے خواندہ کہا جاتا تھا۔ پھر یونیسکو نے عالمی سطح پر خواندگی کے حوالے سے یہ تعریف کی جو شخص پڑھنے کے علاوہ ایک پیرا لکھنے کا اہل ہو اُسے خواندہ کہا جائے گا۔ اُسی دور میں مجھے ایک برطانوی مصنف کی کتاب Reflections And Recollectionپڑھنے کا اتفاق ہوا جس نے انیسویں صدی کے آغاز میں ہندوستان کے مسلمانوں میں شرح خواندگی 75فیصد کے لگ بھگ لکھی تھی۔ اللہ بہتر جانتا ہے مجھے علم نہیں اُس نے کس بنیاد پر یہ لکھا اور خواندگی کا اُس وقت کیا معیار یا تعریف تھی۔ ریسرچ اسکالرز تحقیق کر لیں لیکن پورے ہندوستان کی نہ کہ چند علاقوں کی اور برطانوی مصنف کی تصحیح کر دیں کہ تحقیق میں کوئی حرف، حرف ِآخر نہیں ہوتا۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)