عمران خان نے پاکستان کا معاشی مستقبل بیرونی معاشی قاتلوں (economic hitmen) کے ہاتھ میں دیدیا ہے۔ آئی ایم ایف سے معاہدے نے اِس حقیقت پر مہرِ ثبت کر دی ہے کہ وزیراعظم سے عملاً معیشت کا کنٹرول لے لیا گیا ہے۔ نہ صرف سراسیمگی میں بجٹ سے چند ہفتے پہلے اپنی پارٹی کے دماغ یعنی وزیر خزانہ کو بدل کر آئی ایم ایف کی مرضی کا وزیر خزانہ لانا پڑا بلکہ وزیراعظم کے اعتراف کے مطابق اسٹیٹ بینک کا گورنر بھی وہ لگانا پڑا جس کی سفارش آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر نے کی تھی۔ حکومت کی بدترین پسپائی یہ ہے کہ تاریخ میں پہلی دفعہ آئی ایم ایف کے قرضے کو دہشتگردی کی فنڈنگ روکنے سے مشروط کردیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے سے پہلے اُس سے افسر مستعار لئے گئے۔ جب مذاکرات ہو رہے تھے تو میز کی دونوں جانب آئی ایم ایف کے اہلکار موجود تھے اور وزارتِ خزانہ کے سینئر ترین افسروں کو اُن مذاکرات سے باہر نکال دیا گیا تھا۔


پچھلے دس ماہ میں حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کئے بغیر آئی ایم ایف کی چاکری کی۔ گیس کی قیمتوں میں 143فیصد اضافہ، بجلی کی قیمت میں 30فیصد اضافہ، ڈالر کی قیمت میں 30فیصد اضافہ اور اسٹیٹ بینک کی شرح سود میں 6.5فیصد سے بڑھا کر 10.75فیصد تک کرنا، کھاد پر سبسڈی کا خاتمہ اور دو منی بجٹ اُس کے علاوہ ہیں۔ مزدور دشمن اقدامات مہنگائی کی صورت میں روزانہ عوام کی گردن توڑتے ہیں۔ ڈالر کی قیمت میں 30فیصد اضافے کا حکومتی قدم یکسر ناکام ہوا۔ دس مہینوں میں اتنی ڈیویلیو ایشن کے بعد اِس سال برآمدات میں پچھلے سال کے مقابلے میں اضافہ صفر ہے۔

شرح سود بڑھانے کا حکومتی اقدام بھی یکسرناکام ہوا۔ پاکستان کی صنعتی پیداوار میں مسلم لیگ(ن) کے دورِ حکومت کی نسبت 2.8فیصد کمی آئی ہے، جس کا براہ راست اثر لاکھوں کی تعداد میں مزدوروں کی بیروزگاری ہے۔ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں ہولناک اضافے نے کروڑوں پاکستانیوں کو خطِ غربت سے نیچے دھکیل دیا ہے۔ وہ وزیراعظم جو کنٹینر پر بل جلاتے تھے اور یہ سوال پوچھتے تھے کہ حکومت کی نااہلی کی قیمت میں کیوں دوں؟ آج یہی سوال کروڑوں پاکستانی عمران خان سے پوچھ رہے ہیں۔ معاشی پالیسیوں کی یکسر ناکامی پر نااہلی کا تڑکا بھی لگا۔ حکومت نے جو چُھری غریبوں کے گلے پر 2018میں چلائی تھی اب دوبارہ چلائیں گے۔ آئی ایم ایف کے حکم پر وزیراعظم عمران خان ڈالر مزید مہنگا، شرح سود میں مزید اضافہ اور بجلی و گیس کی قیمتوں میں مزید تر اضافہ کرینگے۔ 22کروڑ پاکستانیوں کو سمجھ آگئی ہے کہ جس سونامی کا عمران خان بار بارنام لیتے تھے وہ دراصل غربت، بیروزگاری اور گراوٹ کا سونامی ہے۔

حکومت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں 37فیصد کمی کی ہے، درجنوں ترقیاتی منصوبے بند کردیئے ہیں اور لاکھوں محنت کشوں کو بیروزگار۔ چاروں صوبے نیشنل فنانس کمیشن کے تحت فنڈز نہ ملنے پر چیخ رہے ہیں۔ یہ پیسے اگر صوبوں کو نہیں ملے تو پھر کہاں خرچ ہوئے؟۔ 2018-19کا مالی سال ترقی کے لحاظ سے ملک کی 72سالہ تاریخ کا تاریک ترین سال ہے، جس میں ترقی کی نئی اینٹ کیا لگنا تھی، مرمت نہ ہونے سے انفرااسٹرکچر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، شہری سہولتیں مفلوج ہیں اور مشاہدہ یہ کہہ رہا ہے کہ وفاق ہو یا صوبے، ترقی کے لحاظ سے ہر طرف ایک نحوست چھائی ہے۔ جو منصوبے مکمل بھی ہوئے ہیں وہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے شروع کئے تھے۔

حکومتی وزیر اور مشیر گردشی قرضے کی گردان کرتے نہیں تھکتے لیکن گزشتہ دس مہینوں میں وہ گردشی قرضہ 60فیصد بڑھ گیا ہے۔ عوام کا سوال اپنی جگہ پر کھڑا ہے کہ عمران خان کی حکومت کی نااہلی کی قیمت ہم کیوں دیں؟ انسانی ترقی دینے کے دعویداروں نے سرکاری اسپتالوں میں مفت دوائیاں ختم کردی ہیں، ٹیسٹوں کی قیمتیں کئی گنا بڑھا دی ہیں اور آپریشن مہنگے کردیئے ہیں۔ یہ کیسی بات ہے کہ حکومتِ پنجاب کے پاس آج صوبائی وزراء کی نئی گاڑیاں خریدنے کیلئے 77کروڑ روپے موجود ہیں لیکن غریب کو مفت دوائیاں دینے کیلئے ایک پیسہ بھی نہیں ہے۔ کروڑوں غریب پاکستانیوں کیلئے سب سے خوفناک ٹیکس مہنگائی ہے جو کہ پچھلے پانچ برسوں کی بلند ترین سطح پر ہے اور مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے آخری سال کے مقابلے میں تین گنا ہو چکی ہے۔

بہتر معاشی انتظام کے باعث مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے آخری چار برسوں میں پاکستان کی تاریخ کی سب سے کم مہنگائی کی شرح سے عوام کو ریلیف دیا گیا۔ 2014-15میں یہ شرح 4.5فیصد تھی، 2015-16میں پاکستان کی تاریخ کی کم ترین شرح 2.8فیصد تھی، 2016-17میں 4.1فیصد اور نئی حکومت کو جو شرح 2017-18میں تفویض کی گئی وہ میں 3.9فیصد تھی۔ حکومت مہنگائی کی شرح 8.8فیصد کا دعویٰ کررہی ہے لیکن پورے ملک کے طول و عرض میں گھریلو استعمال کی اشیاء اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں 200 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ یہ روزانہ کی اذیت عوام کی چیخیں نکال رہی ہے اور اِس سلیکٹڈ حکومت کے پہلے وزیر خزانہ کا دعویٰ سچ کررہی ہے کہ عوام کی مزید چیخیں نکلیں گی۔

مسلم لیگ(ن) نے اپنے دور میں 12ہزار میگا واٹ کی بجلی پیدا کرنے کے منصوبے لگائے۔ ایل این جی کے 2ٹرمینل مکمل کئے اور کراچی میں k3اور k4کے نیوکلیئر بجلی کے کارخانوں کا آغاز کیا۔ دہائیوں سے رکے ہوئے منصوبہ جات نیلم جہلم، تربیلاiv، کھچی کینال اور لواری ٹنل مکمل کئے۔ 1700کلو میٹر کی موٹرویز تعمیر کیں اور تقریباً 2000کلو میٹر بجلی کی ٹرانسمیشن لائنز لگائیں۔ چاروں صوبوں خاص طور پر بلوچستان میں ہزاروں کلومیٹر سڑکیں تعمیر کیں، ایف بی آر کے ٹیکس محصولات کو پانچ برسوں میں 1900ارب روپے سے بڑھاکر دوگنے سے بھی زیادہ 3840ارب روپے کردیا۔ پاکستان کی تمام افواج کو ہتھیار، صنعتی انفرااسٹرکچر اور فوجیوں کی ٹریننگ کیلئے وافر وسائل مہیا کئے اور سب سے بڑھ کر گواردر سے خنجراب تک سی پیک کا کامیابی سے آغاز کیا، جس کے منصوبوں پر آج کے سلیکٹڈ حکمران اپنی تختیاں نصب کررہے ہیں۔ گزشتہ دس مہینوں میں عمران خان نے صرف ایک وعدہ پورا کیا ہے اور وہ یہ تھا کہ میں اِن کو رلاؤں گا۔