میرے ایک بہت ہی پیارے دوست ہیں۔ مجلسی آدمی ہیں۔مختلف النوع کاروباری افراد سے ان کا مسلسل رابطہ رہتا ہے۔ریستورانوں کے مالکان آڑھتیوں اور پراپرٹی کے دھندے سے متعلق لوگوں سے گپ شپ کی بدولت منڈی میں پھیلے رحجانات کے بارے میں ہمیشہ Update۔

ضرور پڑھیں: بھارتی اوپنر شیکھر دھون کیلئے ورلڈ کپ ختم
آج سے چند ہفتے قبل انہوں نے مجھے فون کیا اور اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے مجھے ہماری قوم کے بے تحاشہ تخلیقی ذہن کی بدولت ابھرے ایک تازہ ترین شاہکار کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔فیصل آباد، چکوال اور جہلم میں ان کی معلومات کے مطابق موبائل فون بیچنے والی کئی دکانوں کو حالیہ مہینوں میں غیر ممالک سے پاکستان آنے والے مسافروں کا Dataمیسر ہو چکا ہے۔ اس کی مدد سے آپ کسی بھی درآمد شدہ جدید ترین سمارٹ فون کو حکومت کو ٹیکس کی مد میں ایک دھیلہ ادا کئے بغیر بھی PTAکے تصدیق شدہ فون کی صورت استعمال کر سکتے ہیں۔ بخدا مجھے اعتبار نہیں آیا۔ کرید کرید کر ان سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا رہا کہ یہ کیسے ممکن ہوا۔ انہوں نے مجھ کند ذہن کو بہت تفصیل سے یاد دلانے کی کوشش کی کہ جب ہم کسی غیر ملک سے پاکستان آتے ہیں تو امیگریشن کے ڈیسک کے سامنے لگی قطار میں کھڑے ہوکر اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے پاسپورٹ پر داخلے کی مہر لگواتے ہیں۔یہ مہر لگانے سے قبل ہمارے پاسپورٹ میں موجود ہماری ذات سے متعلق تمام بنیادی معلومات ریکارڈ پر آجاتی ہیں۔ اس ریکارڈ کی بنیاد پر ایک پاکستانی شہری یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ حال ہی میں پاکستان لوٹتے ہوئے اس نے ایک جدید ترین سمارٹ فون بھی ذاتی استعمال کے لئے خرید لیا۔ چونکہ اس نے ذاتی استعمال کے لئے صرف ایک ہی فون خریدا لہٰذا اس فون کو PTAسے رجسٹر کروانے کے لئے ٹیکس ادا کرنا ضروری نہیں۔ اس قانون کو نظر میں رکھتے ہوئے اس کے فون کو قانونی طورپر باقاعدہ قرار دینے کے لئے رجسٹر کر لیا جاتا ہے۔

مذکورہ فون کو رجسٹرکروانے کے لئے آپ کو کسی سرکاری دفتر جانے کی زحمت اٹھانے کی ضرورت نہیں تھی۔ صرف لیپ ٹاپ کھول کر PTAکی جانب سے انٹرنیٹ پر مہیا کئے ایک فارم کو بھرنا تھا۔ میرے پاس جو غیر رجسٹرشدہ فون ہے وہ کسی ایسے پاکستانی مسافر کے پاسپورٹ میں دی گئی معلومات کی بنیاد پر جو حال ہی میں کسی ایئرپورٹ کے امیگریشن ڈیسک پر Enterکی مہر لگاکر وطن میں داخل ہوا تھا، باقاعدہ رجسٹر ہوجائے گا۔ایمان داری کی بات یہ بھی ہے کہ اپنے دوست کی تمام تر کوشش کے باوجود مجھے اس قصے کی مناسب انداز میں سمجھ نہیں آئی۔ تھوڑا غور کیا تو خود کو یہ بتاتے ہوئے بھی تسلی دینے کی کوشش کی کہ چند پاکستانیوں ہی نے مذکورہ دونمبری سے فائدہ اٹھایا ہوگا۔اپنے دوست سے گفتگو کے چند ہفتے بعد لیکن میں لاہور میں تھا تو انگریزی کے دومؤثر اخبارات کے بزنس سے متعلق صفحات پرمیں نے خبر پڑھی کہ حکومت پاکستان کو درآمد شدہ سمارٹ فونز کی مد میں قابل ذکر رقم نہیں مل رہی۔ FBRاور PTAوالوں کو شبہ ہے کہ کہیں دونمبری چل رہی ہے۔

بتدریج یہ بات عیاں ہونا شروع ہوگئی کہ حالیہ مہینوں میں غیر ملکوں سے پاکستان آنے والے تمام مسافروں کا Dataملک بھر میں موبائل فون بیچنے والی بے تحاشہ دکانوں تک پہنچ چکا ہے۔اس کی بدولت آپ پاکستان میں سمگل ہوئے کسی بھی جدید ترین فون کو خریدنے کے بعد اسے دوکاندار کو محض دو یا تین اضافی ہزار روپے ادا کرنے کے بعد PTAسے تصدیق شدہ آلے کی صورت استعمال کر سکتے ہیں۔ دونمبری کی یہ وباء اس حد تک پھیل گئی کہ منگل کے روز ہوئے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس پر تفصیل سے غور کرنا پڑا۔ فیصلہ غالباََ اب یہ ہوا ہے کہ صرف ایک نیا ٹیلی فون بیرون ملک سے وطن لوٹتے ہوئے اپنے ہمراہ لانے والے صارف کو بھی اب اس مد میں کوئی چھوٹ نہیں دی جائے گی۔ شاید اسے رجسٹر کرنے کے لئے مذکورہ صارف کو بذات خود اب کسی دفتر میں جا کر انگلیوں اور انگوٹھے کے بائیومیٹرک ریکارڈ سمیت رجسٹر کروانا ہو گا۔ میرے ذہن میں یہ سوال اگرچہ اب چپک گیا ہے کہ ملک بھر میں پھیلی موبائل فون کا دھندہ کرنے والی کئی دکانوں کے پاس وہ Dataکیسے پہنچا جس کی بدولت وہ اپنے گاہکوں کو حکومت کے عائدکردہ ٹیکس سے بچا رہے تھے۔ ہمارے تمام ایئرپورٹس پر جہاں غیر ملکوں سے آئی پروازیں لینڈ کرتی ہیںامیگریشن ڈیسک پر موجود FIAکے تعین کردہ انسپکٹر اس ضمن میں انگریزی محاورے والے Usual Suspectsٹھہرائے جا سکتے ہیں۔ میرے دوست رئوف کلاسرا منگل کی رات اپنے ٹی وی شو میں دعویٰ کر رہے تھے کہ تحقیقات کے دوران FIAکے ایک ایسے انسپکٹر کی نشاندہی ہوگئی ہے جو صرف پانچ سو روپے کے عوض خود کو میسر ڈیٹا ممکنہ خریدار کو دینے کا عادی تھا۔ انہوں نے مگر خود ہی یہ اصرار بھی کیا کہ فقط ایک انسپکٹر ہی ملک بھر میںپھیلی موبائل فون بیچنے والی دکانوں کو بنیادی معلومات فراہم نہیں کرسکتا۔ کوئی بہت ہی منظم اور وسیع پیمانے پر پھیلاگروہ ہی یہ کارنامہ سرانجام دے سکتا ہے۔ ذاتی طور پر میں بھی اس پہلو پر توجہ دلانے کو مجبور ہوں۔ فرض کیا آج سے دس روز قبل اسلام آباد ایئرپورٹ پر بیرون ملک سے دس پروازیں لینڈ ہوئی تھیں۔ یہ پروازیں بیک وقت لینڈ نہیں ہوتیں۔ 24/7کے Cycle تک پھیلی ہوتی ہیں۔ آخری بار میں غیر ملکی سفر سے تین برس قبل لاہور ایئرپورٹ اُترا تھا۔ وہاں امیگریشن کے محض پانچ ڈیسک کام کر رہے تھے۔ صرف ایک ڈیسک نے زیادہ سے زیادہ پچاس مسافروں کے پاسپورٹ کی تصویر لینے کے بعد اس پرEnter کی مہر لگائی ہو گی۔ صرف ایک انسپکٹر کے پاس اتنا Dataموجود ہی نہیں ہو سکتا کہ وہ اسے جمع کر کے ملک بھر میں پھیلی موبائل فون کی دکانوں کو فراہم کر دے اور ہزاروں افراد حکومت کو ٹیکس کی مد میں ایک دھیلہ ادا کئے بغیر سمگل شدہ فون کو بازار سے خرید کر اسے PTAکا تصدیق شدہ فون بنا کر استعمال کرنا شروع ہو جائیں۔ یہ پنجابی محاورے والے کلّے بندے کا کام ہو ہی نہیں سکتا۔ ایک منظم گروہ ہے جسے اس ماسٹرکمپیوٹر تک رسائی حاصل تھی جہاں بیرون ملک سے آئے مسافروں کا تمام ریکارڈ حتمی Dataکی صورت اکٹھا ہوتا ہے۔ اس Dataکو ایک اور منظم گروہ کے ذریعے مارکیٹ کیا گیا۔ یہ مارکیٹنگ کئی حوالوں سے Securityسے متعلقہ امور کی خوفناک Breachہے۔ قانون اور Privacyکا واقعتا احترام کرنے والے کسی ملک میں ایسا واقعہ رونما ہوا ہوتا تو چیختا چنگھاڑتا سکینڈل بن جاتا۔ شہریوں کے پاسپورٹ ریکارڈ کی غیر متعلقہ امور فراڈی لوگوں تک رسائی ایک سنگین واقعہ ہے۔ یہ واقعہ مگر ہمارے وطن عزیز میں کسی کا دل دہلائے بغیر ہوچکا ہے۔ سوائے ماتم کے اس کے بارے میں اور کچھ کیا ہی نہیں جا سکتا۔