عمران خان کی حکومت تعلیمی میدان میں یکساں نظامِ تعلیم کے ساتھ ساتھ معیارِ تعلیم کو بہتر کرنے کے لیے کوشاں ہے جسے ایک انقلابی قدم گردانا جا رہا ہے لیکن یہ انقلاب ادھورا ہوگا اگر نظامِ تعلیم میں تربیت اور کردار سازی کو شامل نہیں کیا جاتا۔ اس سلسلے میں ایک بڑے شخص (جس نے تعلیم و تربیت اور کردار سازی پہ بہت کام کیا) نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مجھے اپنے خیالات سے آگاہ کیا۔ جو کچھ لکھ کر مجھے بھیجا گیا وہ جیسے میرے دل کی آواز ہو۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے اور اس امید کے ساتھ کہ وزیراعظم عمران خان اور حکومت اس بارے میں سنجیدگی سے غور کریں گے، میں ان خیالات کو کالم میں پیش کر رہا ہوں۔

جناب وزیراعظم! قومی تعلیمی پالیسی میں کردار سازی کو ترجیح بنانے سے ہی نیا پاکستان بنے گا۔

ہم اس وقت بطورِ قوم کردار کے بحران کا شکار ہیں۔ 72سال کے قومی سفر میں ہمارے نظامِ تعلیم اور تربیت کی سمت ہی درست نہ ہو سکی۔ تعلیم کے سب سے اہم جز تربیت پر نظام تعلیم نے کبھی توجہ ہی نہیں دی۔ جب ہمارا خاندانی نظام مضبوط تھا تو تربیت کا فریضہ خاندان سر انجام دے رہا تھا، بچے گھروں میں موجود رول ماڈلز سے سیکھتے تھے، ہر تعلیمی ادارے میں کوئی نہ کوئی ایسا استاد موجود ہوتا تھا جو اپنے اُجلے کردار کی روشنی سے بچوں کے دل و دماغ کو منور کرتا تھا مگر گزشتہ چار دہائیوں سے تربیت کا بنیادی ادارہ خاندان بھی زوال کا شکار ہے۔ میڈیا نے خواہشوں کو ضرورت بنا دیا تو قناعت معاشرے سے رخصت ہو گئی اور معیارِ زندگی مقصدِ زندگی بن گیا۔ ہر کوئی اس دوڑ میں شامل ہوگیا۔ بتدریج سچائی، امانت، دیانت اور عدل زندگی سے رخصت ہونے لگے۔ ہم میں سے ہر ایک کے پاس اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے سہانے خواب ہیں جن میں رنگ بھرنے کی جدوجہد ہر جائز اور ناجائز طریقے سے ہو رہی ہے اور ملک کے روشن مستقبل کے لیے ہر ایک کے پاس صرف خواہش ہے۔ بحیثیت قوم اپنے حصے کی شمع روشن کرنا ہماری عادت ہی نہیں، اسی لیے لوگ امیر ہو رہے ہیں جبکہ ملک کی غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان اس وقت جتنے بھی بحرانوں کا شکار ہے، ان سب نے کردار کے بحران کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ بلاشبہ معاشرے میں احتساب کا ایک مضبوط نظام بہت ضروری ہے لیکن اس سے زیادہ اہم کردار سازی کا نظام ہے۔ مرض کا علاج بھی ضروری ہے لیکن مرض کا خاتمہ اس کے اسباب کے تدارک سے ہی ممکن ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان کا پاکستانیوں کو ایک قوم بنانے کے لیے یکساں نظامِ تعلیم نافذ کرنے کا عزم درست سمت میں ایک قدم ہے۔ وزیر تعلیم اور ان کی ٹیم کی جانفشانی سے دینی مدارس کا قومی دھارے میں آنے کا نظام وضع ہو جانا ایک بہت بڑی پیش قدمی ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2018ء کے فریم ورک میں شامل چار قومی ترجیحات اسکول نہ جانے والے بچے، یکساں نظامِ تعلیم، معیارِ تعلیم کی بہتری اور پیشہ ورانہ مہارت و اعلیٰ تعلیم ہیں۔ بلاشبہ یہ چاروں درست ہیں لیکن جناب وزیراعظم! آپ جو نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں، وہ کردار سازی کو پانچویں قومی ترجیح کے طور پر شامل کیے بغیر نہیں بن سکتا۔ صرف تعلیم پر توجہ دینے سے ہمارا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اس ملک کو لوٹنے والے سارے لوگ تعلیم یافتہ ہیں۔ ہمارا اصل مسئلہ نئی نسل کی کردار سازی ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی میں سب سے پہلے ان اوصاف کا تعین ضروری ہے جو مستقبل میں ہم ہر پاکستانی میں دیکھنا چاہتے ہیں، پھر نصاب سازی کی قومی دستاویز میں جماعت وار حاصلاتِ تعلم کا تعین ضروری ہے۔ ہمارے نظامِ تعلیم میں ہر مضمون کے لیے جماعت وار حاصلاتِ تعلم کا تعین تو ہے لیکن کردار سازی کے لیے حاصلاتِ تعلم کا تعین ہی نہیں کیا جاتا۔ اگر آپ ایک باعلم اور باکردار نئی نسل تیار کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے کردار سازی پر اثر انداز ہونے والے سارے عوامل کتاب، استاد، نصابی سرگرمیاں، والدین اور میڈیا سب کو ایک سمت پر لانا ہوگا، تبھی ہم ایک ایسی نسل تیار کر سکیں گے جو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کامیاب ہو سکتی ہے۔ ایسی باعلم اور باکردار نسل ہی ملک کو قائد کے خوابوں کی تعبیر بنا سکتی ہے۔ اس کے لیے پہلا قدم تعلیم کی قومی ترجیحات میں کردار سازی کو شامل کرنا ہے۔ یہ فیصلہ ملک کے مستقبل کو روشن کرنے کا ذریعہ ثابت ہوگا۔ ان شاء اللہ۔