مشرف اور واجپائی کے مابین بہت دھوم دھڑکے کے بعد ہوئی آگرہ سمٹ بالآخر ناکام ہوگئی تو اسے ناکام بنانے والے سازشیوں میں سشما سوراج کا نام سرفہرست تھا۔ وہ ان دنوں بھارت کی وزیر اطلاعات تھی۔ انتہا پسند ایل- کے ایڈوانی کی وفادار گردانی جاتی تھی۔ میں نے اس سے انٹرویو کا ارادہ باندھ لیا۔

آگرہ ملاقات کی ناکامی کے بعد پاکستان اور بھارت کے مابین معاملات دوبارہ تلخ ہو چکے تھے۔ میں لیکن دلی میں قیام کو بضد رہا۔ اگرچہ ان دنوں کوئی وزیر تو دور کی بات ہے سرکار کا نچلی سطح کا افسر بھی کسی پاکستانی صحافی سے بات کرنے کو تیار نہیں تھا۔ بہت دنوں کی مشقت اور ذلت کے بعد بالآخر سشما سوراج سے ملاقات کا وقت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس ضمن میں اس کے سکھ پرسنل سیکرٹری نے اہم کردار ادا کیا۔ ملاقات کا وقت طے ہوجانے کے باوجود صاف الفاظ میں مجھے بتا دیا گیا کہ باقاعدہ اور آن دی ریکارڈ انٹرویو کی امید نہ رکھی جائے۔ چائے کی پیالی پر محض ہیلو ہائے، گپ شپ ہو گی۔ صحافی ایسے موقعہ کو ہاتھ سے جانے ہی نہیں دیتا۔ بہرحال جب ملاقات ہوئی تو اس نے پوچھا میرا تعلق پاکستان کے کس شہر سے ہے۔ میں نے لاہورکا نام لیا تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ بہت مان سے ذکر کیا کہ اس کے بزرگوں کا تعلق بھی لاہور سے تھا۔ میں نے محلے کا نام پوچھا تو اس نے دھرم پورہ کہا۔ اس لفظ کو ادا کرتے ہوئے اس نے دال کے بعد آنے والی دو آنکھ والی ھ کو بھی پوری طرح ادا کیا۔ میں نے اپنے ہاتھ میں موجود بال پوائنٹ کو اس کی میز پر برجستہ اور فطری غصے سے پھینکتے ہوئے اصرار کیا کہ جماندرولہوری دھرم پورہ کو اس طرح ادا نہیں کرتے۔ وہ تیزی سے دال کو دو آنکھوں والی ھ کو نظراندازکرتے ہوئے ر سے ملا دیتے ہیں اور م پر زور یعنی انگریزی زبان والا Stress۔اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ کم از کم تین بار مجھے دھرم پورہ کو اس طرح ادا کرنا پڑا جیسے جماندرولہوری پکارتے ہیں۔ اس کے بعد وہ انٹرویو کے لئے بھی تیار ہو گئی۔ انٹرویو کے دوران آگرہ سمٹ کی ناکامی کے ضمن میں اس کے مبینہ کردار کا ذکر بھی ہوا۔ اپنے دفاع میں اس نے کچھ ایسی باتیں بھی بتائیں جو میرے اخبار میں چھپیں تو سشماسوراج کی قربت کے دعوے دار کئی بھارتی صحافی بھی حیران ہو گئے۔ منگل کی شب سشما سوراج کا 67سال کی عمر میں دیہانت ہو گیا ہے۔ وہ انبالہ میں پیدا ہوئی تھی۔ باپ اس کا ہندو انتہاپسند تنظیم RSSکا قیام پاکستان سے قبل لاہور ہی میں ایک جنونی کارکن بن چکا تھا۔سشما نے مگر سیاست میں اپنی پہچان بھارت کے ایک سوشلسٹ رہ نما- جارج فرنیڈنس- کی مدد کے ذریعے بنائی تھی۔ اندرا گاندھی نے ایمرجنسی کے دوران فرنینڈس کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔ ایک جونیئروکیل کے ہمراہ وہ اس کی وکالت کے لئے پیش ہوئی۔ مرد وکیل بھی سوشلسٹ تھا۔ سشما نے اس کے ساتھ شادی کرلی۔ ہریانہ میں تاریخ کی کم عمر ترین وزیر رہی۔ بالآخر ہندوانتہاپسند BJPمیں شامل ہو گئی۔ ایل- کے ایڈوانی کی بھرپور سرپرستی کے باوجود مودی کیمپ نے مگر اسے کبھی اپنا تصور نہیں کیا۔ مودی کی گزشتہ حکومت میں وہ وزیر خارجہ رہی مگر پالیسی سازی کے عمل سے اسے دور رکھا جاتا تھا۔ حالیہ انتخاب جیتنے کے بعد مودی نے اسے اپنی کابینہ میں شامل نہیں کیا۔ نہایت بردباری سے اس نے خرابی صحت کا ذکر کرتے ہوئے خود کو نظرانداز کرنے کا دفاع کیا۔ سشما سوراج کا تفصیلی ذکر ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ واجپائی اور ایل -کے ایڈوانی کے بعد BJPمودی کی قیادت میں کس طرح بتدریج ایک کٹر ہندو انتہاپسند جماعت میں تبدیل ہو چکی ہے۔ وہاں اب RSSکے ایک متحرک کارکن کی بیٹی کے لئے بھی کوئی گنجائش موجود نہیں رہی۔ وہ اپنے رویے سے ذرا معتدل اور عورتوں کے حقوق کے حوالے سے تھوڑی لبرل شمار ہوتی تھی۔ BJPسے دیس نکالا اس کا مقدر ہوا۔ واجپائی سے مودی تک پہنچنے والی کہانی سنانے کے لئے مگر اخباری کالم نہیں تحقیقی مضامین درکار ہوتے ہیں۔ شاید ایک کتاب بھی لکھی جا سکتی ہے۔ میں ایک ڈنگ ٹپائو کالم نگار ہوں۔ رزق کمانے کی فکر لاحق رہتی ہے۔ عمر کے اس حصے میں تحقیق کے لئے وقت نکالنے اور اس توجہ سے محروم ہوں جو کتابیں لکھنے کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ نریندر مودی کی ذات اور سیاست کو لیکن ہم پاکستانیوں کے لئے سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اسے سمجھ لیا ہوتا تو شاید ہم بہت دن پہلے ہی یہ جان چکے ہوتے کہ وہ حالیہ انتخاب جیتنے کے بعد بھارتی آئین کا آرٹیکل 370ختم کرنے کو تلا بیٹھا تھا۔ ہمیں اس فیصلے سے ہرگز حیرانی نہ ہوتی جو اس نے اس ہفتے کے آغاز میں لیا۔ آج کی BJPکو خوب سمجھتے ہوئے شاید ہم نے اس فیصلے کو روکنے کے لئے کوئی حکمت عملی بھی تیار کرلی ہوتی۔ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے منگل کی سہ پہر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان صاحب نے بے ساختہ دیانت داری سے تقریباََ اعتراف کرلیا کہ وہ اصل مودی کو پہچاننے میں ناکام رہے۔ بھارتی وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر لوٹنے کے چند ہی دن بعد نریندر مودی کرغزستان کے شہر بشکیک گیا تھا۔ وہاں شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن (SCO) کا سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا تھا۔ پاکستان کے وزیراعظم بھی وہاں موجود تھے۔ پاک-بھارت کشیدگی کے بارے میں تسلسل سے لکھنے والے مبصرین کو قوی امید تھی کہ اس تنظیم کے اجلاس کے دوران مودی -عمران ملاقات بھی ہوگی جس کے نتیجے میں انگریزی محاورے والی برف پگھلتی نظر آئے گی۔ توقعات کے برعکس یہ ملاقات ہو نہیں پائی۔ وزیراعظم عمران خان صاحب نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے منگل کے دن پارلیمان میں کھڑے ہوکر اعتراف کیا ہے کہ بشکیک میں مودی نے جو رویہ اپنایا اس نے بالآخر انہیں قائل کردیا کہ وہ RSSکی پھیلائی ہندوانتہاپسند سوچ کا حقیقی اور جنونی نمائندہ ہے۔ پاکستان کو اس سے خیر کی کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ وہ بھارتی مسلمانوںاور کشمیریوں کو ہر صورت دوسرے درجے کا شہری اور محکوم تر بنانے کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔پیر کے روز آرٹیکل 370کی منسوخی کا جو فیصلہ ہوا ہے، اسے مودی کی نظریاتی ساخت کے تناظر میں دیکھنا ہو گا۔ مودی کے بارے میں عمران خان صاحب نے جو کچھ کہا مجھے اس سے ذرہّ برابر اختلاف نہیں۔ گلہ فقط اتنا ہے کہ برسوں کی عملی رپورٹنگ کے بعداپنے گھر تک محدود ہوا میں بدنصیب اس کالم میں کئی دنوں سے دہائی مچاتا رہا کہ مودی کے ایک بار پھر بھارت کا وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد پاکستان کو اس سے خیر کی کوئی امید نہیں رکھنا چاہیے۔ وزیراعظم پاکستان کے پاس مجھ جیسے دو ٹکے کے صحافی کے مقابلے میں ٹھوس اطلاعات تک رسائی کے کئی ذرائع موجود ہوتے ہیں۔ وزارتِ خارجہ اور قومی سلامتی سے متعلق اداروں میں موجود کئی افراد کا بنیادی فریضہ ہی بھارتی سیاست اور وہاں کی فیصلہ سازقوتوں پر کڑی نگاہ رکھنا ہوتا ہے۔ اصل مودی کو بالآخر دریافت کرنے کے لئے عمران خان صاحب کو بشکیک کا سفر ہرگز درکار نہیں تھا۔ بہرحال جو ہونا تھا ہو چکا ہے۔ ٹھنڈے دل سے بہت سوچ بچار کے بعد ہمیں اب بھارت پر مسلط ہوئی جنونیت سے نبردآزما ہونے کے لئے قطعی طورپر ایک نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ٹھوس حقائق تک رسائی کے بغیر اپنے ربّ سے فریاد ہی کر سکتا ہوں کہ ان دنوں وزیراعظم کے لئے تازہ ترین تجزیے دن اور رات کے مابین فرق کو مٹاتے ہوئے تیار کئے جارہے ہیں۔ مودی کے کسی نئے اقدام سے ہم اس بار حیران نہیں ہوں گے۔