سفارت کاری میں T-20جیسے مقابلے نہیں ہوتے۔یہ ایک طویل المدتی عمل (Process)ہوتا ہے۔اس عمل میں ہر ریاست اپنے اہداف تک

پہنچنے کے لئے بہت صبرواستقامت کے ساتھ اپنے مخالف کو شہ مات دینے کے لئے قدم بڑھاتی ہے۔مذکورہ حقیقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں اس سوال کو فروعی قرار دینے کو مجبور ہوں کہ گزشتہ جمعہ کے روز ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد ًًًمقبوضہ کشمیر کے حالیہ واقعات کے تناظر میں کونسا فریق ’’جیتا‘‘ اور کون ’’ہار‘‘ گیا۔ہمیں پوری صورت حال کو اس انداز سے دیکھنا ہوگا جس کی بدولت کچھ لوگوں کو پانی کا گلاس ’’خالی‘‘ یا ’’بھرا‘‘ نظر آتا ہے۔ پاکستانی زاویہ نگاہ سے دیکھتے ہوئے ہمیں کم از کم آدھا گلاس بھرا ہوا ضرور نظر آنا چاہیے۔بھارت کو پریشان کرنے کے لئے یہ واقعہ ہی اپنی جگہ حیران کن تھا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل آرٹیکل 370کے خاتمے کے بعد نمودار ہونے والی صورت حال پر غور کرنے کو مجبور ہوئی۔ عوامی جمہوریہ چین نے اس اجلاس کا انعقاد یقینی بنایا۔ بھارت کے فرانس جیسے اتحادیوں کی بدولت یہ اجلاس اگرچہ بند کمرے میں ہوا۔اسے Formalکے بجائے Informal’’غوروخوض‘‘ کا عنوان دیا گیا۔عوامی جمہوریہ چین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ہمیں یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ مودی سرکار نے آرٹیکل 370کی تنسیخ کے بعد کشمیر کے قضیے کو فقط پاک-بھارت کشیدگی تک محدود رکھنے کے بجائے عوامی جمہوریہ چین کو بھی اس معاملے کا Legitimateفریق بنادیا ہے۔لداخ چین کے ہمسایے میں واقعہ ہے۔ بدھ مت کے ماننے والے وہاں اکثریت میں ہیں۔وہ خود کو ثقافتی وتاریخی اعتبار سے تبت کا حصہ شمار کرتے ہیں اور تبت چین کا حصہ شمار ہوتا ہے۔ لداخ ہی میں کارگل کا ضلع بھی ہے۔ اس کی سرحد ہمارے گلگت بلتستان سے ملتی ہے۔ گلگت سے چین نے گوادر تک پہنچنے کے لئے CPECکا منصوبہ بنارکھا ہے۔لداخ کو ماضی کی ریاستِ جموںوکشمیر سے کاٹ کر اسے نئی دہلی کے براہِ راست کنٹرول میں آئیUnion Territoryقرار دیتے ہوئے مودی سرکار نے گویا CPECکے بارے میں اپنے حقیقی عزائم عیاں کردئیے ہیں۔مقبوضہ کشمیر اب پاک-بھارت تنازعہ ہی نہیں رہا۔لداخ کی نئی حیثیت نے چین کو بھی اس معاملے کا Legitimateفریق بنادیا ہے۔چین آبادی کے اعتبار سے دُنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔اس کے بعد بھارت کا نمبر آتا ہے۔پاکستان کی آبادی بھی 22کروڑ ہوچکی۔ تینوں ممالک ایٹمی قوت کے حامل بھی ہیں۔ان تین فریقوں کے مابین ابھرے قضیے کو نام نہاد ’’عالمی برادری‘‘ نظرانداز کر ہی نہیں سکتی۔ چین کی درخواست پر طلب ہوا جمعہ کا اجلاس روکا ہی نہیں جاسکتا تھا۔اس اجلاس کو بند کمرے تک محدود رکھنے کا فیصلہ اس وجہ سے بھی احمقانہ ثابت ہوا کیونکہ اس کے اختتام کے فوری بعد چینی مندوب کیمرے کے سامنے آگئے اور مذکورہ اجلاس میں بیان ہوئی عالمی برادری کی ’’تشویش‘‘ کو دُنیا کے سامنے آشکار کردیا۔ بھارت چینی مندوب کے بیان کو شاید نظرانداز کردیتا۔اس کے لئے حیران کن شرمندگی کا باعث روسی مندوب کا بھی کیمروں کے سامنے آکر مذکورہ ’’تشویش‘‘ کا اثبات تھا۔

1948ء کے بعد سے ماسکو ہمیشہ مقبوضہ کشمیر کے تناظر میں بھارت کی سہولت کے لئے اقوام متحدہ میں ویٹو کا حق استعمال کرتا رہا ہے۔سوویت یونین مگر اب روس ہوگیا ہے۔بھارت کو جدید ترین اسلحہ فروخت کرنے والوں میں لیکن اب بھی سرفہرست ہے۔ اس کے باوجود آرٹیکل370کے خاتمے کے بعد چین کی حمایت میں ڈٹ کر کھڑا ہوگیا۔ روس کے علاوہ برطانیہ کی ’’غیر جانبداری‘‘ نے بھی بھارت کو پریشان کیا ہے۔طویل المدتی تناظر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین میں سے اب فقط فرانس ہی دل وجان سے بھارت کے ساتھ کھڑا ہے۔ٹرمپ کا امریکہ متلون مزاج ہے۔ ہر معاملے میں پل میں تولہ پل میں ماشہ والا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔اسرائیل کے علاوہ اسے کوئی بھی ملک Taken for Grantedنہیں لے سکتا۔یہ رویہ اگرچہ پاکستان کے لئے بھی خیر کی خبر نہیں ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہونے سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم نے امریکی صدر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ اس گفتگو کے بارے میں وائٹ ہائوس نے جو Read Outدیا وہ اس حقیقت کے بارے میں رعونت کی حد تک ’’بے خبر‘‘ سنائی دیا کہ 22جولائی2019کے روز ٹرمپ نے عمران خان صاحب کو اپنے دائیں ہاتھ بٹھا کر پاک-بھارت معاملات بہتر بنانے کے لئے ثالث کا کردار ادا کرنے کی خواہش کا اعلان کیا تھا۔اس اعلان کو بے نیازی سے بھلاکر امریکی صدراب پاکستان اور بھارت کو فقط ’’باہمی مذاکرات‘‘ کی اہمیت یاد دلانا شروع ہوگیا ہے۔تفصیلات میں الجھے بغیر ٹھوس نکات پر توجہ دیں تو پاکستان کی نگاہ سے گلاس کم ازکم ادھا اس لئے بھرا ہوا ہے کیونکہ چاہے’’ بند کمرے‘‘ ہی میں ،اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے اپنے جمعہ کے روز ہوئے اجلاس کے ذریعے بھارت کو بتادیا ہے کہ آرٹیکل 370کی تنسیخ اس کا ’’اندرونی معاملہ‘‘ نہیں ہے۔ اقوام متحدہ اس معاملے میں مداخلت کے حق سے محروم نہیں ہوئی۔عوامی جمہوریہ چین کا ایک بار شکریہ۔ اس نے بہت مہارت سے اقوام متحدہ کو اپنا اختیار یاد دلانے کا موقع فراہم کردیا۔ہمارے لئے فوری تشویش کا باعث فقط مقبوضہ کشمیر کی دو حصوں میںتقسیم ہی نہیں۔مسئلہ کشمیر ماضی کی ریاستِ جموںوکشمیر کے زیر کنٹرول جائیداد کے حصے بخرے کرنے والے قضیے تک محدود نہیں۔اصل معاملہ وادیٔ کشمیر میں مقید ومحصور ہوئے انسانوں کے بنیادی حقوق کا ہے۔جمعہ کے اجلاس نے ٹھوس اعتبار سے ایک وسیع تر جیل میں قید ہوئے 70لاکھ سے زائد انسانوں کی اذیت میں ازالے کا بدقسمتی سے کوئی بندوبست نہیں کیا ہے۔آج کے نام نہاد Digital Eraمیں کرفیو کے ذریعے گھروں میں محصور ہوئے انسان موبائل فون اور انٹرنیٹ سے محروم کردئیے گئے ہیں۔حتیٰ کہ لینڈ لائن والے فون بھی خاموش کردئیے گئے۔ اپنے پیاروں کا حال واحوال جاننے کے لئے بھارت میں روز گاریا تعلیم کے لئے قیام پذیر ہوئے کشمیریوں کے پاس سوائے ہوائی جہاز کے سفر کے اور کوئی راستہ ہی نہ بچا۔ایمان داری کی بات یہ بھی ہے کہ روابط کے تمام ذرائع سے محروم ہوئے انسانوں کی حقیقی اذیت کو نام نہاد عالمی برادری کے سامنے کشمیر کے وحید مرزا جیسے عالمی شہرت یافتہ لکھاریوں نے اپنے ٹویٹس اور عالمی میڈیا کے ٹاک شوز میں حصہ لیتے ہوئے بہت شدت سے بیان کیا۔ ہمارے محمد حنیف نے نیویارک ٹائمز کے لئے دل دہلادینے والا ایک مضمون لکھا۔ ارون دھتی رائے نے مسلط کردہ خاموشی کی اذیت بیان کی۔ان بڑے ناموں کے علاوہ حقیقی سلام ان صحافیوں کو جنہوں نے جان جوکھم میں ڈال کر سری نگر سے کسی نہ کسی صورت حقائق بیان کرنے کی راہ نکالی۔ بی بی سی اس ضمن میں یقینا بازی لے گیا۔ الجزیرہ کا کردار بھی قابل ستائش ہے۔دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مگر ان بھارتی صحافیوں کا شکریہ بھی لازمی ہے جو Mainstreamمیڈیا کا حصہ نہیں۔اپنے تئیں مقبوضہ کشمیر پہنچے اور وہاں سے لوٹ کرنستباََ غیر معروف انٹرنیٹ سائٹس کے ذریعے قابض افواج کے ساتھ Embedہوئے صحافیوں کی ’’سب اچھا‘‘ والی رپورٹس کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دیتے رہے۔ بھارتی انتہا پسند ایسے افراد کو ’’غدار‘‘ پکاررہے ہیں۔ NDTVبھی تمام تر احتیاط کے باوجود جنونی شوروغوغا سے محفوظ نہیں رہ پایا۔ ’’عالمی ضمیر‘‘ نامی شے اگر اب بھی کہیں موجود ہے تو اسے فقط آزاد منش صحافت ہی کی کسی نہ کسی صورت نے جھنجھوڑا ہے۔ایک وسیع وعریض جیل میں محصور ہوئے کشمیریوں کی روزمرہ زندگی سے جڑی حقیقتوں کو ٹھوس واقعات کے ذریعے بیان کرتے ہوئے آزادمنش صحافت نے امید کی لوجلائے رکھنے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ وحید مرزا اور ارون دھتی رائے نے مزاحمتی ادب کی نئی داستانیں رقم کی ہیں۔ محمد حنیف ’’گھر کی مرغی‘‘ ہے۔ اسے سراہنے کی ہمت نہیں۔ ’’دوست نوازی‘‘ کا الزام لگے گا۔ اکثر وہ ایسے کالم بھی لکھ دیتا ہے جنہیں Shareکرتے ہوئے ’’شریک جرم‘‘ ٹھہرائے جانے کاخوف لاحق رہتا ہے۔آزاد منش صحافیوں کا فرداََ فرداََ ذکر کرنے کے بجائے اس کالم کو یہ کہتے ہوئے ختم کرنا ہوگا کہ مودی سرکار کی جانب سے آرٹیکل 370کی تنسیخ کے بعد مقبوضہ کشمیر پر پنجابی گیت والی ایک اور لمبی اور کالی رات مسلط کردی گئی ہے۔جبر سے مسلط کی ہوئی اس تاریکی میں دئیے جلانے کی روش برقراررکھنا ہوگی۔ سفارت کاری کی ’’بند کمروں‘‘ میں دکھائی مہارتیں محصور ہوئے کشمیریوں کے لئے کافی نہیں۔