صدر زرداری ہر مہینے ایک ہفتے کے لئے لاہور آئیں گے اور دربار لگائیں گے۔ یہ بات انہوں نے م*اورتاً کہی ہے۔ پیروں، فقیروں کی م*فل کو بھی دربار کہتے ہیں، مگر ہمارے دوست رانا ثناءاللہ اپنا سرکاری اور جماعتی فرض سمجھتے ہیں کہ ہر بات کا جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف درباری نہیں بنیں گے۔ مجھے ہزار اختلافات رانا صا*ب سے زیادہ صدر زرداری سے ہیں۔ ان کے باہمی اختلافات تو رسمی اور سیاسی ہوتے ہیں، مگر اختلاف کرنے کا *ق اسے ہے جو اعتراف کرنا بھی جانتا ہو۔ اب *کومت اور اپوزیشن ایک ہوگئی ہے، ویسے بھی پوزیشن تو اپوزیشن میں ہے لوگوں کو الف کے معنی بھی آنا چاہئیں صرف سیاسی بیان بازی کے ذریعے م*اورتاً ایک دوسرے کو الف ننگا کرنا ہی اپوزیشن نہیں۔ سیاستدان کس قدر غافل ہیں انہیں علم سے بھی سروکار نہیں اور الف کی *قیقت بھی نہیں جانتے۔ ....
علموں بس کریں اویار
تینوں اکو الف درکار
نیچے *کومت اوپر اپوزیشن اوپر *کومت نیچے اپوزیشن ثابت ہوا کہ ہمارے سیاستدان نہ *کومت کرنا جانتے ہیں نہ اپوزیشن کرنا جانتے ہیں۔ یہ ”اپوزیشن“ صرف سیاسی *کمرانوں کے دور میں ہوتی ہے۔ ورنہ جنرل مشرف کے دور میں کوئی بولا نہیں، جلاوطنی دونوں بڑے سیاستدانوں نے مزے سے گزاری ہم نے ہموطنی کے عذاب سہے۔ اب *کومت انہیں ملی ہے اور ہم دونوں کی نظر میں ”اپوزیشن کالم“ نگار ہیں۔ صدر زرداری کو مجید نظامی نے مرد *ر کا خطاب دیا تھا کہ اس نے طویل جیل کاٹی ہے اور جلاوطن نہیں ہوا *ریت سیاست و *کومت کا مطالبہ بھی انہی سے ہے۔اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر رانا ثناءاللہ بتا دیں کہ وہ کبھی درباری نہیں بنے۔ جب شریف برادران جلاوطنی میں تھے تو بھی پارٹی میں انہی کا *کم چلتا تھا۔ نوازشریف تو سرور پیلس میں ہر روز دربار لگاتے تھے وہ *کمران نہیں ہیں مگر *کمران ہیں۔ شہبازشریف ہر میٹنگ دربار کی طر* لیتے ہیں ، ہر *کمران اسی طر* میٹنگ لیتا ہے کسی نے کبھی ان سے اختلاف بھی کیا ہے۔ غلط بات پر تنقید کی ہے۔ ن لیگ کے ممبران اسمبلی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں کہ ہم تو *مزہ شہباز شریف سے بھی آسانی سے بات نہیں کر
سکتے۔ *مزہ صرف ایم این اے ہے مگر کیا وہ دربار نہیں لگاتا اسے پروٹوکول نہیں ملتا؟

[cubic:1tx7gh00][/cubic:1tx7gh00]

پیپلز پارٹی کے جیالوں کو بھٹو نے جرا¿ت اظہار دی تھی وہ کسی دربار میں نہیں ہوتے۔ کل جیالے گورنر ہاو¿س کا گیٹ پھلانگ کے اندر چلے گئے پھر بھی انہیں کسی نے دربار میں نہیں جانے دیا۔ دربار تو ہم خود ایسی جگہوں کو بناتے ہیں ۔ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار۔ عابدہ *سین، اعجاز ال*سن اور عظمیٰ بخاری کو کسی دوسرے گیٹ سے لے جایا گیا مگر کارکنوں کو ذلیل کیا گیا۔ جبکہ یہ ورکروں کیلئے جلسہ تھا بڑی مدت کے بعد جیالا کلچر کی مہک دیکھنے کا موقع ملا۔ کارکنوں کے ساتھ ہر پارٹی میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ مسلم لیگ ن کے لئے آٹھ سال تک ناصر اقبال خان نے ترجمان کے طور پر ذلت اور اذیت اٹھائی۔ آج وہ خود کہہ رہا ہے کہ شریف برادران اپنی برادری کے علاوہ کسی کو لفٹ نہیں کراتے۔ ورکر تو ذلیل و خوار ہو گئے، میں نے ہر پارٹی کے کارکنوں کو روتے ہی دیکھا ہے۔ جمہوریت کو بچانے والے بتائیں کہ جمہوریت کہاں ہے۔؟ صدر زرداری نے کارکنوں سے خطاب کیا اور پہلی صفوں میں وہی لوگ بیٹھے ہوئے تھے جو ایوان صدر میں ان کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں۔ سیکورٹی *دود کے دوسری طرف کچھ کارکن تھے باقی گورنر ہاو¿س کے گیٹ پر ”گیٹ آو¿ٹ“ کئے جانے والوں کی طر* نعرے مار رہے تھے، پلسیوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے اور جیالوں کے ہاتھوں میں جھنڈے تھے۔یہ بھی کہا گیا کہ مسلم لیگ ن والے کسی دوسری پارٹی کے سربراہ کا استقبال نہیں کریں گے، نوازشریف بھی اپنی پارٹی کے سربراہ ہیں اور کوئی سرکاری عہدہ بھی ان کے پاس نہیں ان کا استقبال سندھ میں سرکاری طور پر ہوا ہے جس کی ہدایت صدر زرداری نے کی تھی۔ نوازشریف کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ تھے انہیں صرف مسلم لیگ ن کے سربراہ کے طور پر یہ پروٹوکول دیا گیا اور پیپلز پارٹی کا سربراہ جو صدر پاکستان بھی ہے اس کا استقبال کرنے کے لئے رانا ثناءاللہ کہتے ہیں کہ کوئی نہیں جائے گا۔ کیا یہ *کم ہے، *کم تو درباریوں کو دیا جاتا ہے، درباریوں اور سرکاریوں میں فرق مٹ گیا ہے۔ نوازشریف جب وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے وزیراعظم بے نظیر بھٹو کا استقبال نہیں کیا تھا۔اپنی تقریر میں صدر زرداری نے کہا کہ مجھے ورکروں کے دکھوں کی خبر ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ ان کے کام نہیں ہوتے یہ علم ایسے ہی ہے جیسے انہیں بی بی کے قاتلوں کا پتہ ہے۔ گلگت بلتستان کا صوبہ، این ایف سی ایوارڈ، سوات اور وزیرستان میں فوجی کامیابی تو بڑے معاملے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی خوشیاں کب عام ہوں گی۔ لوڈشیڈنگ کب ختم ہو گی، مہنگائی کی رسوائی جاتی ہی نہیں، روٹی اور چینی غائب ہے۔ لوگوں کو کیا غرض کہ کون سا مسئلہ صوبائی ہے اور کون سا وفاقی ہے۔ آصف ہاشمی سے صدر زرداری نے کہا کہ شاہدرہ ہسپتال کے لئے جگہ فراہم کریں۔ آصف ہاشمی مخلص اور سرگرم ہے وہ شاہدرہ کے مظاہرین کو بجلی، گیس تو نہیں دے سکتا اور دریائے راوی میں پانی کب آئے گا؟
گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے صدر زرداری کو پنجاب کی پگڑی (پگ) پہنا دی مگر یہ تو گورنر ہاو¿س کے ملازمین کی وردی ہے۔ ایک بہادر اور سُچا گورنر امیر م*مد خان نواب کالا باغ بھی یہی پگ پہنتا تھا اور اس نے ملازموں کی وردی میں پگ کو ختم کر دیا تھا۔ انگریزوں نے ہندوستان کے پنجابی مسلمانوں کی توہین کے لئے یہ جابرانہ اہتمام کیا تھا۔ آج کے بعد پگڑی کی توہین نہ ہو بلکہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر پگڑی پہننا شروع کر دیں۔ وہ کالی عینک بھی تو لگا کے رکھتے ہیں۔ اس پگ کا طرہ بھی ہوتا ہے اور اس کے بعد طرہ امتیاز بھی تو کوئی ہونا چاہیے۔ نوازشریف نے بے نظیر بھٹو کے مقابلے میں اس خطرے پر سیاست کی تھی۔ ”تری پگ نوں لگ گیا داغ۔“ صدر زرداری نے وہ پگ پہلے ہی سر پر رکھ لی ہے۔ پیر کبیر علی شاہ نے بتایا کہ جب نواب کالا باغ امریکہ کے دورے پر جا رہے تھے تو صدر ایوب نے کہا کہ میری خواہش ہے نواب صا*ب سوٹ پہن کر جائیں۔ نواب کالا باغ نے کہا کہ میں اپنی تہذیب و ثقافت کو صرف امریکی *کام کے لئے نہیں چھوڑ سکتا آج کے *کمران سوچیں کہ انہوں نے امریکی *کام کے لئے کیا کیا چھوڑ رکھا ہے اور کیا کیا اختیار کر رکھا ہے۔
نوازشریف نے کراچی میں سندھی ٹوپی پہنی اور اجرک اوڑھ لی، صدر زرداری نے لاہور میں پنجابی پگ پہنی اور ورکروں سے پنجابی میں خطاب کیا یہ بڑی معرکہ آرائی ہے۔ نوازشریف سندھی میں کیسے خطاب کریں گے۔ ا س جلسے میں کمپیئرنگ اردو میں جہانگیر بدر نے کی شاید اسے پتہ نہ تھا کہ صدر زرداری پنجابی میں خطاب کریں گے ورنہ وہ تو اردو بھی پنجابی لہجے میں بولتا ہے اور یہ اعزاز کی بات ہے میر ہزار خان بجارانی نے انگریزی میں خطاب کیا۔ یہ کمپلکس ہمارے وزیرں میں سے جاتا کیوں نہیں۔ منظور وٹو کی کرپشن سے آزاد کر کے اس وزارت کو بجارانی کی قید میں دے دیا گیا ہے یہاں ان کے خطاب کی ضرورت کیا تھی۔ ؟!


[cubic1:1tx7gh00][/cubic1:1tx7gh00]