کراچی(اسٹاف رپورٹر) صدر آصف زرداری کی شہر میں موجودگی کے باوجود *کومت کی *لیف جماعتوں مت*دہ اور اے این پی کے درمیان جمعہ کو شروع ہونے والا خونریزتصادم جاری ہے‘ہفتہ کو ٹارگٹ کلنگ کی جاری لہر میں 24گھنٹوں کے دوران 12افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ ایک گاڑی بھی نذرآتش کردی گئی ۔انتظامیہ مکمل طور پر مفلوج ہوکررہ گئی‘کئی علاقوں میں مسل* دہشت گرددندناتے رہے ‘فائرنگ کے باعث عوام گھروں میں م*صور ہوکررہ گئے۔ ہفتہ کو قصبہ کالونی اور اورنگی ٹاﺅن میں پورا دن فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا جس میں مزید7 افراد ہلاک ہوگئے جن میں سے 6 کا تعلق اے این پی سے بتایا جاتا ہے جنہیں اغواءکے بعد گولیاں مارکر قتل کیا گیا۔ اورنگی ٹاﺅن میں واقع غازی م*لہ سی3 افراد 35 سالہ رسول خان ولد بخت زمین، 20 سالہ طوطی خان ولد ریتی گل اور ایک نامعلوم شخص کی نعشیں ملیں‘ بلاک 3 سے 35 سالہ سعید بادشاہ اور نامعلوم شخص کی گولیوں سے چھلنی نعشیں برآمد ہوئیں ۔ اورنگی کے ہی علاقے میں واقع 1-L کے آخری اسٹاپ سی2 لاشیں ملیں۔ اورنگی ٹا¶ن نمبر ایک میں نیک م*مد نامی شخص کی نعش ملی جس پر گولیوں اور تشدد کے نشانات تھے۔لیاقت آباد ارم بیکری کے پاس فائرنگ سے 30سالہ ساجد *سین ماراگیا‘مقتول نجی ٹی وی کاملازم اور مت*دہ قومی موومنٹ کاکارکن بتایا جاتا ہے ‘مقتول کے والد‘بھائی اور ماموں کو بھی اس سے قبل قتل کیاجاچکا ہے ۔منگھوپیر سلطان آباد میں 35سالہ فہیم گولیوں کانشانہ بنا‘لیاری نوالین میں 30سالہ ساجد ہلاک ہوا۔شرپسندوں نے اورنگی ٹا¶ن میں 1-Dبس اسٹاپ کے قریب روٹ نمبرG-27منی بس کو نذرآتش کردیا۔فساد سے متاثرہ اورنگی ٹا¶ن میں خوف وہراس کے باعث دکانیں اور بازار بندرہے جبکہ لوگ گھروں میں م*صور ہوکر رہ گئے۔پولیس ذرائع کے مطابق تو*ید کالونی، بہار کالونی، اورنگی 11،12،13 میں کشیدگی برقرار ہے۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ فسادات کے دوران رینجرز اور پولیس اہلکار خاموش تماشائی بنے کھڑے رہے۔صدر آصف زرداری نے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کانوٹس لے لیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نے سی سی پی او کراچی سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے شرپسندوں کی فوری گرفتاری کے ا*کامات جاری کردیے ہیں۔وزیراعلیٰ نے جاں ب*ق ہونے والوں کے لوا*قین سے ہمدردی کااظہا رکیا ہے۔