ایک طرف انسانیت کو محفوظ بنانے کے دعوے اور دوسری طرف خطرناک ہتھیاروں کی تیاری یہ ہے امریکا کی پالیسی۔ اب امریکا میں انسانوں کی طرح ذہین اسٹیلتھ ڈرون کی تیاری کا کام جاری ہے۔

امریکہ: ایکس فورٹی سیون بی نامی اسٹیلتھ ڈرون پر پانچ برس سے کام جاری ہے۔ یہ ڈرون پہلے سے پروگرام شدہ مشن پر جائے گا اور مشن پورا ہوتے ہی آپریٹر کی ہدایات پر واپس آ جائے گا۔ اس ڈرون میں طیارہ بردار بحری جہاز پر لینڈ کرنے کی صلاحیت بھی ہو گی۔ یہ طیارہ ریموٹ کنٹرول کی بجائے مصنوعی ذہانت سے کام کرے گا۔ اس میں خود کار پائلٹ، تصادم سے بچاؤ کا نظام اور جی پی ایس سسٹم نصب ہو گا۔ یہ طیارہ ایک دفعہ ایندھن بھرنے پر دو ہزار میل تک پرواز کر سکتا ہے اور دو ہزار پانڈ وزنی دھماکہ خیز مواد لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ امریکی فوج کا روبوٹ سے چلنے والا پہلا ہتھیار ہوگا اور یوں فلموں میں دکھائی جانے والی مشینی جنگ حقیقت کا روپ دھار لے گی۔