Talu e Aftab - Tayyaba Zia - 27th February 2013

وری دنیا بے سکونی کا شکار ہے، ڈیپریشن اور اعصابی کھچاﺅ میں مبتلا ہے مگر پاکستانی قوم دنیا کے کسی خطہ میں آباد ہے، اس کا حال سب سے ابتر ہے۔ کچھ وطن کے حالات نے پاکستانی قوم کو دکھی کر رکھا ہے اور کچھ ان کی اولادوں کے مسائل نے انہیں پریشان کر دیا ہے۔ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں قناعت، شکر گزاری اور توکل اللہ کی خوشبو کا احساس ہوتا ہے۔ جس کو دیکھو خود ساختہ آزمائشوں اور الجھنوں میں گھرا ہوا ہے۔ مہنگائی نے الگ سے کمر توڑ دی ہے۔ بیرون ممالک مہنگائی کا وہ عالم نہیں جو حالات پاکستان میں سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ڈالر کی قیمت میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ پاکستان کی معیشت روز بروز ڈوبتی جا رہی ہے۔ پاکستان شماریات بیورو کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سات مہینوں کے تجارتی اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ زرعی آلات، ٹیکسٹائل اور صنعتی مشینری کی درآمد میں کمی ہوئی ہے جبکہ موبائل اور چائے کی درآمد میں اضافہ ہوا ہے۔ مہنگائی کا رونا رونے والے پاکستانی 39 ارب روپے کے درآمدی موبائل خرید چکے ہیں جبکہ 21 ارب روپے کی امپورٹڈ چائے بھی پی گئے ہیں۔ موبائل فون اور دیگر ٹیلی کام آلات کی درآمد میں 64 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ 21 ارب روپے کی چائے منگوائی گئی ہے۔ امریکی ڈالر سو روپے کا ہو گیا ہے جس کے باعث مہنگائی میں مزید اضافہ کا امکان ہے۔ پاکستان کے مرکزی بینک کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2012 میںمعاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی۔ 2012 میں سرمایہ کاری کی شرح سود میں 2.5 میں کمی کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق حکومتی قرضہ 129 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ عوام میں بھی اصراف اور اخراجات میں کمی دیکھنے میں نہیں آتی۔ غیر ملکی کرنسی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ انسان کی زندگی سستی ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستانیوں کی بے سکونی کا ایک سبب ٹی وی کے امیرانہ اور گمراہ کن ڈرامے اور تصنع و بناوٹ سے بھرپور شوز ہیں جن کو دیکھنے کے بعد ایک چنگی بھلی عورت بھی ڈیپریشن اور احساس کمتری کا شکار ہو جاتی ہے۔ مردوں میںچائے اور سگریٹ کا استعمال بھی بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ نفسیاتی مسائل کا حل سگریٹ میں تلاش کرنے والے مزید مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بے سکونی کی بڑی وجہ اللہ سے دوری ہے۔ جن گھروں میں نماز فجر سے غفلت برتی جاتی ہے، وہاں سکون اور برکت ناممکن ہے۔ طلوع آفتاب کا نظارہ کرنے والے تمام دن مطمئن رہتے ہیں اور غروب آفتاب کے قیمتی لمحات اپنے والدین کی صحبت میںگزارنے والے تمام عمر بے فکر رہتے ہیں۔ مالی و ذہنی پریشانیوں کا سبب حکومت نہیں بلکہ خود انسان کے اندر کی حکومت ہے جہاں شیطان نے بسیرا کر کھا ہے اور اسے دلاسہ دیتا رہتا ہے کہ تمہارے مسائل کا سبب ملکی حالات ہیں حالانکہ ملکی حالات کی بڑی وجہ یہ لوگ خود ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق رہا اور نہ ہی خونی رشتوں کی حیاءرہی۔ بوڑھے والدین بیٹوںکی قربت کو ترستے ہیں اور دور حاضر کے ماں باپ اپنی اولاد کی تعلیم اور نافرمانی سے پریشان ہیں۔ سگریٹ ،شراب اور چائے کی کثرت مسائل سے نجات کا ذریعہ نہیں بلکہ مزید مسائل کا سبب ہے۔ ناکامیاں اور محرومیاں انسان کو حسد کی لعنت میں مبتلا کر دیتی ہیں اور حسد وہ سرطان ہے جس کا علاج دنیاکے کسی ماہر کے پاس نہیں۔ نا شکرگزار انسان حسد کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ جو نعمتیں اس کے پاس ہیں ان کا شکر ادا کرنے کی بجائے جو اس کے پاس نہیں ہے ان کے حصول کے لئے تلملاتا رہتا ہے۔ دوسروں سے حسد کرتا ہے۔ غصہ میں اپنا نقصان کر بیٹھتا ہے مگر نا شکرگزاری اور حسد کے روگ سے نجات پانے کی کوشش نہیں کرتا۔ شراب اور غصہ دونوں کو حرام کہا گیا ہے مگر ایک کو نہ پینے کا حکم ہے اور دوسرے کو پینے کا حکم ہے۔ شراب پینے سے امراض اور فسادات جنم لیتے ہیں جبکہ غصہ پینے سے امراض اور فسادات سے نجات مل جاتی ہے۔ غصہ سے دلوں میں کینہ پیدا ہوتا ہے اور کینہ سے حسد اور حسد کئی بیماریوں کی جڑ ہے۔ حضرت امام غزالی ؒ لکھتے ہیں کہ حسد اسے کہتے ہیں کہ کسی کو کوئی نعمت ملے اور تجھے برا معلوم ہو اور تو چاہے کہ یہ نعمت اس سے چھن جائے۔ حضرت موسیٰؑ نے ایک شخص کو عرش کے سایہ میں دیکھا، انہیں اس اعلیٰ مقام کی آرزو ہوئی۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے اس شخص کی بابت سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اے موسیٰ، میں آپ کو اس شخص کے کردار کی بابت بتاتا ہوں کہ اس شخص نے کبھی حسد نہیں کیا، اپنے ماں باپ کی نافرمانی نہیں کی۔ حضرت زکریاؑ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ حاسد ہی نعمت کا دشمن ہے اور میرے حکم سے خفا ہوتا ہے اور اپنے بندوں کو جو میں نے دیا ہے اسے پسند نہیں کرتا۔ پاکستانیوں میں حسد اور ناشکرگزاری کے امراض شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ مسائل کا حل اور سکون قلب کا علاج نماز فجر کے وقت اللہ تعالیٰ کے حضور گناہوں کی استغفار اور اللہ تعالیٰ سے راضی برضا کی توفیق مانگنے میں ہے۔ اپنے دل کی کھڑکی کا پردہ ہٹاﺅ اور دیکھو، زندگی کا سورج تمہاری رہنمائی کا منتظر ہے۔ طلوع آفتاب میں زندگی کی خوشیاں پنہاں ہیں