Ab Bhala Lagta Hai - Khalid Ahmad - 27th February 2013

آج ہم کچھ دوستوں کے مجبور کرنے پر ایوانِ عدل تک جا پہنچے! اور سول سیکرٹریٹ کی دیوار کے ساتھ واقع کارپارکنگ میں میزبان دوستوں کا انتظار کرتے کرتے تقریباً پتھرکے ہو گئے! اور پتھرائی ہوئی آنکھوں سے لوگوں کا ایک انبوہ بار بار اپنے سامنے سے گزرتے دیکھ کر ہمیں پوچھنا ہی پڑ گیا کہ اللہ کی یہ مخلوق کدھر سے آ رہی ہے،تو، ہمارے اغوا کنندہ دوستوں نے ہمیں بتایا کہ یہ لوگ میٹرو بس سروس کے سٹاپ سے اُتر کر اپنی اپنی منزل کی طرف جا رہے ہیں!اور یوں ہم نے پہلی بار کسی بس سٹاپ پر بیک وقت اِتنے لوگ اُترتے اور اُن سے زیادہ لوگ بس سٹاپ کی بلندی پر جاتے دیکھے!
ہم صبح کا اخبار دیکھ کر گھر سے نکلے تھے! اور ایک تین کالمی خبر ہمارے ذہن میں چکرا رہی تھی! وہ خبر یہ تھی کہ جنابِ چودھری پرویز الٰہی نائب وزیر اعظم پاکستان نے بہاول پور میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا فرمایا تھا کہ جن لوگوں نے جنگلا سروس پر 70ارب روپے لگا دیئے! مگربس نہ چلا سکے! وہ بے چارے حکومت کیا خاک چلائیں گے!
جنابِ چودھری پرویز الٰہی کا مشاہدہ ہمارے مشاہدے سے یکسر اُلٹ تاثر مرتب کر رہا تھا! اورہمیںنہ صرف یہ احساس ہو رہا تھا کہ بس بھی چل رہی ہے ! اور حکومت بھی یہی چلا سکتے ہیں، جنہیں غربا کی کٹیا کی حالت ،امرا کی بنگلہ سیاست سے کہیںزیادہ عزیز ہے!
آج کے اخبارات میں میٹرو بس سسٹم پر عوام کے بھرپور اعتماد اور پزیرائی کے سلسلے میں ایک اشتہار بھی شائع ہوا ہے! میٹرو بس سسٹم کے مطابق میٹرو بسوں پر ایک دن میں سفر کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ آٹھ ہزار ہو چکی ہے!
اگر میٹرو بس سسٹم کے افتتاح کے موقع پر اِن بسوں میں مفت سفر کرنے کی اجازت نہ دی جاتی،تو، میٹرو بسوں میں توڑ پھوڑ اور اس قومی اثاثے کی غیردانش مندانہ بے حرمتی کے مناظر دیکھنے میں نہ آتے! کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا جیالا کارکن مخالفت کی آگ دہکانا اور اُسے جنگل کی آگ کی طرح پھیلانا بہت اچھی طرح جانتا ہے!
جنابِ چودھری پرویز الٰہی نے لاہور ، بہاول پور، یزمان منڈی میں مختلف جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ نون لیگ کسان دشمن پارٹی ہے! جنوبی پنجاب کے باسیوں کے ساتھ زیادتیاں کی جا رہی ہیں! اور جنابِ نائب وزیر اعظم برسرِاقتدار آکر جنوبی پنجاب کے حقوق اُنہیں دِلا کے رہیں گے! گویا وہ ابھی برسرِاقتدار نہیں ہیں! بہاول پور میں یزمان کے مقام پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ شیخ چلی نے ٹیکسی، تندور اور لیپ ٹاپ جیسی فلاپ سکیمیں دیں! حالانکہ جنابِ شیخ چلی نے اس کے علاوہ اور بہت کچھ کیا! مثلاً دانش سکول قائم کیے! اور آشیانہ سکیم کے تحت غریب کارکنوں کے لیے جدید آبادیاں بھی بسائی جا رہی ہیں!جنابِ چودھری پرویز الٰہی غصے میں بہت کچھ بھول جاتے ہیں! اگر ہم اُن کے تقریر نویس ہوتے،تو، ہم اُنہیں اور بہت سی چیزیں یاد دلاتے! مثلاً لوگوں کے لیے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے، خاص طور پر یاد دلاتے!
جنابِ شہباز شریف کی سوچ رکھنا ہر آدمی کے بس کی بات نہیں! جنابِ نواز شریف نے موٹروے کا منصوبہ شروع کیا! اور یہ منصوبہ جنوبی کوریا کے سرمائے سے مکمل ہوا! خیال تھا کہ اس منصوبے کی لاگت چالیس سال میں واپس آ جائے گی! مگر، جنوبی کوریا کے ادارے نے صرف سات سال میں موٹروے کی پوری لاگت منافع سمیت حاصل کرکے اسے حکومت کے حوالے کر دیا! حتیٰ کہ اُن کی ڈائیوو بس سروس سمّی ڈائیوو بس سروس بن کر جنابِ چودھری پرویز الٰہی کی جیب میں چلی گئی!اور اب دن رات اُن کے لیے پیسہ بنا رہی ہے! پھر ہمیں وہ لوگ بھی یاد آتے ہیں، جنہیںموٹروے کی تعمیر بھی احمقانہ لگی تھی! اور اُس کے بعد اُنہی لوگوں نے اسلام آباد سے پشاور تک موٹروے تعمیر کروا کے نہ جانے کس کے منہ پر تھپڑ مار لیاتھا!
اچھا کام سوچنا اچھی بات ہے! مگر، اچھا کام کر دکھانا اُس سے بھی زیادہ اچھی بات ہے! جنابِ نواز شریف اور جنابِ شہباز شریف اُس نسل سے تعلق رکھتے ہیں، جنہیں پاکستان دُنیا میں سربلند ترین قوم بنا دینے کا سودا ہے!اور یہ سودائی اس کام سے پیچھے ہٹنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوئے! حالانکہ اُنہیں ہر قدم پر کبھی شیخ چلی! اور کبھی خوابوں کی دُنیا کے باسیکہا گیا! مگر، پاکستان کو جوہری جمہوری پاکستان بنانے کا اعزاز اِنہیں کے سر سجا! اور قیامت تک سجا رہے گا!
پاکستان پیپلز پارٹی کے سرکاری وکیل جنابِ اعجاز رضوی نے اس صورتِ حال پر بہت عجیب تبصرہ کیا ہے:
میں رہا ہوں ایک مدت ہم سفر زنجیر کا
اب بھلا لگتا ہے مجھ کو شور و شر زنجیر کا
رفتہ رفتہ خون کی رنگت بھی کالی پڑ گئی
جسم سے بڑھ کر ہوا ، اندر اثر زنجیر کا
شہر والوں پر ابھی برسے ہیں گُل جھنکار کے
بس ذرا سی دیر میں آیا ثمر زنجیر کا