شیکسپیئر نے تو ڈرامائی تشریح میں یہ کہہ دیا تھا کہ یہ دنیا ایک سٹیج ہے اور ہم سب انسان اپنا اپنا کردار ادا کرنے کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔ اپنا کردار ادا کر کے چلے جاتے ہیں مگر اس سٹیج کا سکرپٹ خود خالق کائنات لوح محفوظ پر لکھ دیتا ہے اور جب اپنی تمناﺅں سے ہارا ہوا بندہ یہ کہتا ہے کہ دنیا بڑی بری ہے اور زمانہ بڑا خراب ہے تو زمانے کا مالک مسکراتا ہے اور کہتا ہے میں زمانہ ہوں۔ انا الدھر.... کتنی بار کہا ہے زمانے کو برا نہ ہو.... تب وہ ہمیں ان بندوں کی صورتیں دکھاتا ہے جو بندے اس نے دنیا کو سجانے کیلئے اور دنیا کو خوبصورت بنانے کیلئے بھیجے....
جتنی برائیاں اس دنیا میں ہیں اور جتنے مکروہ کام اس دنیا میں ہو رہے ہیں۔ اس سے زیادہ نیکیاں پھیلانے والے اور دنیا کے مسائل حل کرنے والے بندے اس نے دنیا میں بھیجے ہیں۔
کیا وجہ ہے کہ بدوں کو تو ہم ہر وقت کوستے رہتے ہیں مگر اچھوں کا ذکر خوش خلقی کے ساتھ اکثر نہیں کرتے....
جب کبھی جناب حمید نظامی اور ان کے رفقائے کار کا ذکر آتا ہے میرا سر ان کے احسانا ت کے آگے جھگ جاتا ہے۔
کیا زمانہ تھا وہ.... جب جناب حمید نظامی نے قائداعظم محمد علی جناح کا ساتھ دینے کے لئے قدم بڑھائے تھے کیا آج سے اچھا زمانہ تھا۔ نہیں آج سے زیادہ بدتر حالات تھے۔ حکمرانی فرنگی کی۔ سیاست اور چالبازی بنیے کی۔ حق تلفی اور زبوں حالی مسلمانوں کی۔ حق کی ایک آواز پر دس چالباز کھڑے ہو جاتے تھے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جناب حمید نظامی اور ان کے ہم عصروں کا کلیجہ ضرور لوہے کا ہو گا۔
آج جو لوگ بڑھ بڑھ کے پاکستان کے متعلق فضول قسم کی باتیں کرتے ہیں اور پاکستان کی زمین کے اوپر اترا اترا کر چلتے ہیں۔ ان کو معلوم ہو کہ یہ سب برکتیں اور حرکتیں صرف اور صرف پاکستان کی بدولت ہیں اور پاکستان کی مرہون منت ہیں۔ ان نوجوانوں کا جنہوں نے جنونی انداز میں پاکستان کی تخلیق کا علم بلند کیا۔
قیامت تک ہم ان لوگوں کا ذکر کرتے رہیں گے۔ ان کے مدارج کی بلندی کےلئے دعا کرتے رہیں گے جنہوں نے اپنا آج اپنی قوم کے کل پر قربان کر دیا۔
حمید نظامی جیسے جذبوں سے لدے ہوئے لوگ جب دنیا میں آتے ہیں تو ایسا کام کر کے جاتے ہیں کہ ان کے نقوش قدم ہمیشہ کے وقت وقت کے پردوں پر مرتسم ہو جاتے ہیںتاکہ آنے والی نسلیں ان نقوش قدم پر پاﺅں رکھتے ہوئے اپنی منزل کی جانب رواں ہوں....
نہیں مصلحت سے خالی یہ جہانِ مرغ و ماہی!
ہر اچھا واقعہ اور ہر حادثہ اپنے ردعمل میں ایک نہ بھولنے والا سبق چھوڑ جاتا ہے.... جناب حمید نظامی نے اپنی جوانی میں حب الوطنی کا جو پودا لگایا تھا۔ اس کی آبیاری کے لئے جناب مجید نظامی آ گئے نہ اس پودے کو مرجھانے دیا نہ گرم ہواﺅں میں جھلسنے دیا.... بلکہ پاکستان کے عاشقوں کی ایک بہت بڑی فوج تیار کر لی....
جناب مجید نظامی نے وہ سارے اصول اپنا لئے جو حمید نظامی کی خرد عمل میں تھے اور جو انہوں نے قائداعظمؒ محمد علی جناح سے سیکھے تھے۔ بعض اوقات مجید نظامی کی باتیں بہت عجیب لگتی ہیں مگر دل کو بھلی بھی لگتی ہیں۔ اپنے بھائی کی طرح وہ بھی فولادی ارادے کے مالک ہیں۔ صاف گو ہیں منافقت کے سامنے تلخ گو ہیں۔ اٹل بات کہتے ہیں۔ اپنا ایک موقف رکھتے ہیں۔ موقف کے اندر ایک نصب العین ہے اور نصب العین موجب طمانیت و راحت ہے۔ نئی نسلوں کو معلوم ہو کہ ایسی شخصیات اپنے عظیم والدین کی تربیت اور رزق حلال سے پیدا ہوتی ہیں۔ بڑے بڑے ادارے بنا کرچھوڑ جانا یا ان کو چلاتے جانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ خون جگہ سے ان کی نمود ہوتی ہے۔ آج اگر ہم پاکستان کے علاوہ دنیا کے جس بڑے ادارے پر نظر ڈالیں۔ معلوم ہو گا کہ اس ادارے کی جڑوں میں انتھک محنت، دیانت داری اور رزق حلال کا پانی ڈالا گیا ہے۔ اسی لئے دنیا نے انہیں تسلم کر رکھا ہے۔ اس جذبے کو علامہ اقبال نے اس طرح ادا کیا تھا
نقش ہیں سب ناتمام خونِ جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام خونِ جگر کے بغیر
خون جگر کی تلمیح علامہ اقبال نے جذبہ عشق کے لئے استعمال کی تھی کہ جب کوئی نیک مقصد آپ سامنے رکھ لیں تو اس کی تکمیل میں عشق کی حد تک جائیں۔
پاکستان کی بات کرتے رہنا۔ پاکستان کے حق میں بات کرتے رہنا۔ پاکستان کی بات بڑھاتے رہنا اب مجید نظامی کا بھی مشن ہے اور مجید نظامی کے ساتھ اس ملک کا ہر دیوانہ کھڑا ہوا ہے۔ ادارے ایک دن میں نہیں بن جاتے۔ اور اداروں کو قائم و دائم رکھنا بڑا جان جوکھم کا کام ہے اور یہ کام انشاءاللہ مجید نظامی بخوبی کر رہے ہیں اور کرتے بھی رہیں گے۔
آج پھر انہوں نے اداریے میں کالا باغ ڈیم کی بات اٹھا دی ہے۔ میں نے جب2009 میں اسمبلی کے فلور پر اسے اٹھایا تھا تو لوگوں نے کہا تھا۔ یہ ڈیڈ ایشو ہے مگر یہ ایشو جتنا اہم اور ضروری پہلے تھا آج بھی ہے۔ نوائے وقت نے اس کے لئے بہت کام کیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگاروں نے تحقیق کے ساتھ اس پر کالم بھی لکھے ہیں۔ دل جل رہا ہے اور ماحول سلگ رہا ہے۔ انڈیا نے دریائے نیلم پر کشن گنگا ڈیم بنانے کا تہیہ کر لیا ہے۔ کب تک ہم سب کبوتر کی طرح آنکھیں بند رکھیں گے۔کہیں کوئی ایمان کے ساتھ کہتا رہتا ہے کہ ایک دن کالا باغ ڈیم بن کے رہے گا۔
الیکشن کے بارے میں غیر یقینی باتیں پھیلانے والے بھی سمجھ لیں کہ پاکستان کی تمام بیماریوں کا علاج بھی انتخاب کروا دینے میں ہے۔ انتخابات میں سب نئے لوگ نہیں آ سکتے۔ سب نئے لوگ تجربہ کار نہیں ہوتے۔ اسمبلیوں کے اندر بیٹھنے اور کارکردگی میں حصہ لینے کے لئے بھی کم از کم ایک سال کی ٹریننگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہاں آپ نے بہت سوں میں سے بہتر چننے ہیں۔ جس طرح آپ بیر خریدنے جاتے ہیں۔ اتنے سستے پھل.... میں سے بھی چن چن کر بیر نکالتے ہیں تو منتخب نمائندے کیوں نہیں چن چن کر لاتے۔ شروع میں ہم نے کہا تھا کہ دنیا کو سنوارنے اور بنانے والے وہی بندے ہیں جو دنیا میں اپنے نقوش قدم چھوڑ جاتے ہیں۔ آنے والی نسلوں کی رہنمائی کےلئے جغرافیے کی اہمیت بڑھانے کیلئے اور تاریخ کے صفحات کو سنہری بنانے کےلئے.... یہ دنیا ہمیشہ ایسے بندوں کا انتظار کرتی رہتی ہے۔