اللہ کی شان عطا کرنا ہے، سرکار عطا کو تقسیم فرماتے ہیں، عامرلیاقت
نیوجرسی (نمائندہ جنگ) معروف ریسرچ اسکالر ڈاکٹر عامرلیاقت حسین نے کہا ہے کہ یہ اللہ کا اپنے بندوں سے وعدہ ہے کہ اگر ان کے گناہ سمندرکے جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں وہ انہیں معاف کردے گا مگر جنہوں نے شرک کیا اور اس کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک بنایا اللہ ان پر غالب ہے اور اس کی پکڑ بہت شدید ہے۔ نیو جرسی میں مسلم فیڈریشن آف نیو جرسی کے زیراہتمام میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک روح پرور محفل سے خطاب کرتے ہوئے عامرلیاقت حسین کا کہنا تھا کہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہلا اور بنیادی تقاضہ یہی ہے کہ آقا کو عبد ماننا ہے اور آقا کے خالق کو معبود، رزق دینے والے کو رازق اور سرکار کو قاسم، عطا وہ کرتا ہے جس کی شان عطا کرنا ہے اور تقسیم وہ کرتے ہیں جنہیں مسند رحمت پر بٹھاکر اللہ نے ان کے ذکر کو بلند کردیا۔ انہوں نے کہا کہ سوچنے والی بات یہ ہے کہ اللہ قرآن میں خود ارشاد فرماتا ہے کہ بے شک اللہ ہی کے ذکر سے قلوب اطمینان پاتے ہیں یعنی ہمارے اطمینان کا مقام اللہ کا مسلسل ذکر ہے لیکن ہم سے اللہ کے راضی ہونے کا مقام وہ ذکر ہے جسے خود پروردگار نے ورفعنالک ذکرک ارشاد فرماکے بلند کردیا، اب ذرا خالق کی محبوب سے محبت کا اندازہ لگایئے کہ محبوب چاہتے ہیں کہ ہم اللہ کے ذکر سے اپنے مضطرب قلوب کو مطمئن کریں اور مالک کا حکم ہے کہ جس کے ذکر کو میں نے بلند کردیا میرے بندے اسی کا ذکر کریں، یعنی ایک کا ذکر عبادت ٹھہرا تو دوسرے کا اطاعت، ایک کیلئے سجدہ ہے تو دوسرے کیلئے تعظیم، ایک کیلئے جھکنا ہے تو دوسرے کا دامن تھام کے گمراہی کے اندھیروں سے اٹھنا ہے لیکن اس فرق کے ساتھ کہ ایک پیدا کرنے والا خالق ہے اور دوسرا انسانوں کے درمیان بھیج اجانے والا وہ عبد کہ جسے اللہ نے محبوبیت کا تاج پہناکر ان کی تعظیم و توقیر کو ایمان قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیارے نبی ﷺ ہمیں آگ میں گرنے سے بچارہے ہیں اور ہم اپنے محدود ترین علم پر گرور کرتے ہوئے آگ ہی کو راستہ قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعرات اور جمعے کی برکتیں تو عام ہیں لیکن افسوس ہے ان پر کہ جنہیں دریا میں رہتے ہوئے بھی پانی نہ ملا۔ بعدازاں انہوں نے حاضرین کی فرمائش پر حمد اور نعتیں پیش کرکے ایک سماں باندھ دیا اور ان کی دعا پر ہر آنکھ اشک بار ہوگئی۔ عامر لیاقت حسین نیوجرسی سے شکاگو روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ الہدیٰ مسجد میں لیکچر دیں گے۔
www.aamirliaquat.com, Twitter: @aamirliaquat