قتل و غارت عذاب کی شکل ہے، یہ اجتماعی توبہ کی گھڑی ہے، عامر لیاقت
شکاگو(نمائندہ جنگ) ممتاز ریسرچ اسکالر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا ہے کہ اِس میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت پر وہ عذابات نہیں آئیں گے جنہوں نے قوموں کو فنا کر کے رکھ دیالیکن رذیل ترین افراد جب قوم کے رہنما بن جائیں،ظالم اقتدار پر مسلط ہوجائیں، اجتماعی بے حِسی عام ہوجائے،جھوٹ ،فریب، خیانت اور دھوکے کو فخر سمجھا جائے، سود کو ضرورت قرار دے دیا جائے اور قتل و غارت عام ہوجائے تو اِسے بھی عذاب کی شکل ہی قرار دیا جائے گا۔شکاگو میں قائم الہدیٰ مسجد میں لیکچر دیتے ہوئے عامر لیاقت حسین کا کہنا تھا کہ اللہ نے کسی شے کو منحوس نہیں بنایا،وہ احسن الخالق ہے، خامی یا برائی کو اس سے منسوب کرنا بھی کفر ہے لیکن اعمال کہ جن میں انسان کو اللہ نے عقل کے ذریعے اختیاردیا ہے وہی اُسے یا تو قابل نفرت بنادیتے ہیں یا قابل تعظیم۔ اُنہوں نے کہاکہ انسانی لاشوں پر نظریات کی منڈی لگا کر عقیدے بیچنے والے ہی وہ قابلِ نفرت نفوس ہیں جن پر اللہ اور اُس کے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ آج امت مسلمہ کی سب سے بڑی بدقسمتی اُن پر مسلط حکمران ہیں، عیاشیوں ، مستیوں اور نبی ﷺکے دشمنوں سے پینگیں بڑھانے کے سوااِن کا دھیان کسی اور طرف جاتا ہی نہیں،اِنہیں فکر نہیں کہ کوئی جئے یا مرے کیونکہ اِنہوں نے اپنے محلات کے عالیشان کمروں میں احساسات کی کئی قبریں بنا رکھی ہیں اور اِن قبروں کو ہی وہ اپنا احساس سمجھتے ہیں۔اُنہوں نے کہاکہ اِن حالات میں اُمت کو بھی چاہیے کہ وہ اِس قرآنی حکم کو سمجھے کہ اللہ اُس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ خود اُس قو م کو اپنی حالت بدلنے کا خیال نہ ہو۔عامرلیاقت حسین نے کہا کہ آج ہمیں مسلکی بنیادوں پر تقسیم کیا جارہا ہے حالانکہ مسلک اختیار کرنا برائی نہیں لیکن اِس کی آڑ میں نفرت کا پرچار یقینا گناہِ عظیم ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ آج پاکستان کی حالتِ زار پر دیارِ غیر میں موجود تارکینِ وطن اِس لیے خون کے آنسو روتے ہیں کیونکہ وہ اپنے وطن کو اِس حال میں چھوڑ کر نہیں آئے تھے کہ آج جس حال میں وہ ہے ، یہ انسانوں کی ایک ایسی بستی ہے جس میں انسان، انسان ہی سے محفوظ نہیں ہیں، یہاں لہو پینے والے درندوں نے نہیں بلکہ بوٹیاں اُڑانے والے انسانوں نے حملہ کیا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ یہ گھڑی اجتماعی دعا اور خالق کی بارگاہ میں سچے دل سے استغفارکی ہے ، ہم بے قراروں کو قرار اُسی وقت ملے گا جب ہم سچے دل سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں گے۔ عامر لیاقت حسین کی گفتگو کے دوران الہدیٰ مسجد میں مردو خواتین کی ایک بڑی تعداد روتی رہی اور اللہ کے حضور دعاؤں کی صدائیں بلند ہوتی رہیں۔بعد ازاں صلوٰةو سلام اوردعا پر لیکچر کا اختتام ہوا۔ عامر لیاقت آج ہیوسٹن روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ بڑی محافلِ میلاد سے خطاب کریں گے۔
www.aamirliaquat.com, Twitter: @aamirliaquat