سانحہ عباس ٹاﺅن کراچی، از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران، چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنی Observations ( تبصروں) میں کہا کہ۔” اس سانحہ میں 50سے زیادہ لوگ جاں بحق ہُوئے اور لاتعداد زخمی اور اس کی ذمہ دار سِندھ حکومت ، رینجرزاور پولیس ہے اوریہ سب مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہُوئے ہیں ۔ سندھ حکومت کا، اپنے شہریوں سے روّیہ بدترین اورغیر قانونی ہے ۔ کراچی میں آپریشن کلین اپ ناگزیر ہو گیا ہے ۔ انسپکٹر جنرل پولیس اور سندھ کے دوسرے افسروں کو شرم ہوتی تو وہ عہدے چھوڑ دیتے “۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ ۔جمہوریت کا یہ مطلب نہیں کہ۔ ” امن کو تباہ کر دیا جائے“۔چیف جسٹس کے تبصروں میں، بد امنی اور دہشت گردی پر یہ محض اُن کی رائے زنی نہیں ہے ،بلکہ انہوں نے تو ( کسی دور میں روشنیوں کا شہر کہلانے والے) لہولہان کراچی کا ،نوحہ پڑھ ڈالا ۔ اور گریہ زاری کی ہے ۔اہلِ کراچی پر جو گزر رہی ہے ، اُس پر تو پوری قوم رو رہی ہے۔چیف جسٹس صاحب کا رونا تو ، علامہ اقبالؒ کا رونا ہے ، جب انہوں کے کہا تھا کہ۔ ۔۔
” مرا رونا نہیں ، رونا ہے یہ ، سارے گُلستاں کا “
حکومت کرنے والے ،اوپر سے لے کر نیچے تک ، سب کے سب غیر ذمہ دار ہیں ۔ آوے کا آوہ ہی خراب ہے ۔ نہ صِرف آئی جی سندھ اور اُن کی پولیس ، رینجرز اور اُن کے کمانڈر اوردوسرے اداروں کے سربراہوں، بلکہ گورنر سندھ ، وزیر ِ اعلیٰ اور جمہوریت کے نام نہاد تسلسل کی آڑ میں، لاشوں پر حکومت کرنے والے سب لوگوں کے لئے ،شرم کا مقام ہے ۔کیا وہ اپنی اسی پانچ سالہ کارکردگی پر آئندہ انتخابات میں بھاری اکثریت سے جیتنے کا خواب دیکھ رہے ہیں؟ ۔ مرزا غالب نے تو اپنے گنہگار ہونے کا اعتراف کرتے ہُوئے کہہ دِیا تھا کہ ۔۔۔
” کعبہ کِس مُنہ سے جاﺅ گے غالب
شرم تُم کو ، مگر نہیں آتی ! “
یہ پیپلز پارٹی کی قیادت ( ہائی کمان) کیا مُنہ لے کر ووٹروں کے پاس جائے گی ؟۔ پیپلز پارٹی کے ایک لیڈر ، نامور قانون دان ، شاعر اور دانشور ، بیرسٹر اعتزاز احسن نے 2000قبل از مسیح سے لے کر ،1996ءتک کے دَور کی ،سندھ کی تہذیب و ثقافت ، تاریخ ، سیاست اور معاشرت کے بارے میں” The Indus Saga “کے عنوان سے 1996ءمیں ،ایک نہایت ہی عُمدہ کتاب لِکھی ،جِس کا اردو ترجمہ ۔” سندھ ساگر اور قیام ِ پاکستان“۔ کے نام سے معروف صحافی، مستنصر جاوید نے کِیا اور وہ 1999ءمیں شائع ہُوئی۔ کتاب کے صفحہ 438ءپر جناب اعتزاز احسن بیان کرتے ہیںکہ۔۔۔
” ناقص منتظم ہونے کے ناتے ، وادی سندھ کی اشرافیہ ، نہ تو خود قواعد وضوابط کی پابندی کرتی ہے ، اور نہ کسی دوسرے کے دِل میں، اِس کا احترام پیدا ہونے دیتی ہے ۔ 19ویں صدی کے آخر تک جاری رہنے والی بد امنی نے ،سندھ کے واسی ( رہائشی) کو معاشرتی ذمہ داریوں سے بیگانہ کر دیا ہے۔ دفتر میں ہو یا سڑک پر ، وہ ہر طرح کی ذمہ داری سے یکسر عاری نظر آتا ہے ۔ یہاں تک کہ ایک معمول سرکاری اہلکار بھی درخواست گزاروں کے ہجوم کو ،قطعی غیر ضروری طور پر ، دفتر کے باہر پہروں کھڑا کئے رکھتا ہے ، خواہ اندر بیٹھا وہ چائے کی چُسکیاں لیتے ہُوئے فون پر بے تکان گپّیں ہانک رہا ہو “۔
جناب اعتزاز احسن نے، اپنی قوّتِ مشاہدہ کو برُوئے کار لاتے ہوئے، آج سے 17سال پہلے کی سندھ کی اشرافیہ کے حوالے سے ،وہاں کے حکومتی ارکان کے غیر عوامی روّیے کی عکاسی کرد ی تھی ۔ پاکستان پیپلز پارٹی 30نومبر1967ءکو قائم ہُوئی تو اُس کا تشخص واقعی عوامی تھا اور ذُوالفقار علی بھٹّو کو ۔” قائد عوام“۔ بھی سمجھ لِیا گیا تھا ، لیکن پاکستان کے دو لخت ہونے کے بعد ،جب بھٹو صاحب، سوِیلین چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر اور صدر بن گئے تو ،انہوں نے پیپلز پارٹی ( یعنی عوام کی پارٹی) کو ۔” اشرافیہ کی پارٹی“۔ بنا دِیا ۔ پارٹی میں نہ صِرف سندھ بلکہ چاروں صوبوں کی اشرافیہ کو اعلیٰ ذات کے براہمنوں کا درجہ دے دِیا گیا اور کارکنوں کو شودر۔ اُس کے بعد پیپلز پارٹی سے ، کارکن رخصت ہوتے گئے اور ، ضرورت مند شامل ہوتے رہے ۔جن کے ہاتھوں میں درخواستیں ہوتی ہیں اور زبان پر ۔” بھٹّو ازم زندہ باد“۔ کے نعرے ۔
چاروں صوبوں کی زنجیر “۔محترمہ بے نظیر بھٹّو بھی ا شرافیہ کی لیڈر تھیں اور اُن کے بعد صدر زرداری بھی ۔ فرق اتنا پڑا کہ صدر زرداری نے چاروں صوبوں میں،پارٹی کے لئے ،اپنی پسند کی ایک نئی اشرافیہ تیار کر لی ہے ۔ خرابی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے ۔ وفاق ، سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا،جہاں جہاں پیپلز پارٹی اقتدار پر غالب ہے ، اشرافیہ ہی حاوی ہے ۔ پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعتیں ایم کیو ایم ، عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ق بھی اشرافیہ ہی کی پارٹیاں ہیں ۔ صورت یہ ہے کہ سو ادو کروڑ آبادی کے شہر کراچی پرحکومت ، اشرافیہ کی ہے،لیکن عملی طور پریہ شہر۔ دہشت گردوں ، ٹارگٹ کلرز ، چوروں اور ڈاکوﺅں کے نر غے میں ہے ۔
یہ 712ءتھا ، جب دِیبل ( کراچی سے 37میل دُور بھمبھور کے مقام پر ایک قدیم بندر گاہ) کا حکمران ایک ہندو ۔راجا داہر تھا۔ راجا کی سرپرستی میں وارداتیں کرنے والے، ڈاکوﺅں نے ، جزیرہ سراندیب سے آنے والے عرب تاجروں کا جہاز لُوٹ لِیا اور جہاز پر سوار عورتوں اور بچوں کو بھی گرفتار کر لِیا۔ ایک گرفتار شدہ عورت نے ، اُس دَور کے اُموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے گورنر ( عراق) حجاج بِن یوسف کو خط لِکھ کر کہا تھا ۔ اے حجاج ! ۔” ہم مظلوموں کی مدد کرو!“۔ حجاج بن یوسف نے اپنے بھتیجے ( اور داماد) محمد بن قاسم کو فوج دے کر بھیج دیا ۔ اُس نے مظلوموں کو چھُڑا لیا اور سندھ بھی فتح کر لیا ۔ راجا داہر مارا گیا اور ڈاکوﺅں کا بھی قلع قمع ہو گیا ۔
گذشتہ 5سال سے سندھ میں ، کسی راجا داہر کی حکومت نہیں ہے ، بلکہ ۔” آلِ علیؓ “۔کہلانے والے سیّد قائم علی شاہ وزیرِ اعلیٰ ہیں او ر پڑھے لِکھے اور درمیانے طبقے کی جماعت کہلانے والی ، ایم کیو ایم کے ڈاکٹر عِشرت اُلعباد گورنر ہیں ، لیکن یہ دونوں صاحبان ،مسلح محافظوں اور پورے پروٹوکول اور صوابدیدی اختیارات سے لُطف اندوز ہو کر تاریخ میں اپنا اپناباب رقم کر رہے ہیں ۔ چوروں ، ڈاکوﺅں ، تاوان وصول کرنے والے اغواءکاروں اور قاتلوں کا شکار ہونے والے مرد ، عورتیں ، اور بچے اب کِس خلیفہ ولید بن عبد الملک اور کِس گورنر ، حجاج بن یوسف تک اپنی فریاد پہنچائیں کیا اب کوئی محمد بن قاسم ، اُن کی مدد کو آئے گا ؟۔
مولانا عبد الحلیم شرر نے اپنی ۔ ” تاریخِ سندھ“۔ میں ایک جذباتی منظر پیش کرتے ہُوئے لِکھا ہے کہ ۔” جب مظلوم مسلمان عورت کا خط حجاج بن یوسف کو مِلا تو،اُس نے ،غیرتِ مسلمانی سے جوش میں آکر بلند آواز سے کہا ۔” ہاں میں آرہا ہوں “۔ اب کیا کِیا جائے کہ ڈاکٹر عِشرت اُلعباد۔ حجاج بن یوسف کی طرح طاقتور گورنر نہیں ہیں،صِرف آئینی گورنر ہیں اور پِیرانہ سالی کی وجہ سے۔سیّد قائم علی شاہ موجودہ دَور کے، محمد بن قاسم کا کردار ادا نہیں کر سکتے تو ، مظلوم مرد ، عورتیں اور بچے صِرف سُپریم کورٹ کو ہی اپنا مسیحا سمجھنے پر مجبور ہیں اور مسیحا تو خود انصاف دینے کے لئے مظلوموں کے دروازے پرپہنچ گیا ہے ، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اب پیپلز پارٹی اپنے روایتی ۔” سندھ کارڈ“۔کو کیسے کھیلے گی ؟۔ جو ۔” مجرمانہ غفلت“۔ کی نذر ہو گیا ہے