اگر اللہ ہمارے عیب ظاہر کردے تو ہم شرم سے مرجائیں، عامر لیاقت
ہیوسٹن (نمائندہ جنگ) عالمی شہرت یافتہ براڈ کاسٹر اور ممتاز ریسرچ اسکالر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا ہے کہ اللہ کو راضی کرنا نہایت آسان ہے لیکن اس کے باوجود ہم اپنے پروردگار کو چھوڑ کر اُس کے بندوں کو راضی کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بندے راضی ہوتے ہیں اور نہ کبھی ہوں گے۔ وہ ہیوسٹن میں پاکستان ایسوسی ایشن آف گریٹر ہیوسٹن کے زیراہتمام ایک شام عامر لیاقت کے نام کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے جس میں پاکستانی کمیونٹی کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ عامر لیاقت حسین کا کہنا تھا کہ کبھی اس بات سے مایوس نہیں ہونا چاہئے کہ ہمیں کسی نے مسترد کردیا، عموماً لوگ اُسی کو مسترد کرتے ہیں جو بیش قیمت ہو کیونکہ قیمتی شے حاصل کرنے کی قوت ہر ایک کے پاس نہیں ہوتی۔ اُنہوں نے کہا کہ آج ہمارے زوال کا بنیادی سبب اپنے عیوب چھوڑ کر دوسروں کے عیب تلاش کرنا ہے، ہمیں بہت سکون ملتا ہے جب ہم اپنے ہی بھائی کی ٹانگ کھینچتے ہیں یا اُس پر تہمت کی انگلی اُٹھاتے ہیں حالانکہ ہم خود اس قدر گناہ گار ہیں کہ اگر اللہ ہمارے عیبوں کو لوگوں پر ظاہر کردے تو ہم شرم سے مر جائیں مگر اُس کی شان دیکھئے کہ وہ ستار العیوب ہماری خامیوں کو اپنی رحمت سے ڈھانپ لیتا ہے اور ہم اپنے ہی بھائی کی اُس چادر کو کھینچنے کے درپے رہتے ہیں جس سے اُس نے اپنی خامیوں کو چھپا رکھا ہے۔ عامر لیاقت حسین کا کہنا تھا کہ جب آپ لوگ مجھ سے یہ پوچھتے ہیں کہ بعض کم ظرفوں کی طرف سے عائد تہمتوں اور الزامات پر مجھے غصہ کیوں نہیں آتا یا میں کوئی کارروائی کیوں نہیں کرتا تو اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ اگر میں صحیح ہوں تو مجھے مشتعل ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر میں غلط ہوں تو پھر مجھے اس بات کا کوئی حق نہیں ہے کہ میں غصہ کروں۔ اُنہوں نے کہا کہ کیچڑ کے چھینٹوں سے داغدار دامن اُن ہاتھوں سے بہتر ہے جو کیچڑ اُچھالنے کے لئے غلاظت سے سِنے ہوتے ہیں، جلد یا بدیر اُنہیں منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملتی اور چھینٹے کھانے والے دامن دھو کر آگے کی جانب بڑھ جاتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ چھینٹے تو اُسی پر اُچھالے جاتے ہیں جو چھینٹوں سے بچ کر آگے بڑھتا ہے اور اُچھالنے والا کبھی آگے نہیں بڑھتا بلکہ کیچڑ ہی میں رہتا ہے۔ عامر لیاقت حسین کا کہنا تھا کہ امریکا کی ہر ریاست میں یہاں مقیم مسلمان اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے مجھے جو پیار دیا ہے وہ میرے لئے ناقابل فراموش اور عظیم سرمایہ ہے جس پر میں اپنے خالق و مالک کا اُس پر قربان ہوکر بھی شکر ادا کروں تو کم ہے۔ مجھ پر یہ کرم اُس عظیم المرتبت ہستی کا ہے جس کی نعتیں پڑھتے پڑھتے میں دنیا کا سب سے بڑا نکما ایک انسان بن گیا۔ بعدازاں انہوں نے حاضرین کی فرمائش پر مختلف نعتیں پیش کرکے ایک سماں باندھ دیا۔ آج ہیوسٹن میں عامر لیاقت حسین میلاد کے سب سے بڑے اجتماع سے خطاب کریں گے جس میں تین سے چار ہزار افراد کی شرکت متوقع ہے اور اس سلسلے میں یہاں کے مقامی ریڈیو اسٹیشنز، اخبارات اور معلومات کے دیگر ذرائع بھرپور مہم چلا رہے ہیں۔


www.aamirliaquat.com, Twitter: @aamirliaquat