ہم راتیں سازشوں اور دن غیبتوں میں بسر کرتے ہیں،عامر لیاقت
بالٹی مور(نمائندہ جنگ) ممتاز ریسرچ اسکالر اور سابق وزیرمملکت مذہبی امور ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا ہے کہ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزے،تراویح اور قیامِ لیلة القدر پر جن گناہوں کی بخشش کی نوید سنائی ہے وہ صغیرہ گناہ ہیں جبکہ کبائر میں تخفیف ہوجاتی ہے کیونکہ کبیرہ گناہوں کی مغفرت یا تو توبہ سے ہوگی یا شفاعت سے اور یاپھر اللہ تعالیٰ کے محض فضل سے لہٰذا کبیرہ گناہ کر کے یہ سوچ لینا کہ روزہ رکھنے یا یا لیلة القدر میں قیام کر نے سے بخشش ہوجائے گی دراصل توبہ کی مٹھاس سے انکار ہے ۔امریکی ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مورمیں توبہ کی مٹھاس کے موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے جس میں نوجوانوں کی بھی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی، عامر لیاقت حسین نے کہا کہ ہمارے مالک و مختار کی تو چاہت ہی یہی ہے کہ وہ اپنے بندوں کو معاف کردے لیکن بندے بھی تو اُسے پکاریں،اُس کی بارگاہ میں گڑگڑائیں،اُس سے مدد مانگیں، اور اپنے گناہوں پر ندامت سے آنسو بہائیں۔اُنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تو ہر رات کے پہلے تہائی حصے کے گذرنے کے بعد آسمانِ دنیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور فرماتا ہے کہ میں بادشاہ ہوں،کوئی ہے جو مجھ سے دعا مانگے اور میں اُس کی دعا قبول کروں،کوئی ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اُس کو عطا کروں،کوئی ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے اور میں اُسے بخش دوں۔ اُنہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ یوں ہی فرماتا رہتا ہے یہاں تک کہ فجر روشن ہوجاتی ہے جبکہ ایک اور صحیح روایت میں آپ نے ارشاد فرمایا ہے کہ رات میں ایک ایسا لمحہ آتاہے جس لمحے کو پانے کے بعدبندہ ٴ مسلم اللہ تعالیٰ سے جو سوال کرے اللہ تعالیٰ عطا فرمادیتا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ مگر دیکھنا تو یہ ہے کہ ہماری راتیں کیسے بسر ہورہی ہیں؟ہمیں اپنے گناہوں پر کس قدر پشیمانی ہے اور ہم نے پروردگار کو منانے کا کیا اہتمام کیا ہے؟۔عامر لیاقت حسین کا کہنا تھا کہ ہم راتیں سازشوں اور دن غیبتوں میں بسر کرتے ہیں،اللہ کی مخلوق کو نقصان پہنچا کر اُمید رکھتے ہیں کہ ہمیں کوئی ضرر نہ پہنچے،ناپ تول میں کمی کو اعجاز اور اشیائے خوردو نوش میں ملاوٹ کو اعزاز سمجھتے ہیں، حرام خوری اور رشوت ستانی کو معاشرے کا حسن بنائے بیٹھے ہیں اور سود کھانا وقت کی ضرورت قرار دے دیا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ اِن کھلی بداعمالیوں کے باوجود یہ اُس کا کرم نہیں تو اور کیا ہے کہ ہم اب تلک زندہ ہیں جبکہ پچھلی قومیں اِن ہی برائیوں اور سرکشی کی بنا پر انبیاء علیہم السلام کی بددعاؤں کا مرکز ٹہریں۔عامر لیاقت حسین نے کہا کہ اللہ کو ندامت کے آنسوؤں اور سچی توبہ سے ہی منایا جاسکتا ہے اور وہ اِتنا کریم ہے کہ آنسو کا قطرہ رخسار کو چھونے بھی نہ پائے گا کہ وہ اپنے بندے کو معاف کردے گا، اُس نے یہ آنکھیں ہمیں دی ہی اِسی لیے ہیں کہ ہم اُس کی بارگاہ میں معافی مانگتے ہوئے روئیں ، جس طرح خشک زمین کبھی فصل نہیں اُگا سکتی اِسی طرح خشک آنکھیں اُس کی رحمت کا نظارہ نہیں کرسکتیں۔عامر لیاقت حسین آج ورجینیا میں لیکچر دیں گے۔
www.aamirliaquat.com, Twitter: @aamirliaquat