الائونسز میں اضافہ سے قومی خزانے سے مزید 40 کروڑ روپے زیادہ خرچ ہوں گے ، ہر ایم این اے کو اب 3 لاکھ الاؤنس ملے گااسلام آباد ( رپورٹ رؤف کلاسرا ) سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے فنانس کمیٹی کے آ خری اجلاس میں جاتے جاتے بڑی خاموشی سے 342 ممبران پارلیمنٹ کے لیے الاونسز میں سو فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے جس پر قومی خزانے سے مزید 40 کروڑ روپے زیادہ خرچ ہوں گے جو یہ سب ممبران آپس میں بانٹیں گے ۔اجلاس میں اگلے سال کا قومی اسمبلی کا موجودہ بجٹ دو ارب روپے سے بڑھ کر 2 ارب چالیس کروڑ روپے کر دیا گیا ہے اور اس کا زیادہ تر فائدہ ارکان پارلیمنٹ کو ہوگا ۔ فہمیدہ مرزا کے اس اچانک فیصلے کے بعد ہر ایم این اے کو اب ڈیڑھ لاکھ الاؤنس کی بجائے 3 لاکھ روپے ملیں گے جو قومی خزانے سے ادا ہوں گے ۔ روزنامہ دنیا کے پاس موجود سرکاری دستاویزات کے مطابق 12مارچ کو سپیکر فہمیدہ مرزا نے قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی کا اجلاس بلایا جس میں پیپلز پارٹی، نواز لیگ اور دیگر پارٹیوں کے ایم این ایزنے شرکت کی۔ اس اجلاس میں قومی اسمبلی کے آئندہ بجٹ کو بھی پیش کیا گیا اور اس کی منظوری لی گئی ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈالرکے نرخ بڑھنے سے بھی قومی اسمبلی کا بجٹ بڑھ گیا تھا تاہم کوشش کی جارہی تھی کہ اخراجات کو کم سے کم رکھا جائے ۔ اجلاس میں دعوی کیا گیا کہ اس سال جو بجٹ دیا گیا تھا اس میں ہی گزارہ کیا گیا تھا اور کوئی سپلمنٹری گرانٹ نہیں مانگی گئی تھی۔ اس طرح یہ بھی کہا گیا کہ قائمہ کمیٹیوں کی تعداد 34 سے 47 کرنے سے بھی اخراجات بڑھ گئے تھے کیونکہ ممبران کو الاؤنس کے علاوہ سرکاری گاڑیاں بھی ان قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین کو دینی پڑی تھیں جن پر لاکھوں روپے خرچ ہوئے تھے کیونکہ سب چیئرمین کمیٹی نئی گاڑیاں چاہتے ہیں اور کوئی بھی پچھلے چیئرمین کی چھوڑی ہوئی گاڑیاں استعمال کرنے میں ہچکچاہٹ سے کام لیتے ہیں اور یوں نئی گاڑیاں خریدی جاتی ہیں۔ الاؤنسز میں اضافہ ا