بالآخر کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے، پاکستان بھی دورہ جنوبی افریقہ میں ایک عمدہ میچ جیتنے میں کامیاب ہوا جس کی بڑی وجہ پاکستان کا ایک اچھی ٹیم میدان میں اتارنا تھا۔ دنیا کا کوئی سیکٹر یا کرکٹ کھیلنے والا یہ بات ماننے کو تیار نہ ہو گا کہ جنوبی افریقہ جیسی بانسی اور تیز وکٹوں پر کوئی ٹیم 2 فاسٹ بالروں اور 4 سپنروں سے کھیلے جیسے میچ میں پاکستان کھیلا تھا۔ دوسرے میچ میں محمد عرفان ہی سنبھالا نہیں جا رہا تھا۔ پاکستان تین فاسٹ بالروں سے کھیلا اور جیت گیا۔ گو پاکستان نے 68 رنز پر جنوبی افریقہ کی 4 کریم وکٹیں حاصل کر لی تھیں پھر بھی بارش کی وجہ سے اوور کم ہونے کی بناءپر ساتھ افریقن بیٹنگ میں تھوڑا بہت فرق ضرور آیا۔ پاکستان نے خاص کر محمد عرفان کی عمدہ بالنگ کے بعد پاکستانی بیٹسمینوں نے بھی کمال کر دکھایا۔ حفیظ، یونس خان، شعیب ملک اور خاص کر مصباح الحق بہت ہی ذمہ دارانہاور عمدہ کھیلے۔ گو پاکستان نے دوسرا میچ جیت کر سیریز 1-1 میچ سے برابر کر دی ہے پھر بھی دونوں ٹیموں کا موازنہ کیا جائے توجنوبی افریقہ دونوں ٹیموں سے بہتر ٹیم نظر آ رہی ہے۔ اگر جنوبی افریقہ مزید 30 رنز بنا جاتا تو یہ میچ بھی کافی کلوز ہو سکتا تھا اور اس موازنے سے مجھے لگتا ہے کہ بقیہ تینوں میچ بہت کانٹے دار ہونگے اور جنوبی افریقہ کی ٹیم پاکستانی ٹیم سے فیلڈنگ میں ہزاروں میل آگے ہے اور جنوبی افریقہ کی ہی فیلڈنگ دونوں ٹیموں میں نمایاں فرق ہے۔ مجھے عمرگل کی کمزور پرفارمنس کی سمجھ نہیں آ سکی۔ اب وقت ہے تیسرے میچ میں عمرگل کی جگہ وہاب ریاض اور ناصر جمشید کی جگہ عمران فرحت کو چانس دیا جائے۔ میرے نزدیک تو یونس خان کی جگہ عمراکمل کو کھلایا جائے تو اچھا فیصلہ کہا جا سکتا ہے۔