منظم طریقے سے مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، ڈاکٹر عامر لیاقت کی امریکا سے نشر ہونے والے جیو کے شہرہٴ آفاق پروگرام عالم اورعالم میں گفتگو
کراچی(اسٹاف رپورٹر)ملک میں ناسورکی طرح پھیلنے والی دہشت گردی پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے،سانحہ عباس ٹاوٴن، سانحہ ہزارہ اور علماء کی شہادتوں سمیت دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کی ایک طویل فہرست ہے،ایک منظم طریقے سے مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، مگر ارباب اقتدارمتاثرین کے آنسوپونچھنے کے بجائے محض زبانی جمع خرچ سے کام چلارہے ہیں ۔ اِن خیالات کا اظہار ڈاکٹرعامر لیاقت حسین نے امریکا سے نشرہونے والے جیوکے شہرہٴ آفاق پروگرام عالم اورعالم میں گفتگوکرتے ہوئے کیا۔محبان رسول ﷺ کی دعوت پرامریکا کی مختلف ریاستوں میں لیکچرز اور محافل میلاد سے خطاب کے لیے گزشتہ ایک ماہ سے امریکا میں مقیم عالمگیر شہرت یافتہ اسکالرنے ملک میں جاری بدترین دہشت گردی بالخصوص سانحہ عباس ٹاوٴن پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں روزانہ اوسطاً پندرہ بیس افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں مگر کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی ۔انہوں نے کہاکہ ہرسانحے پر غیر ملکی ہاتھ کہہ کر ذمے داریوں سے عہدہ برآ نہیں ہواجاسکتااورنہ ہی تعزیتی بیان یا مقتولین کے ورثاء کے لیے معاوضے کے اعلان سے دہشت گردی پر قابو پایاجاسکتا ہے ،دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات کرنے پڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ اسکولوں، مساجد اورمزارات کو بم سے اڑانے والے دہشت گرد پاکستان اور اسلام کے دشمن ہیں جن کی انسایت سوز حرکتوں کی وجہ سے اسلام اور پاکستان پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔عالم اورعالم اسپیشل میں ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات بالخصوص سانحہ عباس ٹاوٴن کی شدیدمذمت کرتے ہوئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین اورممتازعالم دین پروفیسر مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ وطن عزیزاس وقت دنیا بھر میں تخریب کاری اور فساد کاخاص ہدف ہے ،ستم ظریفی یہ ہے کہ دہشت گردی کا سب سے بڑا ہدف بھی ہم ہیں اوردہشت گردی کا الزام بھی ہم ہی پر لگ رہا ہے۔کراچی کی موجودہ صورت حال پر گہری تشویش کااظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ، ڈاکہ زنی، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان اوردیگرجرائم نے اس شہر کے حسن کو گہنا دیا ہے، چن چن کر ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے نامور افراد کو قتل کیا جا رہا ہے مگرحکومت بے حسی کا پیکربنی ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ سانحہ عباس ٹاوٴن میں اہل تشیع اور اہل سنّت کو بلا تخصیص قتل کیا گیاجس کی جس قدر مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔ ممتازعالم دین علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی نے دہشت گردی کی کارروائیوں پر رنج کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ عروس البلاد کراچی عاشقان رسولﷺ اور اولیائے کرام کا شہر ہے جسے ایک منظم سازش کے تحت لسانی اور فرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں جھونک دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں گالی اور گولی کی زبان میں نہیں بلکہ علمی دلیل کی بنیاد پر گفتگو کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو دن دہاڑے قتل کیاجارہاہے، بستیاں ملبے کا ڈھیر بن گئیں ہیں اورآج نوبت یہ آگئی ہے کہ ہم اپنے ہی ملک میں اجنبی بن کررہ گئے ہیں۔جامعہ اشرفیہ سکھر کے مہتمم مولانا اسعد تھانوی نے دکھ بھرے جذبات کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ ایک انسان کا قتل تمام انسانیت کا قتل ہے، حکمرانوں کی بے حسی اور مقتدرحلقوں کی مجرمانہ خاموشی کی وجہ سے معاشرہ اخلاقی پستی کا شکار ہو کر رہ گیا ہے جس کی وجہ سے بہیمانہ جرائم فروغ پارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہر کراچی کو جرائم کا اڈہ بنادیا گیا ہے، مجرم کو سزا نہیں دی جاتی، قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے ملزم چھوٹ جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے حوصلے بلند ہورہے ہیں ،ان کا کہنا تھا کہ شہر کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے قوم کو متحد ہوکر اقدامات کرنے ہوں گے۔پروگرام کے دوران معروف شیعہ عالم دین پروفیسر مولانا تقی ہادی نقوی نے کہا کہ اسلام نے ہر مسلمان کو دوسرے مسلمان کی جان و املاک کا محافظ قراردیاہے،مگرہم نے غیروں کی شہ پر خود اپنے گھر کو آگ لگادی ہے جس پردنیابھرمیں ہماری گردنیں شرم سے جھکی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کلمہ گومسلمانوں کو شہید کیا جا رہا ہے،انہیں جان کے ساتھ مال و اسباب سے بھی محروم کیا جارہا ہے۔ تحریک اہل حدیث پاکستان کے سرپرست پروفیسر محمد یونس صدیقی نے حالیہ واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دشمن ملک میں فرقہ واریت پھیلا رہے ہیں،امت مسلمہ کو آپس میں لڑا کر کمزور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شہرمکہ آباد کرنے کے بعد سب سے پہلے امن کی دعا مانگی تھی جس سے ثابت ہوتاہے کہ امن وامان کا قیام کسی بھی مہذب معاشرے کی اولین ترجیح ہواکرتی ہے مگر بدقسمتی سے آج ملک کا ہر حصہ قیامت صغریٰ کا منظر پیش کررہاہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں متحد ہوکر دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنا ہوگا۔پروگرام کے اختتام پر اپنے دعائیہ کلمات میں ڈاکٹرعامرلیاقت حسین نے کہا کہ استغفار اور توبہ ہی ہمیں تباہی سے بچا سکتی ہے،اللہ سے گڑگڑا کر معافی مانگیں اور رحم کی التجا کریں یہی راہ نجات ہے۔
www.aamirliaquat.com, Twitter: @aamirliaquat