23 مارچ کا دن پاکستان کی تاریخ کا سب سے خوبصورت اور اہم دن ہے کیونکہ اس دن مسلمانان برصغیر نے پاکستان بنانے کا باقاعدہ اعلان کیا اور قرار داد پاکستان کے صرف سات سال بعد پاکستان بنا کر پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کا بہت بڑا کارنامہ ہے کہ اس نے مجید نظامی کی ولولہ انگیز قیادت میں تحریک پاکستان کے مقاصد کو پاکستان کے کونے کونے تک پھیلانے میں زبردست کامیابی حاصل کی۔ یہی سبب ہے کہ جو عوامل کھلم کھلا پاکستان کی نظریاتی اساس اور اکابرین تحریک پاکستان کے خلاف معاندانہ پروپیگنڈہ کرتے تھے وہ اب اتنی جرات نہیں رکھتے کہ اپنے خیالات کا اظہار کھل کھلا کر سکیں۔
نظریہ پاکستان ٹرسٹ ہر سال 23مارچ کے موقع پر ایک خوبصورت تقریب کا اہتمام کرتا ہے۔ اس مختصر لیکن پراثر تقریب میں ہرسال کوئی نہ کوئی نئی بات سامنے ضرور آتی ہے اس مرتبہ مجید نظامی نے کہا کہ قرار داد پاکستان کی اہمیت بہت زیادہ ہے لیکن بدقسمتی سے ہم نے ابھی تک اس کی روح کے مطابق اس پر عمل درآمد نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان ترقی کی سمت تیزی سے سفر نہیں کر رہا ہے۔ ڈاکٹر رفیق احمد نے تین قرار دادوں کی اہمیت بیان کی کہ قرارداد پاکستان، قرارداد مقاصد اور 1973ءکی قرار دادیں جن کے تحت اردو کو قومی زبان کا درجہ ملنا چاہیے۔ ابھی تک قوم نے ان قراردادوں کو ان کی روح کے مطابق نہیں سمجھا ہے اور نہ ہی حکمرانوں نے ان پر عمل درآمد کیا ہے جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے جیسا کہ مجید نظامی نے کہا کہ پاکستان کو ایک فلاحی جمہوری ریاست ہونا چاہیے اور یہ مقصد اتنی دیر تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک ہمارے حکمران ان قراردادوں کی اہمیت کو تسلیم نہ کریں۔
لاہور میں اصولاً آئندہ سے کسی بھی سیاسی پارٹی کو مینار پاکستان کے آس پاس سیاسی جلسہ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ لاکھوں پاکستانی ہر سال مینار پاکستان کے آس پاس بغیر کسی کال کے اکٹھے ہوتے ہیں اور پاکستان بننے سے لے کر اپنے بزرگوں کی قربانیوں کے تذکرے کرتے ہیں۔ شہر بھر کی ٹریفک اور موبائل فون کا سسٹم درست رہتا ہے لیکن اس مرتبہ لاہوریوں نے 23مارچ بہت اذیت اور مسائل میں رہ کر منایا۔ دوپہر سے ہی موبائل فون سروس منقطع کر دی گئی تھی جبکہ اعلان یہ کیا گیا تھا کہ صرف مینار پاکستان کے آس پاس موبائل فون سروس منقطع رہے گی۔ اب رحمن ملک صاحب تو جا چکے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان کا حکم اب مستقل قانون کی شکل اختیار کر چکا ہے کہ کوئی حادثہ ہو تو ڈبل سواری پر پابندی لگانے کے ساتھ موبائل فون سروس بند کر دی جائے۔
عمران خان کے سیاسی منشور سے عوام کو امیدیں تھیں کہ وہ ان کے معاشی اور روز مرہ مسائل کا ٹھوس حل پیش کریں گے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ سچ بولیں گے اب یہ معلوم نہیں کہ ماضی کے بارے میں بھی سچ بولیں گے یا اقتدار میں آ کر سچ بولیں گے اور سچ کے سوا کچھ نہیں بولیں گے۔ عوام کا تو مہنگائی انرجی بحران گیس اور بجلی کے محکموں کی لوٹ مار نے جینا حرام کر دیا ہے لیکن عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ گورنر ہاﺅس کو لائبریری بنائیں گے۔ گورنر ہاﺅس کے سامنے انتہا کی خوبصورت لائبریری پرانے جمخانہ میں قائم ہے اور دوسری لائبریریاں کتابیں پڑھنے والوں کو ترستی ہیں۔ خان صاحب عوام کے روز مرہ وسائل حل کرنے کی بات کریں۔