پیر کے روز ایوانِ صدر میں نئے نگران وزیراعظم جسٹس (ر) میر ہزار خان کھوسو کی حلف برداری کی کامیاب تقریب سے انتخابات کے عمل کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے، صرف صوبہ پنجاب رہ گیا ہے جہاں نگرن وزیراعلیٰ کا انتخاب ہونا باقی ہے۔ فکر کی کوئی بات نہیں ہے دوسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے پارلیمانی کمیٹی کا آج تیسرا روز ہے جس طرح عید کا چاند اٹھائیس کو نظرنہیں آتا لیکن 29 کو امید پیدا ہوجاتی ہے اسی طرح پنجاب کی پارلیمانی کمیٹی سے صرف امید ہی کی جا سکتی ہے ورنہ دونوں گروپ لیڈروں کی زبان اور باڈی لینگویج تو صاف صاف بتا رہی ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے نامزد امیدوار کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور صاف ظاہر ہے کہ آخری فیصلہ الیکشن کمیشن کا ہوگا اور جس انداز میں انہوں نے مرکز میں نگران وزیراعظم کے لئے پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار کے حق میں ووٹ دیئے اسے دیکھتے ہوئے قیاس آرائی کی جا سکتی ہے کہ پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ کا امیدوار نگران وزیراعلیٰ بنے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ قرعہ فال جسٹس (ر) عامر رضا کے نام پڑتا ہے یا خواجہ صاحب کے۔
نگران وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو کو چاہیے کہ تیزی سے کام کریں کیونکہ وقت کم ہے اور 11 مئی کے انتخابات قریب ہیں اس لئے کچھ ایسے فیصلے وہی کر سکتے ہیں جو معیشت کی بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سب سے اہم مسئلہ جس کی وجہ سے عوام ٹھنڈ کے موسم میں بھی لوڈشیڈنگ کا عذاب بھگت رہے ہیں اور کارخانوں کو بھی بجلی پوری نہیں مل رہی جبکہ اصل مسئلہ چار سو ارب روپے کے گردشی قرضوں کی ادائیگی کا ہے جس کے لئے غیب سے تو فنڈز کے آنے کی توقع کم ہے لیکن کیونکہ وفاق کی مہنگی ترین کابینہ اپنے مشیروں سمیت فارغ ہو چکی ہے جس کی وجہ سے حکومت کے اخراجات میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔ یقیناً بینکوں سے قرضے لینے اور نئے نوٹ چھاپنے کا سلسلہ بھی سست پڑ چکا ہے اس لئے نگران وزیراعلیٰ سب سے پہلے تو اپنی کابینہ کا اعلان کریں اور اگر ٹیکو کریٹس کی کابینہ کا انتخاب کریں گے تو 11 مئی تک معیشت کی بحالی کے ساتھ داخلہ و خارجہ کے بہت سے سنگین مسائل حل ہو جائیں گے۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ پورے ملک میں پاسپورٹ لینے والے بھاری فیسیں دینے کے باوجود پاسپورٹ حاصل کرنے سے محروم ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں پاکستانیوں کے ورک پرمٹ منسوخ ہو رہے ہیں۔ٹیکنو کریٹ وزیر خزانہ جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے چار سو ارب روپے کے نئے کرنسی نوٹ جاری کر سکتا ہے اور روز بروز تنزلی میں جاتی ہوئی معیشت کو سہارا ملنے کے ساتھ عوام کے لئے لوڈشیڈنگ کا عذاب بھی ختم ہوسکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تھوڑا سا افراطِ زر بڑھے گا لیکن ہماری معیشت میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ اسے جذب کرسکتی ہے کیونکہ بجلی ملنے سے پوری معیشت جب شکنجے سے نکلے گی تو پھر پیداواری عمل تیز ہونے سے معیشت صحیح پٹڑی پر آ جائے گا۔