رسول اللہ نے مسجد نبوی کو سپریم کورٹ کا درجہ دیا تھا،عامر لیاقت کا لاس اینجلس میں خطاب اور وطن روانگی

لاس اینجلس(نمائندہ جنگ) ممتاز ریسرچ اسکالر اور سابق وزیر مملکت برائے مذہبی اُمور ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا ہے کہ عدل و انصاف کا قیام ہر مہذب اور متمدن انسانی معاشرے کی اولین ضرورت ہے کیونکہ عدل کے بغیرنہ لوگوں کے درمیان حقوق و فرائض کا تعین ہوسکتا ہے اور نہ ظلم و استحصال کو ختم کیا جاسکتا ہے ۔لاس اینجلس میں واقع گروو گارڈن کی مسجد میں درسِ قرآن کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز مقرر نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد نبوی کو سپریم کورٹ کا درجہ دیا تھا، نظام عدل کی باقاعدہ بنیاد میرے آقا نے رکھی۔ قرآن کریم نے پیغمبروں اور رسولوں کے مشن پر روشنی ڈالتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے اپنے رسولوں کو واضح ہدایات کے ساتھ بھیجا اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔ اُنہوں نے کہا اِسی بنا پر ہمارے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالمین میں عد ل و انصاف کے قیام اور اجرا کے سب سے بڑے اور سب سے بہتر ذمے دار تھے۔اُنہوں نے کہا کہ اللہ کے پیارے رسول نے ریاست نبوی میں انصاف رسانی کے مؤثر اقدامات فرمائے اور بالعموم مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہی سپریم کورٹ کی حیثیت حاصل تھی اور یہ سرکار کی بہترین حکمتوں میں سے ایک حکمت ہے کہ آپ نے عدل و انصاف کو شخصی اور قبائلی سطح سے اُٹھا کر مرکزی معاملہ بنادیا۔ عامر لیاقت حسین کا کہنا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو بلاشبہ اور یقینا دنیا کے سب سے بڑے عادل ہیں اُنہوں نے فیصلے صادر کرنے کے لیے کبھی کوئی وقت اور مقام مقرر نہیں فرمایا یعنی عرف عام میں تاریخیں نہیں دیں بلکہ ہر لمحہ اور ہر آن آپ اِس فریضے کو انجام دیتے رہتے یہاں تک کہ مقدمات کے باب میں اثباتِ دعوی کے بارے میں آپ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر لوگوں کے دعوے یوں ہی تسلیم کر لیے جائیں تو عدالتوں میں خون کے اور مال کے بہت سے دعوے دائر ہوجائیں گے ۔اُنہوں نے کہا کہ محسنِ انسانیت کی تمام تر کوششیں اِس امر پر مرکوز رہیں کہ انصاف سہل الحصول ہو اور کوئی بھی قاضی اِس معاملے میں تعصب یا جانبداری سے کام نہ لے۔ ڈاکٹر عامر لیاقت نے کہا کہ باقاعدہ نظام عدالت کی بنیاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھی اور باقاعدہ صوبائی سطحوں پر قاضیوں کا تقرر کیااور عدالت و قضا کی ذمے داریاں بھی بالعموم صوبائی سربراہوں یا والیوں کے سپرد کیں یعنی والی اپنے عہدے کے لحاظ سے قاضی بھی تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر ابن الخطاب، سیدنا عثمان بن عفان، سیدنا علی ابن ابی طالب، سیدنا عبداللہ ابن مسعود، سیدنا اُبی ٴ بن کعب، سیدنا زید بن ثابت اور سیدناابو موسیٰ اشعری جیسے جید صحابہ کرام کو منصبِ قضا پر سرفراز فرمایا۔ بعد ازاں اُنہوں نے شرکائے اجتماع کی فرمائش پر حمد و نعت کے نذرانے پیش کیے اور آخر میں امت مسلمہ اور بالخصوص پاکستان کے لیے گڑگڑا کر دعائیں مانگیں۔ عامر لیاقت حسین امریکا بھرمیں کامیاب ترین اجتماعات اور لیکچرز کے بعد وطن واپسی کے لیے روانہ ہوگئے۔
www.aamirliaquat.com, Twitter: @aamirliaquat