کچھ دنوں سے میں جب کالم لکھنے بیٹھتی ہوں تو مجھے ایک بھلے سے شخص کا خیال آتا ہے.... اس کے کالم کی کمی سی محسوس ہوتی ہے۔ انہی صفحات پر صبح صبح ایک دھیمے مزاج کا لو دیتا ہوا کالم چھپا کرتا تھا جو لمحہ لمحہ کی خبر بڑی درمندی اور دل پذیری کے ساتھ دیتا تھا۔ اس کالم کو پڑھنے کی عادت سی پڑ گئی تھی۔ خالد احمد بڑے جاندار کالم لکھتے تھے۔ قومی حالات پر ان کی گہری نظر تھی اور اپنے نظریے سے جڑے ہوئے آدمی تھے شروع شروع میں جب انہوں نے نوائے وقت میں لکھنے کی ابتدا کی تو میں نے انہیں مبارکباد دی اور کہا کہ نوائے وقت ایک نظریاتی اخبار ہے اور زیادہ تر اس کے حلقے میں نظریاتی لوگ شامل ہیں۔ وہ باقاعدگی سے اس میں چھپتے رہے۔ محفلوں میں ان سے ملاقاتیں بھی ہوتی رہیں۔ ان کا ترتیب دیا ہوا رسالہ باقاعدگی سے ہر ماہ ملتا رہا.... ان کے خوبصورت اشعار اور غزلیں بھی چھپتی رہیں۔ دم آخر تک انہوں نے قلم کے ساتھ اپنا رشتہ نبھایا.... پتہ ہی نہ چلا پھر ایک دن یوں اس بزم سے اٹھ کر چلے گئے جیسے انہیں کوئی بہت ضروری بات یاد آ گئی ہو....
اس روز میں ان کے گھر بھی گئی تھی۔ بیوی بچوں عزیزوں سے ملی.... وہاں تو ان کی کمی اب ہمیشہ رہے گی مگر اخبار کے صفحات پر ایک اداس سی خوشبو بیٹھی کہتی رہی ہے
وہ ایک شخص کہ جو لوٹ کر نہیں آیا
تمہاری بزم میں ہیں اس کے تذکرے کیا کیا
یہ دنیا ہے اس کا کاروبار چلتا رہتا ہے۔ کوئی آتا ہے کوئی جاتا ہے مگر آسمان سے جو لکھا ہوا اترتا ہے اس پر برابر عمل ہوتا رہتا ہے۔ع
آمر ہے تو ہی وہ تو ہے مامور مسافر
ملک کی فضا بدلی ہے۔ یہ توبہت اچھا ہوا کہ انتخابات کا عمل شروع ہو گیا۔ جنہوں نے جانا تھا وہ چلے گئے۔ اب کون آئے گا اس کے سارے دعویدار شور مچا رہے ہیں۔ حقیقت میں یہ شور مچانے ہی کا موسم ہے....
ہمارے ملک میں جہاں پبلک کے لئے تفریح کا کوئی سلسلہ یا کوئی مقام نہیں ہے تو وہاں انتخابات کا انعقاد ایک بہت بڑی ہلچل کے ساتھ تفریح کا سامان بھی مہیا کرتا ہے۔
اس مرتبہ امیدواروں کے لئے جو فارم ترتیب دیا گیا ہے کافی مشکل اور تشریح طلب بھی ہے۔ زیادہ سے زیادہ جو سوالات الیکشن کمشنر کر سکتا ہے وہ لکھے گئے ہیں۔ پر انسان کی فطرت میں جو کجی ہے اس کی حقیقت کون جان سکا ہے۔
ایک ہزار سوالات کا جواب حاصل کرنے کے باوجود کسی بندے کی نیت کا حال معلوم نہیں ہو سکتا مگر کوشش اچھی کی گئی ہے۔
ایک اخبار نویس نے ہم سے پوچھا کہ اس مرتبہ خواتین اتنی زیادہ تعداد میں کیوں پیپر جمع کرا رہی ہیں۔
اور یہ ہے بھی حقیقت کہ بغیر پارٹی کا ٹکٹ حاصل کئے بغیر کثیر تعداد میں خواتین اپنے پیپر جمع کرا رہی ہیں جبکہ بعض پارٹیوں نے تو اپنی لسٹیں بھیج بھی دی ہیں۔
اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں خواتین کی کثیر تعداد اسمبلیوں کے اندر آئی ہے اور انہوں نے اپنی کارکردگی بھی دکھائی ہے۔ عورت کو جب کوئی منصب سونپا جاتا ہے تو وہ اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ اس کی ادائیگی میں لگ جاتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اب عورتوں کو اپنے گھروں سے اجازت ملنے لگ گئی ہے۔ شوہر اور والد خود اپنی بیوی اور بیٹی کے کاغذات جمع کروانے آتے ہیں۔ اس کا کریڈٹ ان عورتوں کو ملنا چاہئے۔ جنہوں نے اسمبلیوں کے اندر بہترین کام کر کے دکھائے ہیں۔
ہم نے یہ بات کئی بار لکھی ہے کہ اگر تین بار انتخابات کا عمل دوہرایا جائے تو انشاءاللہ اس قوم کا مزاج جمہوری ہو جائے گا اور ہر ووٹر اپنے منتخب نمائندے کا گریبان پکڑنے کے قابل ہو جائے گا۔ باقی جو بدمزگیاں انتخابات کے دوران ہوتی ہیں۔ وہ اس عمل کا ایک خاصہ ہیں ان سے بھی آہستہ آہستہ نجات ملے گی۔ کرپشن کے بارے میں ڈگریوں کے بارے میں اور قرضہ جات کے بارے میں اگر یہ عمل مسلسل ہوتا رہا۔ تو یقیناً آئندہ بہتری آئے گی۔ واقعی یہ افسوسناک عمل ہے کہ ایک منتخب نمائندہ جو اپنے آپ کو ایک بڑے حلقے کا سربراہ بن کر اسمبلی کے اندر جاتا ہے۔ وہ اپنی بنیاد ایک جھوٹ پر رکھتا ہے۔ اپنی جعلی ڈگری دکھا کر آنا چاہتا ہے ہر جعلی کام جس سطح پر بھی کیا جائے وہ دھوکا دہی اور فریب کے زمرے میں آتا ہے۔ جعلی ڈگریوں کی پڑتال ہر سطح پر ، ہر محکمے میں ہونی چاہئے اور یہ بھی بتایا جانا چاہئے کہ وہ کونسی یونیورسٹیاں ہیں جو ایسی ڈگریاں جاری کر رہی ہیں۔ ان پر بھی بین لگنا چاہئے۔
جناب نجم سیٹھی کو نگران وزیراعلیٰ کا منصب سونپا گیا اس پر ہم بھی انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں وہ چونکہ ایک صاف گو صحافی ہیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ دو مہینے کے معاملات خوش اسلوبی سے طے پا جائیں گے۔ دو مہینے کی وزارت اعلیٰ اور کابینہ کے لئے وی آئی پی کلچر اور مراعات پر بھی قدغن ہونی چاہئے۔ پروٹوکول کے بغیر اپنے تمام فرائض انجام دے کر جناب نجم سیٹھی کو ایک مثال قائم کرنی چاہئے۔ یہی پیغام ہمارا جناب وزیراعظم کھوسو صاحب کےلئے بھی ہے کہ ایک عام آدمی کی طرح آئیں جائیں۔ جیسے چند دن پہلے وہ اپنے شہریا گاﺅں میں رہا کرتے تھے۔ عام آدمیوں سے ملیں پولنگ کے روز شہروں میں چکر لگائیں امن عامہ کی صورتحال پر نظر رکھیں اور اپنی نقل و حرکت سے ثابت کریں کہ ووٹروں کےلئے بھی ماحول ساز گار ہو گا۔
جب سے نجم سیٹھی صاحب وزیراعلیٰ بنے ہیں ہمارے ہاں ایک بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا صحافی بھی سیاست کے اس دھندے میں کوئی اہم رول ادا کر سکتے ہیں پھر جناب قدرت اللہ شہاب سے ہوتی ہوئی بات یہاں تک آ پہنچی ہے بہت سے محترم نام آئے جو صحافی بھی تھے۔ کالم نگار بھی تھے۔ تجزیہ نگار بھی تھے اور سیاسی دھارے میں بھی شامل ہوئے۔ ایک مسلسل سوچ اور فکر رکھنے والے شخص کی سیاست میں بہت ضرورت ہوتی ہے۔
سوچنے والے لائحہ عمل بناتے ہیں۔ اور عمل کرنے اور کروانے والے سامنے آ جاتے ہیں۔ اسمبلیوں میں مختلف النوع قسم کے ارکان ہوتے ہیں۔ بادشاہوں کو بھی ان کی ضرورت ہوتی ہے اور سربراہوں کو بھی.... اور پھر جب یہ اچھا برا تجزیہ کرتے ہیں اور لفظوں کا میزان ہاتھ میں پکڑ کر حکمرانوں کے اعمال تولتے ہیں تو یہ خیال ضرور آتا ہے انہیں حکومت سونپ کے دیکھا جائے....
ہمارے اخبار میں محترم کالم نگاروں نے بڑے اچھے تجزیاتی کالم لکھے ہیں اور نام بنام ان سب صحافیوں اور کالم نگاروں کا ذکر کیا ہے جو سیاست کے دھارے میں شامل کئے گئے مگر سب کالم نگار ایک خاتون کو بھول گئے جو بنیادی طور پر ادیب ہے کئی کتابوں کی مصنفہ ہے کالم نگار بھی ہے اور تین بار پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں باقاعدہ منتخب ہو کر آگئی اور دوبار قومی اسمبلی میں منتخب ہوئی اور اپنی کارکردگی پر ایوارڈ بھی حاصل کئے کیا یہاں بھی روایتی تعصب کار فرما ہے۔
ایسے میں ہمیں ڈاکٹر اجمل نیازی بہت یادآئے کیونکہ وہ عورتوں کے حقوق اور صلاحیتوں کے بارے میں خوب لکھتے ہیں۔
یہ کالم لکھتے ہوئے ہمیں بار بار جناب شیخ منظور الہی (مرحوم) کا خیال آیا۔ ایک زمانے میں انہیں پنجاب کا نگران وزیراعلیٰ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے اور انکی بیگم صاحبہ نے چیف منسٹر ہاﺅس میں ہونے والے اخراجات اور بے اعتدالیوں کا صفایا کر دیا تھا اور چیف منسٹر ہاﺅس کے اندر انتہائی سادہ زندگی بسر کی تھی حالانکہ وہ اپنے زمانے کے بیوروکریٹ تھے بہر حال ان کی روایات کو آگے بڑھانے والا پھر کوئی نہیں آیا....؟