رانی صدیوں میں بادشاہت کو وراثت کی جکڑ بندیوں میں دیکھ کر اس کی نفی کی گئی اور پھر ارسطو جیسے دانشوروں نے کئی طرز کے فارمولے پیش کر کے جمہوریت کو حرف آخر کے طور پر پیش کیا....
مگر اس کے اندر بھی جوق در جوق خاص لوگ شامل ہوتے چلے گئے۔ انجام کار یہ خاص طبقے کی جماعت بن گئی....
یہاں تک بات رہتی تو کافی تھی مگر جمہوریت تو خاندان کی میراث بن گئی....
اس کا تجزیہ تو کر کے دیکھیں کہ آخر لیڈران کرام اپنی سیاسی جماعت پر اپنے ہی خاندان کی گرفت مضبوط کیوں رکھنا چاہتے ہیں.... کیا پورے ملک میں انہیں اس قابل بندے نظر نہیں آتے یا وہ اپنے تئیں اتنے کم زور ہیں کہ آﺅٹ ہونے سے ڈرتے ہیں۔
لوگو! جس کے ہاتھ صاف ہوتے ہیں جس کا محاسبہ پاک ہوتا ہے جس کا کردار بیداغ ہوتا ہے اور جسے واپس لوٹ جانے میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی جس کے پاس اپنا رزق کمانے کے وسیلے اور بھی ہوتے ہیں وہ خوش خوش واپس چلا جاتا ہے اور باقی زندگی اس نے جو ملک و ملت کے لئے اچھے کام کئے ہوتے ہیں ان کی سرخوشی میں گذار دیتا ہے البتہ منتخب نمائندوں کو اپنی صلاحیتوں کے بموجب بار بار آنے کا موقع مل سکتا ہے اور بار بار موقع ملنے کا مطلب یہ ہے کہ عوام اس پر اعتبار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں وہ پہلے سے زیادہ اچھا کام کرے.... مگر ہمارے اب تک جتنے بھی لیڈر ابھرے ہیں۔ انہوں نے واپس جانے کی بات تو درکنار بلکہ ہمیشہ تیس چالیس برس حکمران رہنے کی بات کی ہے اور اس پالیسی کو تقویت دینے کےلئے اپنے ہی خاندان کے لوگوں کو یا اپنے بچوں کو آگے لانے کی تگ و دو میں رہے ہیں۔
ضروری نہیں کہ کسی بڑے آدمی کا بیٹا یا بیٹی اس جیسا لائق فائق ذہین و فطین ہو۔ یا ویسی انتظامی صلاحیتیں بھی رکھتا ہو۔ عام طور پر بڑے آدمیوں کے بیٹے قد آور نہیں ہوتے کہیں کہیں استثنائی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے کہ بیٹا باپ سے بہت آگے نکل جاتا ہے۔
ہمارے ہاں خاندان پرستی کی ابتداءپیپلزپارٹی سے یعنی بھٹو فیملی سے شروع ہوئی۔ اسی طرح بھارت میں خاندان پرستی کی روایت نہرو خاندان سے شروع ہوئی۔ ہمارے ہاں خاندانی سیاست بلاول بھٹو زرداری تک آ پہنچی ہے۔ جس کے لئے انہیں زرداری کے ساتھ بھٹو کا لازمہ لگانے کی ضروت محسوس ہوئی.... اور بھارت کی خاندانی سیاست راہول گاندھی تک آ پہنچی ہے۔ ان سب باتوں کا خیال ہمیں آج ایک خبر پڑھ کے آیا....
خبر تو بڑی ہے مگر ہمارے ہاں اسے اخبار کے اندر ایک چھوٹی جگہ پر لگایا گیا ہے۔ خبر کے مطابق وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ راہول گاندھی کسی بھی وقت وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوں گے۔ یہ فیصلہ ایک دن یا ایک گھڑی کا بیان نہیں۔ ان کی والدہ ماجدہ سونیا گاندھی ایک عرصے سے ان کی تربیت کر رہی تھی۔ جس طرح اندرا گاندھی اپنے بیٹے راجیو گاندھی کو راج گدی کے لئے تیار کر رہی تھی۔ پچھلے دنوں جب راہول گاندھی کو کانگرس کا سیکرٹری جنرل بنایا گیا تو اس نے اپنی پہلی تقریر میں سب سے پہلے اپنی پارٹی کو تنقید کا نشا نہ بناتے ہوئے کہاکہ .... کانگرس ایک مضحکہ خیز پارٹی ہے یہ دنیا کی سب سے بڑی پارٹی ہے لیکن یہاں کوئی بھی قاعدے قانون نہیں جانتا۔
یہ ساری تقریر چونکا دینے والی ہے جو بھارت کی اندرونی سیاست کا پول کھولتی ہے۔
ادھر ہمارے ہاں عین انتخابات کی گرما گرمی اور ہلچل میں پیپلزپارٹی کے نوجوان لیڈر بلاول بھٹو زرداری پارٹی لیڈران کے اندرونی فیصلوں سے دلبرداشتہ ہو کر دوبئی چلے گئے تھے.... جنہیں ان کے والد ماجد منانے اور گرمانے کےلئے گئے اور لے بھی آئے....
اب پی پی پی کی آخری امید بلاول بھٹو زرداری ہیں۔ معلوم نہیں محترمہ بینظیر بھٹو صاحب کا ارادہ اپنے نونہال کو اتنی جلدی سیاست میں لانے کا تھا یا نہیں کیونکہ مائیں عام طور پر بڑے سجاﺅ سے اور بڑی حکمت عملی سے اپنے بیٹوں کو تیار کرتی ہیں۔ جس طرح سونیا گاندھی نے کیا۔ اور مناسب وقت کا بھی انتظار کیا۔
بلوغت کی بھی ایک عمر ہوتی ہے تعلیم اور تجربہ اس کا ضامن ہوتا ہے۔ لوگوں کی عقیدت بھی کار گر ہوتی ہے کیا بلاول بھٹو زرداری پاکستانی سیاست کو سمجھنے کے قابل ہو گئے ہیں کہ انہوں نے ٹکٹ دینے دلانے کے رویے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ ان کی زیادہ عمر اپنی والدہ کی صحبت میں گزری ہے.... بچے والدہ سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ اور محاورہ ہے کہ بچہ انسان کا باپ ہوتا ہے۔
آجکل پاکستان میں انقلابی اقدامات ہو رہے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کاش یہ عمل بہت پہلے شروع ہو جاتا تو پاکستان اس زبوں حالی کو نہ پہنچتا۔
مگر یہ بھی غور طلب بات ہے کہ اس زبوں حالی نے حالات بدل کر رکھ دیئے ہیں۔ نہ اتنا زیادہ اندھیرا ہوتا۔ نہ صبح نو کی تمنا دل میں اٹھتی.... اب تک جس قدر بے عملیاں ہوئی ہیں۔ ان کو درست سمت میں لے جانے کےلئے انتخابات کے اندر جو اصلاحات ہو رہی ہیں وہ کوشش کے ضمن میں آتی ہیں کہ بہتر سے بہتر نمائندے چن کر سامنے لائے جائیں جو گرداب سے کشتی کو نکال لے جانے کے اہل ہوں۔
یہ درست ہے کہ دنیا کے کسی ملک میں بھی فرشتے نہیں بستے لیکن انسانوں میں سے بہتر انسان وہ ہوتے ہیں جو اپنی بشری کمزوریوں اور نفسانی خواہشوں پر قابو پانے کے اہل ہوتے ہیں۔یا جب انہیں کوئی اعلیٰ منصب پیش کیا جاتا ہے تو وہ اس منصب کے احترام میں عام انسانی خواہشوں اور عامیانہ پن سے دست بردار ہو جاتے ہیں۔ اس کی ٹریننگ خود اپنے آپ کو دینی پڑتی ہے.... اگر آپ اپنی ذات کو یقین کے قابل نہیں بنا سکتے اور اپنی ذات کے کئے ہوئے وعدوں کو پورا نہیں کر سکتے۔ تو آپ کے اقتدار کو دوام نہ آپ کی جمع کی ہوئی دولت دے سکتی ہے اور نہ آپ کی اولاد ہی سہارا دے سکتی ہے۔
کاغذات کی چھان بین کے بعد بڑی بڑی باتیں کرنے والے میڈیا کے آگے بڑکیں مارنے والے اور مخالفوں کو تڑی دکھانے والے لوگ بے نقاب ہو گئے ہیں....
عمل کوئی سا بھی ہو حضرت علی کرم اللہ وجہ نے فرمایا تھا سامنے آ جاتا ہے جرم جرم ہی ہوتا ہے کوئی بڑا آدمی کرے یا چھوٹا آدمی.... اب کے آندھی جو اٹھی ہے.... خبر نہیں کیا کیا اڑاکے لے جائے گی۔
کشتیوں میں بیٹھنے والے یہ پہلے سوچ لیں
دور تک گہرا سمندر ہے کہیں ساحل نہیں