بھئی ایک خوف تو ختم ہوا الیکشن کمشن کے ماتحت ملک بھر کے ریٹرننگ افسران نے 11 مئی 2013ءکے انتخابات کے لئے قومی اور صوبائی امیدواروں کی جانب سے داخل کرائے گئے مجموعی 24 ہزار 94 کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی سات دن کی مقررہ میعاد کے اندر مکمل کرکے کمال ہی کر دیا ہے۔ میرے جیسے بدگمانوں کو آخری وقت تک دھڑکا لگا ہوا تھا کہ الیکشن کمشن نے کاغذات نامزدگی کی وصولی کی مقررہ میعاد میں اڑھائی روز کی توسیع اپنے ازخود اختیارات کی بنیاد پر ممکن بنائی ہے تو ازخود اختیارات کے استعمال کا یہ عمل سکروٹنی کے پھیلا سے پھسلتا پھسلتا کہیں 11 مئی کی خوش بختی کی تاریخ ہی عوام کی نظروں سے اوجھل نہ کر دے۔ قیاس آرائیوں کا سلسلہ صبح سے ہی حرکت میں آیا ہوا تھا اور نگران وزیر داخلہ کے بیان نے تو انتخابات کے پرامن انتخابات کے معاملہ میں اپنی خود ساختہ سراسمیگی کو اچھال کر کئی بڑے بڑوں کا پتّہ پانی کر دیا تھا۔ صبح وقت نیوز کے پروگرام نوائے وقت ٹو ڈے میں شریک ہوا تو انتخابی عمل کے بارے میں بے یقینی اور بدگمانی کا اظہار کرنے والوں کی ٹیلی فون کالوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ میرے ذہن میں بھی وسوسے جنم لیتے رہے۔ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے۔ آج کا دن سکروٹنی کی تکمیل کا آخری دن تھا۔
چنانچہ وسوسوں کے یقینی ہونے یا دم توڑنے کا بھی اسی دن پر انحصار تھا۔ یہ تو بھلا ہوا کہ معزز امیدواروں کی سرعام جگ ہنسائی کا اہتمام کرنے والے ریٹرننگ افسروں نے لاہور ہائیکورٹ کے سخت احکام کی گرہ اپنے ضمیر پر پڑتے دیکھ کر امیدواروں کےلئے رسوائی زمانہ کا اہتمام کرنے والے اپنے ایجنڈے سے رجوع کر لیا اور اب اللہ اللہ کرکے سکروٹنی کی مقررہ میعاد کے آخری دن سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کی نوید بھی سنا دی گئی ہے۔ اس عمل میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سابق اپوزیشن لیڈر چودھری نثار علی خاں کئی سابق وفاقی وزراءاور سیاسی قائدین کے جھڑنے کی صورت میں بڑے بڑے برج الٹانے کا اہتمام ہوتا بھی نظر آرہا ہے۔ 24 ہزار 94 میں سے آدھے سے زیادہ کاغذات تو چار چار حلقوں سے اور قومی اور صوبائی دونوں حلقوں میں کاغذات نامزدگی داخل کرانے والے امیدواروں کے ہوں گے جن کے کسی تکنیکی بنیاد پر ایک حلقے سے کاغذات مسترد ہوں گے تو دیگر حلقوں میں داخل کرائے گئے ان کے کاغذات نامزدگی بھی یقیناً مسترد ہو جائیں گے۔ اس طرح 24 ہزار 94 کی بمشکل گنتی میں آنے والے یہ کاغذات کہیں سمٹتے اور کہیں بکھرتے انگلیوں کی گنتی پر آجائیں گے۔
سابق کمانڈو جرنیل مشرف کو چترال سے اپنے کاغذات نامزدگی منظور ہونے پر زیادہ خوش نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ان پر عائد جن الزامات کی بنیاد پر قصور کراچی اور اسلام آباد سے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں وہی الزامات بالآخر ان کے لئے چترال میں بھی جھاڑو پھیرنے کا باعث بن جائیں گے کیونکہ قانون کا یہی تقاضہ ہے۔ اگر چترال کے ریٹرننگ افسر نے ان کے ساتھ کسی دیرینہ تعلق کی لاج رکھی ہو گی تو اپیل کے مرحلہ میں وہ لاجواب ہو جائیں گے۔ ابھی آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ الیکشن کمشن نے سکروٹنی کی میعاد ختم ہونے کے باوجود امیدواروں پر نااہلیت کی تلوار تو مستقل طور پر لٹکا دی ہے۔ اگر ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمشن سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے پورے اعتماد کے ساتھ یہ اعلان بھی کر رہے تھے کہ کوئی دھوکہ باز شخص اب نااہلی سے نہیں بچ سکے گا تو اس میں مستقبل کی کسی حکمت عملی کی چاشنی تو موجود ہے۔ اول تو اب دیکھئے اور دیکھتے ہی رہ جائیے کہ سکروٹنی کی تکمیل پر الیکشن کمشن کی چھلنی سے پاک صاف ہو کر نکلنے والوں کی تعداد کتنی ہے۔ یہ تفصیلات یقیناً آج سے آنا شروع ہو جائیں گی کہ ابھی تو چند معروف چہرے ہی منظرعام پر لائے گئے ہیں۔ جب عامیوں کی باری آئے گی تو عام آدمی بھی یہ اطلاع پا کر اپنے تئیں خوش ہو گا کہ اس کے ووٹ کی طاقت سے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر اسے پانچ سال یا اسمبلی کی غیر طبعی معیاد تک مسلسل نظر انداز کئے رکھنے والے ان عامیوں کا اپنا کیا حشر ہو رہا ہے۔
کیسی دلچسپ فضا بن گئی ہے کہ موجودہ انتخابی عمل میں جہاں کسی کی ہزیمتوں سے اپنی بے پایاں خوشیوں کا اہتمام ہو رہا ہے وہیں جس کا جہاں داﺅ لگتا ہے اپنا اپنا غصہ بھی نکال رہا ہے۔ کسی کو نااہل ٹھہرانے کا اختیار پانے والے اپنی مونچھوں کو تاﺅ دئیے بیٹھے ہیں بڑے آئے تھے پارلیمنٹ کی بالادستی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے، اب بتاﺅ کون بالادست ہے۔ اب اس پارلیمنٹ میں پہنچ پاﺅ گے تو اس کی بالادستی کے راگ الاپو گے۔
یہ تو خواہ مخواہ کے بَیر کی بات ہو گئی جس میں اطمینان قلب کی سہولت اپنے اپنے ظرف کے مطابق حاصل کی جا رہی ہے۔ جن کے ساتھ ذاتی قسم کا بَیر ہو گا انہیں اپنے سابقہ طرز عمل کا احساس ان پر 62، 63 والی نااہلیت کا جال ڈال کر ہی دلایا جا سکتا ہے، سو اس انتخابی عمل نے کسر کوئی نہیں چھوڑی۔ اب سکروٹنی کی تکمیل کے بعد بھی غیر یقینی یقین پر حاوی ہو گئی اور راست قدمی الٹ پھیر کا باعث بن گئی تو پھر جناب سہہ فریقی خوش اسلوبی میں راج کرے گا خالصہ تے آکی رہے نہ کو